شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

تنخواہ دار طبقے کو دی گئی رعایت ختم۔۔سپر ٹیکس نافذ۔۔حکومت نے انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترامیم کر دیں


اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے فنانس ایکٹ 2018 کے انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترامیم کر دی ہیں، وفاقی حکومت کی جانب سے فنانس ایکٹ آرڈیننس 2018 میں ترمیم کے ذریعے تنخواہ دار طبقے کے لیے دی گئی رعایت کم کردی گئی ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے سپر ٹیکس بھی نافذ کردیا گیا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق

آرڈیننس 2018 میں کی گئی ترامیم کا اطلاق فوری طور پر ہو گا۔تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے گزشتہ حکومت کا پیش کردہ فنانس بل 19-2018 میں ترمیم کر کے نیا بجٹ لانے کا فیصلہ کیا ہے وفاقی حکومت کی جانب سے فنانس ایکٹ آرڈیننس 2018 میں ترمیم کے ذریعے تنخواہ دار طبقے کے لیے دی گئی رعایت کم کردی گئی چار لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں ہو گا،8 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ایک ہزار روپے ٹیکس ہو گاآٹھ لاکھ روپے سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 2 ہزار روپے ٹیکس ہو گا لاکھ روپے سے 24 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 5 فیصد انکم ٹیکس لگایا 24لاکھ روپے سے 48 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 60 ہزار روپے ٹیکس ہو گاجائیگا 24لاکھ روپے سے 48 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 60 ہزار روپے ٹیکس ہو گا نئے ٹیکس آرڈینس کے مطابق چوبیس لاکھ سے زیادہ اور 48 لاکھ روپے سیکم رقم پر10 فیصد اضافی ٹیکس ادا کرنا ہوگااڑتالیس لاکھ روپے سے زیادہ سالانہ آمدن پر 3 لاکھ فکسڈ کے علاوہ اضافی 15 فیصد ٹیکس ہوگاایسوسی ایشن آف پرسنز کی 4 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن 4 فیصد ٹیکس

ہو گاایسوسی ایشن آف پرسنز کی 12 لاکھ سے 24 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 40 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس ہو گاایسوسی ایشن آف پرسنز کی 12 لاکھ سے 24 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 10 فیصد اضافی ٹیکس ہو گا۔ایسوسی ایشن آف پرسنز کی 24 لاکھ سے 36 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر1 لاکھ 60 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس ہو گا۔ایسوسی ایشن آف پرسنز کی 24 لاکھ سے 36 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 15 فیصد اضافی ٹیکس عائد ہو گا۔ایسوسی ایشن آف پرسنز کی 36 لاکھ روپے سے 48 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 3 لاکھ 40 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس ہو گا۔ایسوسی ایشن آف پرسنز کی 36 لاکھ روپے سے 48 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 20 فیصد اضافی ٹیکس ہو گا۔ایسوسی ایشن آف پرسنز کی 48 لاکھ سے 60 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 25 فیصد اضافی ٹیکس ہو گاایسوسی ایشن آف پرسنز کی 60 لاکھ روپے سے زیادہ سالانہ آمدن پر 8 لاکھ 80 روپے فکسڈ ٹیکس ہو گا 60 لاکھ روپے سے زیادہ سالانہ آمدن پر 30 فیصد اضافی ٹیکس ہو گابینک کے سوا کمپنیز کی آمدن پر ٹیکس کی

شرح 29 فیصد ہو گی،کمپنیز کی آمدن پر ہر سال ٹیکس کی شرح میں ایک فیصد کمی ہو گی۔
2023 اور اس کے بعد کمپنیز پر ٹیکس کی شرح 25 فیصد رہیگی چھوٹی کمپنیوں کی آمدن پر ٹیکس کی شرح 24 فیصد سالانہ ہو گی چھوٹی کمپنیوں کی آمدن پر ہرسال ٹیکس کی شرح میں ایک فیصد کمی ہوگی چھوٹی کمپنیوں کی آمدن پر 2023 کے بعد ٹیکس کی شرح 20 فیصد ہو جائے گی۔ ایف بی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق آرڈیننس 2018 میں کی گئی ترامیم کا اطلاق فوری طور سے ہو گا ماہ ستمبر کی تنخواہوں سے نئے ٹیکس ریٹ کے مطابق ٹیکس کٹوتی ہوگی حکومت نے سپر ٹیکس کو بھی دوبارہ نافذ کردیا ہے جس کی شرح تین فیصد ہوگی سپر ٹیکس کو ہرسال ایک فیصد کم کرکے 2021میں ختم کردیا جائیگا جبکہ چھوٹی انڈسٹری کا ٹیکس پانچ سال میں 29 فیصد سے کم کرکی25 فیصد تک کیا جائیگا۔شاہد عباس





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس