شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

اراکین اسمبلی اور کارکنوں نے نواز شریف کیساتھ بے وفائی کردی احتساب عدالت میں پیش کے وقت نوازشریف کیساتھ کیاکچھ ہوگیا


اسلام آباد (ویب ڈیسک) گذشتہ روز العزیزیہ فلیگ شپ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف احتساب عدالت کے سامنے پیش ہوئے لیکن احتساب عدالت کے باہر نہ تو لیگی کارکنان کی بڑی تعداد دیکھنے میں آئی نہ ہی کسی رُکن اسمبلی نے اپنا چہرہ دکھایا۔ احتساب عدالت کے باہر یا قومی اسمبلی میں نوازشریف کے حق میں نعرے نہ لگانے پر اڈیالہ جیل میں قید

سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کا جیل سے سخت پیغام ملنے پرن لیگ کی قیادت پریشانی میں مبتلا ہو گئی۔ پیغام میں قیادت کو جھاڑ پلاتے ہوئے کہا گیا کہ اگر آپ کچھ نہیں کرسکتے، اب سب کچھ ہم جیل میں بیٹھ کر خود کریں گے آج اگر نوازشریف کا نعرہ اسمبلی میں نہیں لگ سکتا اور پیشی پر چند کارکنوں اور پرویز رشید کے سوا اگر کوئی نہیں پہنچ سکتا تو اس کا مطلب ہے یہ سب کسی اور کے لیے ہو رہا ہے۔پیغام میں کہا گیا کہ کس نے کارکنوں کو یہاں آنے سے روکا اورکس نے کارکنوں کو احتساب عدالت نہ آنے کی کال دی، اس پر ضرور سخت کارروائی کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق ن لیگ نے فیصلہ کیا تھا کہ نومنتخب ارکان کی حلف برداری کے موقع پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اجلاس میں جایا جائے گا اور نواز شریف کی حمایت میں نعرے بازی بھی کی جائے گی۔ اس حوالے سے فرد اً فرداً ن لیگ کے ارکان کو پیغام بھی پہنچایا گیا تھا ۔غیر ملکی میڈیا بالخصوص بھارتی میڈیا میں بھی بتایا گیا تھا کہ پارلیمنٹ کے اندر آج نواز شریف کے حق میں زبردست نعرے بازی ہوگی لیکن جب شہباز

شریف اور نومنتخب ارکان پارلیمنٹ میں آئے تو پارلیمنٹ کے باہر میڈیا ٹاک سے لے کر پارلیمنٹ کے اندر اور گیلریوں میں سے کسی بھی جگہ نواز شریف کا نام تک نہیں لیاگیا۔جب شہباز شریف رجسٹر پر دستخط کرنے کے لیے گئے تو اس وقت بھی صرف شیر شیر کے نعرے لگائے گئے اورنوازشریف کا نام نہیں لیا گیا۔ن لیگی ذرائع کے مطابق نواز شریف اس پر سخت ناراض ہیں اور انہوں نے اس ضمن میں آئندہ ملاقات پر اپنے خاص ترین ساتھیوں کو بُلوایا ہے تاکہ ان کے ذریعے نواز شریف کے بیانیے اور تحریک کو آگے چلایا جائے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے بیانیے میں نمایاں فرق ہے ، نواز شریف جارحانہ پالیسی اپنائے ہوئے ہیں جبکہ شہباز شریف دھیمہ لہجا رکھتے ہیں اور مفاہمت پر یقین رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن میں نواز شریف اور شہباز شریف کے حامی الگ الگ گروپس ہیں، ایک وہ جو نواز شریف کے بیانیے کی حمایت کرتے ہیں اور ایک وہ جو شہباز شریف کے ساتھ ہیں۔کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے جمعرات کو ملاقات کے دن اپنے قریبی ساتھیوں کو بُلا کر انہیں ٹاسک دینے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے جس کے بعد نواز شریف کے بیانیے اور ان کی تحریک کو مزید بڑھانے پر عملی اقدامات کیے جائیں گے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس