شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

پنجاب پولیس میں اصلاحات کے لیے منتخب کیے جانیوالے ناصر درانی نے اچانک استعفیٰ کیوں دیا؟ کھلاڑیوں کی آنکھیں کھول دینے والے انکشافات


لاہور (ویب ڈیسک ) ناصر درانی کے استعفے کی وجہ کچھ اور نکل آئی۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ناصر دورانی ایماندار اور پروفیشنل آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی کی تعیناتی سے ناخوش تھے۔ناصر دورانی کی تعیناتی سے لے کر اب تک پنجابپولیس میں ایک بھی ریفارم نہ ہوسکی۔اپنی جواب طلبی کے ڈر کی وجہ سے ناصر درانی نے امجد جاوید

سلیمی کی تعیناتی کا بہانہ بنایا۔میڈیا رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ ناصر درانی اور طاہر خان کی تعیناتی کے بعد پنجاب میں مجرموں کے خلاف کوئی بڑا ایکشن نہ ہوا۔ناصر درانی اور طارق خان کی تعیناتی کے دورانپولیس کے رویے میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔دونوں کی تعیناتی کے دوران قبضہ گروپوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کوئی بڑی کارروائی نہ ہو سکی۔بلکہ جرائم کی شرح میں اضافہ ہونے لگ گیا اور شہریوں پر پولیس کی جانب سے تشدد کے واقعات سامنے آئے تھے۔تاہم ایک مہینے کے اندر ناصر درانی پنجاب پولیس کے اندر کوئی ایک بھی ریفارم نہ لا سکے جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے انہیں تبدیل کرنے کا کہا۔زرائع کے مطابق ناصر درانی اپنا استعفیٰ حکومت کو بھجوانے کی بجائے دوستوں کو دکھاتے رہے۔خیال رہے وفاقی حکومت نے گذشتہ روز محمد طاہرکو آئی جیپنجاب کے عہدے سے ہٹا کر امجد جاوید سلیمی کو صوبے کا نیا آئی جی پنجاب پولیس تعینات کیا تھا لیکن لیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئی جی پنجاب کی تبدیلی کا نوٹس لیتے ہوئے نئے آئی جی پنجاب کی تقرری کو روک دیا اور آئی جی پنجاب محمد طاہر خان کوعہدے سے ہٹانے کا نوٹی فکیشن

بھی معطل کردیا ۔الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی انتخابات کے باعث سرکاری ملازمین کے تبادلوں اور تقرریوں پر پابندی عائد ہے۔۔الیکشن کمیشن آئی جی کی تبدیلی کے حکم کو روکنے کا اختیار رکھتا ہے۔ الیکشن کمیشن نےاس معاملے پر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے 2 روز میں جواب بھی طلب کرلیا ہے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس