شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

فنانس ایکٹ2018ء کے انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترامیم


اسلام آباد(نیوزڈیسک) وفاقی حکومت نے فنانس ایکٹ2018ء کے انکم ٹیکس آرڈیننس میں چند ترامیم کردیں،جس کے تحت حکومت نے تنخواہ دارطبقے کو دی گئی رعایت کم کردی ہے،چارلاکھ روپے تک سالانہ آمدن پرٹیکس چھوٹ ہوگی، جبکہ4 لاکھ سے8 لاکھ پرایک ہزار،اور48 لاکھ سے زیادہ آمدن پر3 لاکھ فکسڈ ٹیکس اوراضافی 15 فیصد دینا ہوگا۔ میڈیا

رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے فنانس ایکٹ 2018ء کے انکم ٹیکس آرڈیننس میں بعض ترامیم کردی ہیں۔ حکومت کی جانب سے کی جانے والی ترامیم کا اثر تنخواہ دار طبقے پر پڑے گا۔ ترامیم سے تنخواہ دارطبقے کیلئے دی گئی رعایت کم کردی گئی ہیں۔ حکومتی ترامیم کے مطابق چارلاکھ روپے تک سالانہ آمدن پرکوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔ 4 لاکھ سے 8 لاکھ روپے سالانہ آمدن پرایک ہزارروپے ٹیکس ہوگا۔ جبکہ 8لاکھ روپے سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر2 ہزار روپے ٹیکس ہوگا۔ اسی طرح 12لاکھ روپے سے 24 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر5 فیصد انکم ٹیکس ہوگا۔ 24 لاکھ سے زیادہ اور48 لاکھ روپے سے کم رقم پر10فیصد اضافی ٹیکس دینا ہوگا۔ اسی طرح ایسے افراد جن کی آمدن 48 لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔ ان کو سالانہ آمدن پر3 لاکھ فکسڈ ٹیکس اوراضافی 15 فیصد دینا ہوگا۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعت پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئے منی بجٹ سیعوام کو ریلیف دیں گیا ور امید ہے کہ نئے منی بجٹ میں عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ سید خورشید شاہ نے کہا کہ ملک میں تین ڈیم بن جائیں تو پاکستان

کی معاشی صورتحال بہتر ہو جائے گی، ڈیموں کے لیے پی ایس ڈی پی میں سے پیسے رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیموں سے لوگوں کو سستی بجلی ملے گی اور زرعی صورتحال بہتر ہو گی۔انہوں نے کہا کہ ڈیم کی ابھی لاگت16 سو ارب روپے ہے،صرف چندے یا مدد سے ڈیم نہیں بن سکتا۔ اگر حکومت سنجیدہ ہے تو ڈیم کے لیے پی ایس ڈی پی میں بجٹ رکھے۔اس کے علاوہ خورشید شاہ نے کہا کہ سی پیک ایک سال پیچھے گیا تو وہ منصوبہ ختم ہو جائے گااور اگرسی پیک کو بریک لگانے کی کوشش کی گئی تو پیپلز پارٹی بھرپور مخالفت کرے گی۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس