شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

مکمل پی ایس ایل پاکستان کب لائیں گے ؟ چیئرمین پی سی بی نے قوم کو خوشخبری سنا دی


لاہور(نیوزڈیسک) چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہا ہے کہ 3 سال میں مکمل پی ایس ایل پاکستان لے آئیں گے۔احسان مانی نے کہا کہ آئندہ برس کوئی غیرملکی ٹیم پاکستان آئے گی یا نہیں وہ اس حوالے سے کوئی دعویٰ نہیں کرنا چاہتے البتہ پی ایس ایل کے 8 میچز ہونے ہیں، کراچی فائنل سمیت چار میچز کی میزبانی کرے گا، اتنے ہی مقابلے لاہور میں ہوںگے،

ہمارا ارادہ ہے کہ تین سال میں پوری لیگ ملک میں واپس لے آئیں۔ ایک سوال کے جواب میں احسان مانی کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل آڈٹ پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے اعتراضات پر جواب جمع کرا دیا تھا، اس میں پھر کچھ چیزوں کی وضاحتیں طلب کی گئی ہیں، اس حوالے سے کام ہو رہا ہے، ہم سے معلومات مانگی گئی ہیں جو دیدیں گے، پھر دیکھیں گے کیا ہوتا ہے۔ کرکٹ میں فکسنگ کے بڑھتے ہوئے رحجان پر احسان مانی نے کہا ہے کہ ہماری کرپشن پر زیرو ٹالیرنس کی پالیسی ہے،پلیئرز لاعلمی میں پھنس جاتے ہیں، بورڈ انھیں سمجھا رہا ہے کہ ذرا سا بھی کسی پر شک ہو تو فوراً رپورٹ کریں، اس حوالے سے ہمارا ایجوکیشن سسٹم اچھے انداز میں کام کر رہا ہے۔ بینک گارنٹی جمع نہ کرانےوالی فرنچائزز کے حوالے سوال پر احسان مانی نے کہا کہ مزید 1،2 پی ایس ایل فرنچائزز کی جانب سے بینک گارنٹی جلد جمع کرا دی جائے گی، سب کے بورڈ سے معاہدے ہیں اور انھیں ان پر عمل درآمد کرنا ہوگا، میں واجبات کی ادائیگی نہ کرنے والوں کو مزید ایک موقع دے رہا ہوں، اب بھی اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو سخت ایکشن لیتے ہوئے کسی بھی قسم کی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوں گا۔ پی

سی بی میں چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او ) اور چیف آپریٹنگ آفیسر(سی او او ) کے مابین ٹکراﺅ کے سوال پر احسان مانی بولے کہ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد خاصے تجربہ کار ہیں اور اپنا کام اچھے انداز سے کرتے ہیں، سی ای او کے آنے سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔انھوں نے کہا کہ سی او او روزہ مرہ کے امور چلاتا اور پالیسی بناتا ہے،

اس کا سربراہ چیف ایگزیکٹیو ہوگا، اس وقت چیئرمین ہی پالیسی بناتا اور امور بھی چلا رہا ہے، بورڈ میں کسی کو لاہور سے کراچی بھی جانا پڑے تو چیئرمین سے منظوری لینا پڑتی ہے، میں یہ سسٹم بدلنا چاہتا ہوں۔ چیئرمین بورڈ کا ایک بار پھر سرفراز پر اظہار اعتماد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ ایشیا کپ میں قومی ٹیم کی کارکردگی مایوس کن رہی، مگر ہمیں ایک ایونٹ میں ناکامی پر گھبرانا نہیں چاہیے، ٹیم کی سوچ اور سمت درست ہے، کپتان، کوچ اور سلیکٹرز سب ایک حکمت عملی کے تحت کام کر رہے ہیں۔ سرفراز احمد کو ورلڈکپ تک کپتان مقرر کرنے کے اعلان کے حوالے سے سوال پراحسان مانی کا کہنا تھا کہ سرفراز آج ہمارے کپتان ہیں اور اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہوں گا، مجھے ان پر بھرپور اعتماد ہے، ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ایک سال پہلے سرفراز نے ہی قومی ٹیم کو چیمپئنز ٹرافی میں فتح دلائی تھی۔ چیف سلیکٹر انضمام کی لاہور قلندرز کے ساتھ بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے سوال پر مانی نے کہا کہ میری ان معاملات پر نظر ہے، اجازت دینے جیسے فیصلے میرے آنے سے پہلے ہی ہو گئے تھے، البتہ میں انضمام کے کام سے مطمئن ہوں، ٹیم کی اچھی

کارکردگی میں ان کا بھی کردار اور مجھے ان پراعتماد ہے۔احسان مانی کا کہنا تھا کہ ٹی 10 لیگ پر کچھ تحفظات تھے جس کے بعد تحقیقات شروع کرائی ہیں، جمعے تک رپورٹ مل جائےگی جس کے بعد پلیئرز کو شرکت کی اجازت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ ہوگا،اسی طرح امارات لیگ کے بارے میں بھی بورڈ کی پالیسی کے مطابق کوئی قدم اٹھائیں گے، انھوں نے

کہا کہ جلد ایک میٹنگ ہوگی جس میں لیگز کے حوالے سے بورڈ کی واضح پالیسی تشکیل دیں گے تاکہ بار بار پلیئرز کو این او سی کیلئے نہ آنا پڑے۔ احسان مانی نے کہا ہے کہ میں ڈومیسٹک کرکٹ کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کے خیالات سے متفق ہوں، فرسٹ کلاس کا نظام تبدیل کرنے میں ایک سال لگے گا، اس وقت تعداد زیادہ اور کوالٹی کم ہے، ہم اس حوالے سے کافی کام کر رہے ہیں، مشاورت جاری ہے، ماجد خان اور بازید خان نے بھی تجاویزدی ہیں،ہمیں اپنی ڈومیسٹک کرکٹ کو مضبوط بنانا ہے، اس کےلئے ٹیموں کی تعداد کم کرنا ہوگی۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس