شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

اپوزیشن کااتحادخاتمے کے قریب وزیراعظم کی حلف برداری تقریب کے بعد اپوزیشن کے پاس کوئی جواز نہیں رہے گا،کیونکہ۔۔۔


اسلام آباد (ویب ڈیسک) عام انتخابات 2018ء کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی نمایاں کامیابی کے بعد سیاسی جماعتوں نے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف اپوزیشن اتحاد تشکیل دیتے ہوئے انتخابات کو مسترد کیا تھا اور موقف اختیار کیا تھا کہ انتخابات میں ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے لہٰذا ہم ان انتخابات کو نہیں مانتے۔آج صبح اسپیکر ایاز صادق کی

زیر صدارت قومی اسمبلی کا 15 واں اجلاس ہوا جس میں ارکان اسمبلی نے حلف لیا۔ ارکان اسمبلی کی حلف برداری کے بعد 15 اگست کو اسپیکراور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے انتخاب ہو گا جس کے بعد وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے گا۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کے انتخاب کے بعد اپوزیشن اتحاد ختم ہونے کا امکان ہے کیونکہ وزیر اعظم کی حلف برداری کی تقریب کے بعد اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں کے پاس احتجاج کا کوئی جواز نہیں ہو گا۔اپوزیشن اتحاد میں پہلے سے ہی کئی اختلافات پیدا ہو چکے ہیں،اپوزیشن اتحاد میں شامل بعض سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کی گئی جس سے اس اپوزیشن اتحاد کو کافی نقصان پہنچا۔ ایک رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اپوزیشن اتحاد کے اسی آپسی اختلافات کی وجہ سے الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج میں شرکت کرنے نہیں آئے ۔سابق صدر آصف علی زرداری اپوزیشن اتحاد کا حصہ تو ہیں لیکن شہباز شریف کے انہیں سڑکوں پر گھسیٹنے والے الفاظ نہیں بھولتے۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی

جانب سے اپوزیشن اتحاد کے متوقع وزیر اعظم کے اُمیدوار شہباز شریف کو ووٹ نہ دینے سے اپوزیشن اتحاد باقاعدہ ختم ہوجائے گا۔ اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقاتوں کا بظاہر تو سلسلہ جاری ہے لیکن ماضی میں ایک دوسرے پر لگائے جانے والے الزامات اور ایک دوسرے پر کی جانے والی تنقید کی وجہ سے دل صاف نہیں ہے۔کیونکہ اگر آصف علی زرداری شہباز شریف کو ووٹ دیتے ہیں تو اس کا مطلب ہوگا کہ شہباز شریف کا بیانیہ درست تھا جو ان کے اپنے موقف کی نفی ہے۔ اگرچہ اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ حکومت کے خلاف متفقہ حکمت عملی اختیار کی جائے گی ، اپوزیشن رہنماؤں نے اجلاسوں میں اس بات پر اتفاق کیا کہ اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے لئے متفقہ اُمیدوار سامنے لائیں گے بظاہر تو اپوزیشن کا اتحاد قائم ہے لیکن ابھی بھی اپوزیشن اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتوں میں اختلافات موجود ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ اپوزیشن اتحاد کے مختلف اجلاسوں میں پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف شریک ہوتے رہے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری نے شرکت نہیں بلکہ اپنے نمائندے ان اجلاسوں میں بھیجے۔ اجلاسوں میں عدم شرکت کے علاوہ شہباز شریف اور آصف علی زرداری کا براہ راست رابطہ نہیں ہوا، جس سے ان کے درمیان شکوک وشبہات پیدا ہوئے۔ذرائع نے بتایا کہ شہباز شریف کے بعض قریبی ساتھیوں نے بھی انہیں مشورہ دیا کہ سابق صدر اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں شرکت نہیں کرتے اس لئے انہیں بھی اسلام آباد میں ہونے والے اپوزیشن اتحاد کے احتجاج میں شرکت نہیں کرنی چاہئیے۔ اس مشورے کے بعد انہوں نے احتجاجی مظاہرے میں شرکت نہیں کی، اپوزیشن اتحاد کی جانب سے وزیر اعظم کے متوقع اُمیدوار شہباز شریف ہوسکتے ہیں ان حالات میں یہ بھی واضح نہیں کہ کیا سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو انہیں ووٹ دیں گے ، ووٹ نہ دینے کی صورت میں اتحاد ختم ہوجائے گا ،جبکہ ووٹ دینے کی صورت میں وہ قوم کا کیسے سامنا کریں گے جب انہیں کرپشن کنگ قرار دے کر پاکستان کی سڑکوں پر گھسیٹنے کا اعلان کیا جاتا ر ہا یہ بھی ممکن ہے کہ اس صورت حال سے بچنے کے لئے ہوسکتا ہے کہ آصف علی زرداری اجلاس میں شرکت ہی نہ کریں تو اس طرح مصنوعی اتحاد کچھ عرصہ مزید قائم رہ سکتا ہے ۔دوسری جانب یہ بھی خیال کیا جارہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اسیپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے مسلم لیگ ن کا استعمال کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے ، پیپلز پارٹی ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کو اعتماد میں لے کر اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے لیےووٹ حاصل کریں گے ، جبکہ شہباز شریف کو بھی وزیر اعظم کا اُمیدوار نامزد کرکے انہیں ووٹ دیا جائے گا ، لیکن چونکہ شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کے امکانات کم ہیں، لہٰذا پیپلز پارٹی اس معاملے پر خاموش ہے۔پیپلز پارٹی کا ارادہ ہے کہ اپنا اسپیکر منتخب کروانے کے بعد اپوزیشن لیڈر بھی پیپلز پارٹی کا ہی کوئی سیاسی رہنما لانے پر غور کیا جائے گا ، مزید یہ کہ پیپلز پارٹی نے اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے بیانیے کی حمایت کرنے سے بھی صاف انکار کر رکھا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ قومی اسمبلی میں نواز شریف کو ہونے والی سزا سے متعلق بھی مسلم لیگ ن کے موقف کی تائید نہیں کی جائے گی اور نہ ہی اس معاملے میں مسلم لیگ ن کا ساتھ دیا جائے گا۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس