شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

تحریک انصاف نے اپنی نامور خاتون سیاستدان زرتاج گل کو کونسا بڑا عہدہ دینے کا فیصلہ کرلیا ؟ جانیے


راولپنڈی(ویب ڈیسک) تحریک انصاف نے عمران اسماعیل کو گورنر سندھ بنانے کا فیصلہ کر لیا۔جبکہ سپیکر قومی اسمبلی کے لیے شاہ محمود، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے لیے زرتاج گل اور شہریار آفریدی کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم شاہ محمود یہ منصب نہیں لینا چاہتے۔دوسری جانب تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی نے عمران خان کو وزیراعظم کا

باضابطہ امیدوار نامزد کردیا۔عام انتخابات میں واضح اکثریت کے بعد تحریک انصاف وفاق میں حکومت سازی کے لیے مصروف ہے اور اس سلسلے میں اسے آزاد امیدواروں سمیت ایم کیوایم اور (ق) لیگ کی حمایت بھی مل چکی ہے۔اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی زیرصدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس کے آغاز پر پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے پہلے الیکشن میں کامیابی پر پارٹی رہنماؤں کو مبارکباد دی۔شاہ محمود قریشی نے عمران خان کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کرنے کی تحریک پیش کی جسے منظور کرتے ہوئے انہیں وزیراعظم کا امیدوار نامزد کیا گیا۔عمران خان کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد ہونے کے بعد پارلیمانی پارٹی کے تمام اراکین نے کھڑے ہوکر تالیاں بجائیں اور پارٹی چیئرمین کو مبارکباد دی۔اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جس جماعت کے مستقبل کے بارے میں لوگ کچھ عرصے پہلے سوالیہ نشان اٹھاتے تھے آج وہ سب سے بڑی جماعت ثابت ہوئی ہے، پی ٹی آئی حقیقتاً ایک وفاقی جماعت بن کر ابھری ہے، یہ واحد جماعت ہے جس کی

نمائندگی چاروں صوبوں میں ہے۔انہوں نے کہا کہ آزاد ارکان پی پی اور (ن) لیگ میں جاسکتے تھے لیکن جس نے جہاں بھی تحریک انصاف کو ترجیح دی آج پارٹی ان کا خیرمقدم اور شکریہ ادا کرتی ہے، ان کی موجودگی سے اکثریت میں اضافہ ہواہے، آج عددی لحاظ سے اتنی تعداد حاصل کرچکے کہ مرکز میں حکومت بنانے کے قابل ہوگئے ہیں۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج عمران خان کو پارلیمانی لیڈر منتخب کیا گیا ہے، وہ مران ہمارے وزیراعظم کے امیدوار ہیں۔پی ٹی آئی رہنما نے بتایا کہ عمران خان نے کہا کہ آئندہ آنے والے دنوں میں چیلنجز ہیں اس پر عمران خان نے پارٹی کو اعتمادمیں لیا اور قوم کی توقعات بتائیں۔شاہ محمود کے مطابق عمران خان نے کہاکہ یہ ووٹ روایتی سیاست کا نہیں، یہ تبدیلی کا ووٹ ملا ہے، لوگ توقع کررہے ہیں کہ آپ کا طریقہ کار مختلف ہوگا اور ہم کوشش کررہے ہیں کہ مختلف طریقہ کار ثابت کریں، پارٹی سے توقع ہے کہ ان چیلنجز میں یکسوئی اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔انہوں نے بتایاکہ عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج عام تاثر ہے کہ مختلف دھڑے ایک ہوگئے جس سے مختلف اپوزیشن اکٹھی ہوگئی ہے لیکن ان کی سوچ میں کوئی مطابقت نہیں، پی پی اور (ن) لیگ الیکشن میں دست و گریبان تھے، آج کیا مشترکہ چیز آگئی جو ہم نوالہ ہم پیالیہ بننے کے لیے تیار ہوگئے ہیں، پی ٹی آئی کا خوف انہیں یکجا کررہا ہے، تجزیہ نگار سمجھتے ہیں بہت مضبوط اپوزیشن ہے لیکن یہ کمزور اپوزیشن ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمران خان معیشت کے چیلنجز سے آگاہ ہیں اور اس حوالےسے بریفنگ لے رہے ہیں۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس