شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

پاکستان میں موجود منرل واٹر کے وہ برانڈز جو شہریوں کے لیے نقصان دہ ہیں


اسلام آباد (نیوزڈیسک) : پاکستان میں دیگر غیر معیاری اشیا کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی کمپنیاں بھی ہیں جن کا پانی غیرمعیاری ہے اور شہریوں میں کئی اقسام کی بیماریاں پھیلنے کا موجب بنتا ہے۔ پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ رپورٹ کچھ ایسے منرل واٹر برانڈز سے متعلق بتایا گیا جو شہریوں کے لیے

نقصان دہ ہیں۔ پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) نے تین ماہ یعنی جولائی سے ستمبر تک ان کمپنیوں کے پانی کا معائنہ کیا۔ جس کے بعد گذشتہ روز حتمی نتائج کے ساتھ رپورٹ ترتیب دے دی گئی۔ پاکستان میں موجود وہ منرل واٹر براںڈز جو شہریوں کی صحت کے لیے مضر ہیں ان میں پیور واٹر (Pure Water)، پلس پیاس(Plus Piyaas)،3 اسٹار(3 Star)، ڈورو(Douro)، رئیل پلس(Real Plus)،پیور اٹ(Pure It)،ایلان پلس(Elayn Plus)،کرسٹل مایا(Crystal Maya) اورایکوا سعد (Aqua Saad)شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ جب منرل واٹر کے ان برانڈز کے پانی کا معائنہ کیا گیا تو اس پانی میں مختلف اقسام کے کیمیکلز اور مائیکرو بائیولوجیکل اجزا موجود تھے جنہیں عام آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ بالخصوص پلس پیاس نامی منرل واٹر برانڈ کے پانی میں مضر صحت اجزا پائے گئے۔ ایسےپانی کا استعمال کر کے شہری جلدی بیماریوں، معدے کی بیماریوں، ذیابیطس،دل کی تکلیف اور کئی اقسام کے کینسر سمیت دیگر کئی امراض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے مزید تحقیقات کرنے اور پاکستان میں منرل واٹر کا معیار بہتر کرنے کے

لیے حکومت نے وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ مل کر یہ ٹاسک پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (PCRWR) کو سونپ دیا ہے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس