شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

اقتصادی راہداری منصوبے کی تکمیل۔۔۔وزیراعظم نے عوام کوخوشخبری سنادی


اسلام آباد (آئی این پی‘ اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاک چین دوستی ہر دور کی آزمائش پر پورا اتری، سی پیک کے تحت جاری منصوبے بروقت مکمل کئے جائیں گے، چین کے ساتھ دوستی مزید مضبوط بنانا اور خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے۔ پیر کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم کے

دورہ چین اور سی پیک پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزراءاسد عمر، چوہدری فواد حسین، مخدوم خسروبختیار، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید اور عمر ایوب نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیرمنصوبہ بندی خسروبختیار نے سی پیک منصوبوں پر بریفنگ دی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاک چین دوستی ہر دور کی آزمائش پر پورا اتری، چین کے ساتھ دوستی مزید مضبوط بنانا خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے، دورہ چین سے دونوں ممالک کی دوستی مزید مستحکم ہوگی، سی پیک کے تحت جاری منصوبے بروقت مکمل کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سدابہار پاک چین تعلقات خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر میں چہار جہتی ”کلین اینڈ گرین پاکستان“ مہم کا افتتاح کرتے ہوئے پوری قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے، فضائی و زمینی آلودگی سمیت ہر قسم کی آلودگی کا خاتمہ کیا جائے گا، قومی سطح پر صفائی کی ہمہ گیر تحریک کا باقاعدہ اور عملی آغاز 13 اکتوبر کو ہوگا، پانچویں کلاس تک نصاب میں صفائی اور ماحولیات سے متعلقہ ابواب شامل کریں گے،

تحصیل کی سطح پر صفائی کے انعامی مقابلوں کا اہتمام کیا جائے گا، ملک بھر میں پیٹرول پمپس اور سی این جی سٹیشنوں کے بیت الخلاءکی صفائی کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، کلین اینڈ گرین پاکستان سکاؤٹس کا اندراج کیا جائے گا جو رضاکارانہ طور پر صفائی مہم کی مانیٹرنگ کریں گے اور ان میں سے نوجوانوں کو روزگار بھی دیا جائے گا، پانچ سال میں 10 ارب درخت لگائے جائیں گے، ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف یہ سب سے بڑی مہم ہوگی۔ وہ پیر کو وزیراعظم آفس میں صاف اور سرسبز پاکستان مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان بھی موجود تھے۔ تقریب سے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے بھی خطاب کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر پاکستان کو آگے لے کر چلنا ہے جہاں انصاف، فلاحی ریاست اور میرٹ کی بالادستی تھی، دنیا کے سب سے عظیم رہنما نے بھی صفائی پر خصوصی زور دیتے ہوئے اسے نصف ایمان قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 14 سو

سال قبل رسول پاک نے صفائی اور ماحولیات کی اہمیت کو اجاگر کیا، اس وقت غیر مسلم بھی مسلمانوں کے صفائی پسند ہونے کا اعتراف کرتے تھے، آج بدقسمتی سے الٹا حساب ہوگیا، یورپ جائیں تو وہاں کہیں گندگی نظر نہیں آتی جبکہ پاکستان میں 42 فیصد لوگوں کو بیت الخلاءکی سہولت میسر ہے جبکہ اتنے ہی لوگوں کو سینی ٹیشن کی سہولت میسر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان چار سال میں اس صورتحال پر قابو پاتے ہوئے ہم سے آگے نکل گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ملک میں بدقسمتی سے یہ رجحان ہے کہ پیسے والے لوگ اپنے گھروں کو تو صاف رکھتے ہیں تاہم گھر کے باہر گندگی پر توجہ نہیں دیتے، اسلام آباد نسبتاً صاف ستھرا شہر تھا تاہم یہاں پر کچی آبادیوں میں گندگی کے ڈھیر ہیں، 20 سال قبل مارگلہ کی پہاڑیوں سے آنے والے چشمے صاف ستھرے تھے تاہم اب کورنگ نالے میں بھی سیوریج کا پانی شامل ہو چکا ہے جبکہ دریائے راوی میں موسم سرما میں صرف سیوریج کا پانی ہوتا ہے، لاہور بھی صاف ستھرا شہر تھا تاہم اب وہاں پر نومبر میں سموگ کا مسئلہ بڑھتا جا رہا ہے جو دنیا کی خطرناک سطح سے اوپر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے

کہ صاف اور سرسبز پاکستان مہم میں پورے ملک کو شامل کرنا ہے، حکومت اکیلے یہ کام نہیں کرسکتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس کی بہت بڑی قیمت ادا کرتا ہے، ہزاروں بچے اس کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں، گندے پانی کی وجہ سے ہیپاٹائٹس بعض علاقوں میں وباءکی شکل اختیار کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگاپور میں بھی 10 سال قبل دریا کی صورتحال پاکستان جیسی تھی تاہم انہوں نے اس پر قابو پایا اور آج اس دریا میں پانی اتنا شفاف ہے کہ تیرتی مچھلیاں دکھائی دیتی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم جو مہم شروع کرنے جا رہے ہیں اس میں ہوا، دریا، گندگی، فضلہ سمیت تمام پہلوؤں پر قابو پائیں گے، کوڑا کرکٹ سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ شروع کرنے جا رہے ہیں، گندے پانی کو ری سائیکل کر کے اپنی فصلوں کو سیراب کیا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ مہم پانچ سال پر محیط ہو گی جس کے چار پہلو ہیں، اس میں سب سے پہلے ہم نے عوام کا ذہن تبدیل کرنا ہے، لوگ ہم سے سوال کرتے ہیں کہ نیا پاکستان کیوں نہیں بن رہا، نیا پاکستان تب بنے گا جب نئی سوچ آئے گی، ہر چیز میں پہلے ذہن میں تبدیلی آتی ہے، ہم نے پہلے عوام کو اس حوالہ سے آگاہ

کرنا ہے، بچوں کے نصاب میں صفائی اور ماحولیات کے بارے میں پانچویں تک مضامین شامل کریں گے، اسلام آباد میں نصاب میں یہ مضامین شامل کئے جا رہے ہیں، ہم نے اپنے بچوں کو تیار کرنا ہے جس طرح یورپ سمیت دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ابتداءسے ہی بچوں کی تربیت کی جاتی ہے، انہیں بتایا جاتا ہے کہ صفائی کتنی اہم ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک بھر میں کوڑا کرکٹ جمع کرنے کیلئے جگہیں مختص کی جائیں گی جہاں سے اسے ٹھکانے لگایا جائے گا، اس کوڑا کرکٹ کو استعمال میں لا کر بجلی پیدا کی جائے گی جس سے چھوٹے پیمانے پر بجلی کی ضرورت بھی پوری ہو سکے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پانچ سال منصوبے کا دوسرا پہلو یہ ہو گا کہ اس کی مانیٹرنگ کی جائے گی، اس کیلئے رضاکاروں کی ٹیم بنائی جائے گی، حکومتی سطح پر تحصیلوں کے درمیان صفائی مقابلے ہوں گے، جن تحصیلوں میں صفائی زیادہ ہو گی انہیں کیش انعام جبکہ جو صفائی میں پیچھے رہ جائیں گے وہاں کے ذمہ داران کو سزائیں دی جائیں گی اس طرح سزا اور جزا کا تصور متعارف کرایا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 13 اکتوبر کو اس مہم کا باقاعدہ آغاز کر رہے ہیں، پورے

ملک میں یہ تحریک شروع کریں گے، صدر مملکت، گورنرز، وزراءاعلیٰ، وفاقی و صوبائی وزرائ، سول سوسائٹی، میڈیا، طالب علموں سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے لوگوں کو اس میں شامل کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس مہم میں عوام کی شرکت بذریعہ واٹس ایپ بھی ہوگی، اس مقصد کیلئے مخصوص نمبر دیئے جائیں گے، جہاں کہیں بھی شہریوں کو گندگی نظر آئے وہ اس کی تصویر لے کر ان نمبروں پر واٹس ایپ کر کے اس مہم میں شامل ہوسکیں گے، حکومت اس میں مکمل ساتھ کھڑی ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس مہم کا تیسرا پہلو یہ ہوگا کہ نوجوان رضاکاروں کو اس مہم کے ایڈووکیٹس بنائیں گے جو گندگی کے بارے میں گھر گھر مہم چلائیں گے جبکہ اس حوالہ سے میڈیا، شوبز اور کھلاڑیوں سے سفیر بنائے جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ تمام علماءکرام سے استدعا کریں گے کہ وہ نبی اکرم کے صفائی کے حوالہ سے فرمودات اور صفائی کی اہمیت اجاگر کرنے کیلئے جمعہ کے خطبات میں عوام کو آگاہ کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں اس وقت بیت الخلاءکی کمی ہے، ہم اس کو وسعت دیں گے، 2023ءتک ملک بھر سے بیت الخلاءکی کمی دور کریں گے،

پاکستان میں سیاحتی علاقوں میں سیاحت کم ہونے کی ایک وجہ بیت الخلاءنہ ہونا بھی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک بھر میں پٹرول پمپس اور سی این جی سٹیشنوں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ اپنے بیت الخلاءصاف رکھیں، ہر بیت الخلاءکے باہر ایک واٹس ایپ نمبر درج ہوگا جس پر صفائی نہ ہونے کی شکایت کی جاسکے گی، ان کو صاف رکھنا ان کی ذمہ داری ہوگی۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس مہم کا چوتھا پہلو کلین اینڈ گرین پاکستان سکاؤٹس کی رجسٹریشن ہوگی، اس کیلئے ایک ویب سائٹ دی جائے گی جس پر رجسٹریشن کی جا سکے گی، ان کا کام صفائی کی مانیٹرنگ ہوگا جبکہ صفائی مانیٹر کرنے کیلئے ان میں سے نوجوانوں کو روزگار بھی دیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گرین پاکستان مہم کے تحت ملک بھر میں پانچ سال میں 10 ارب درخت لگائے جائیں گے، ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف یہ سب سے بڑی مہم ہوگی، درخت آلودگی کو جذب کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے اس موقع پر میڈیا، اینکرز اور شوبز سے وابستہ شخصیات سے بالخصوص استدعا کی کہ وہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ ہمارا مستقبل محفوظ ہو اور ہمارے بچے اپنے ملک پر فخر کر سکیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ جتنے خوبصورت علاقے پاکستان میں ہیں ہم نے اس کی قدر نہیں کی، ہم نے درخت کاٹے، دریاؤں کو آلودہ کر دیا ہے ان کو بھی صاف کرنا ہے، مانیٹرنگ کا نظام بنانا ہے، پوری قوم نے اس میں شرکت کرنی ہے، یہ مہم ہمارے مستقبل کیلئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آبادی 21 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، صفائی ستھرائی پر خصوصی توجہ مرکوز کرنا ہو گی۔اس موقع پر وزیراعظم نے مہم کے حوالہ سے صحافیوں کے سوالات کے جواب بھی دیئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صفائی کی مہم پاکستان کے مستقبل سے تعلق رکھتی ہے، مطلوبہ اہداف کے حصول کیلئے اس مہم میں پوری قوم کی شمولیت اشد ضروری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ سسٹم کے حوالہ سے قوانین کا بھرپور جائزہ لینے کے بعد نیا نظام لے کر آ رہے ہیں جو پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان میں متعارف کرایا جائے گا اور سندھ کو اس ضمن میں تجویز دی جائے گی، اس نظام میں ویلج کونسل کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ مقامی سطح پر لوگوں کے مسائل حل ہوں اور صفائی کے حوالہ سے بھی یہ فورم بہترین طور پر بروئے کار آ سکتا ہے۔

وزیراعظم نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے گذشتہ اجلاس میں قومی سطح پر صفائی مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا اور اس ضمن میں صوبوں کو اعتماد میں لیا گیا۔ پلاسٹک بیگز کے استعمال کے حوالہ سے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پلاسٹک بیگز کا مواد تحلیل نہیں ہوتا لہٰذا یہ آلودگی کا باعث بنتا ہے اور اس پر پابندی کے حوالہ سے اقدامات اٹھائیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس مہم کے تمام اخراجات اور وسائل و سہولیات وفاق مہیا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ صفائی کے حوالہ سے اگر لوگوں کے ذہن تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ہم اس جدوجہد میں سرخرو ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ زیر زمین آلودگی کی ایک وجہ فیکٹریوں کا بغیر ٹریٹمنٹ کے فضلہ ہے، اس کے علاوہ دریاؤں میں گندا پانی پھینکنے کی روک تھام کرنا ضروری ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کلین اینڈ گرین پاکستان مہم کیلئے لوگوں کے رویوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور اس مہم میں تمام وزارتوں، محکموں کو ساتھ لے کر چلیں گے، اس مہم کیلئے نوجوان

رضاکاروں کی فورس تیار کی جائے گی اور ان کو اس ضمن میں ایمبیسڈر بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم میں ٹری پلانٹیشن، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، لیکویڈ ویسٹ مینجمنٹ، ٹوائلٹ کی صفائی، پینے کا صاف پانی شامل ہے اور اس ضمن میں صوبوں کو ساتھ لے کر چلیں گے اور پوری قوم کی شرکت کے ذریعے اس مہم کو کامیاب بنائیں گے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس