شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

متحدہ عرب امارات: 2018ء کے دوران ملازمتوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ


مختلف شعبوں میں ملازمتوں کے لیے آن لائن بھرتی 14 فیصد تک پہنچ گئی

متحدہ عرب امارات: 2018ء کے دوران ملازمتوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ
دُبئی سال 2018ء کے پہلے چھے ماہ کے دوران متحدہ عرب امارات میں ملازمتوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ صنعت کاروں اور معاشی ماہرین پُراُمید ہیں کہ ملازمتوں میں اضافے کا یہ رحجان اگلے چھے ماہ کے علاوہ 2019ء میں بھی جاری رہے گا۔ ماہرین کے مطابق اہم معاشی شعبوں میں ملازمتوں میں اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مُلک کی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے بلکہ اس کے ساتھ متحدہ امارات کو تجارت اور کاروبار کا عالمی مرکز بنانے کے لیے کی جانے والی کوششیں بھی ثمر آور ثابت ہو رہی ہیں۔
برجیل جیوجِت کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر‘ کرشنن راما چندرن کا کہنا ہے ’’امارات میں معاشی نمو حوصلہ افزا ہے۔ اُمید ہے کہ اگلے چند سالوں میں معیشت کی GDP کی شرح 3.5 سے 4 فیصد تک پہنچ جائے گی۔
تجارتی اور صنعتی سیکٹر مُلکی معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا کیونکہ ان شعبوں میں ترقی کے باعث ہی ملازمتوں میں خاصا اضافہ ہو رہا ہے۔حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں کے لیے سہولتوں میں اضافے کے باعث امارات کی کاروباری دُنیا وسعت اختیار کر رہی ہے‘ جس کے باعث مزید ماہر اور پیشہ ورانہ ملازموں کی ضرورت پیدا ہو گئی ہے۔

اس کے علاوہ دُبئی میں ایکسپو 2020ء کے انعقاد کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری جاری ہے۔ ‘‘ مانسٹر ایمپلائمنٹ انڈیکس (MEI) کے مطابق 2018ء کی پہلی ششماہی کے دوران متحدہ عرب امارات میں 14 فیصد نئی ملازمتیں قائم ہوئیں۔ متحدہ عرب امارات کے حکام یُو اے ای ویژن 2021 کے تحت معیشت کو بے پناہ ترقی دینے کے پروگرام پر گامزن ہیں جس کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
زیادہ تر ملازمین سافٹ ویئرز‘ ہارڈ ویئر اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں تخلیق کی گئی ہیں۔ ایک معاشی ماہر علی شبدار کے مطابق 2018ء کے دوران علاقائی اور عالمی مسائل اور بحرانوں کے باوجود متحدہ عرب امارات کی جاب مارکیٹ کا مستحکم رہنا بڑی کامیابی ہے۔ خصوصاً یہاں پر ٹیکنالوجی سے متعلق ملازمتوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران بحرین میں ملازمتوں میں 16 فیصد کا اضافہ ہوا ہے‘ جبکہ خلیجی ممالک کی جانب سے قطر کے بائیکاٹ کے باعث یہاں پر ملازمتوں کی تعداد میں چھ فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس