شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

جدہ:سعودی یونیورسٹیوں نے مقامی باشندوں کو لیکچرار بھرتی کرنے سے نہ کر دی


جدہ(نیوزڈیسک) کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ سعودی افراد نے گِلہ کیا ہے کہ مملکت میں موجود سرکاری یونیورسٹیاں اُنہیں لیکچرار کے طور پر بھرتی کرنے کو تیار نہیں ہیں‘ حتیٰ کہ کچھ سعودی افراد اپنے متعلقہ شعبوں میں ڈاکٹریٹ کی ڈگریوں کے حامل ہیں‘ مگر یونیورسٹیاں انہیں غیر مُلکیوں کے مقابلے میں ’نالائق‘ تصور کرتی ہیں۔ بے روزگار سعودی ٹیچرز کا کہنا

ہے کہ ابہا میں واقع شاہ خالد یونیورسٹی نے مقامی افراد کے لیے لیکچرر شپ کا حصول انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ جب بھی وہ لوگ جاب کے لیے اپلائی کرتے ہیں تو ایسی کڑی شرائط عائد کی جاتی ہیں جن کے باعث نوکری ملنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس یونیورسٹی نے تیسری دُنیا سے تعلق رکھنے والے لیکچرار بھاری تنخواہوں پر بھرتی کر رکھے ہیں۔ جبکہ دُوسری جانب شاہ خالد یونیورسٹی کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی جانب سے اسامیوں پر بھرتی کے لیے اخبارات میں پانچ بار اشتہار دینے کے باوجود جب تعلیمی قابلیت کے مطلوبہ معیار پر کوئی سعودی نہ اُتر پایا تو پھر مجبوراً غیر مُلکی ٹیچنگ سٹاف کو بھرتی کرنا پڑا۔ اس کے جواب میں اعلیٰ تعلیم یافتہ سعودیوں کے گروپ کے ترجمان ڈاکٹر خالد الحربی نے یونیورسٹی عہدیدار کو چیلنج کیا کہ اگر واقعی اخبارات میں بھرتی کے حوالے سے اشتہارات دیئے گئے تھے تو ان کے شائع ہونے کی تاریخیں ظاہر کی جائیں۔ نیز یونیورسٹی یہ بھی بتائے کہ اس کے ٹیچنگ سٹاف میں تھیوریٹکل اور سائنٹفک مضامین پڑھانے والوں میں سعودیوں کی تعداد کتنی ہے۔ ڈاکٹر خالد الحربی نے اس بات پر زور دیا کہ

سعودی یونیورسٹیاں لیکچرار کے عہدوں پر بھرتی کرتے وقت اعلیٰ تعلیم یافتہ سعودیوں کو ترجیح دیں۔ یونیورسٹی کی جانب سے مقامی افراد کی درخواستیں رد کیے جانے کے خلاف کنٹرول اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ میں شکایت درج کرا دی گئی ہے۔ شاہ سعود یونیورسٹی سے تین سال قبل ایجوکیشن مینجمنٹ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والے ڈاکٹر عیید السُلامی نے کہا کہ وہ اپنی تعلیمی قابلیت کی بنا ء پرطویل عرصے سے مملکت کی کسی سرکاری یونیورسٹی میں بھرتی کیے جانے کے منتظر ہیں‘ مگر ابھی تک ناکامی کا سامنا ہے۔ سعودی یونیورسٹیوں کے اس برتاؤ سے ایک ہی بات ثابت ہوتی ہے کہ مقامی باشندوں کے لیے ان میں داخلے کے دروازے بند ہیں۔ اُن کے علاوہ ڈاکٹریٹ کی ڈگریوں کے حامل کئی اور افراد بھی اس رویئے کی شکایت کرتے نظر آ رہے ہیں۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس