شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

دوپہر کے وقت کچھ دیر سونا کیوں ضروری ہے؟ 4 بڑی وجوہات اس خبر میں ملاحظہ کیجیے


لاہور (ویب ڈیسک) دوپہر کے وقت سونا سستی کی علامت نہیں بلکہ ذہنی و جسمانی بہتری کا ایک شاندار طریقہ ہے۔ بعض افراد کو اس کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ذیل میں قیلولہ کرنے کی وجوہ بیان کی گئی ہیں ۔ ۱۔ ضرورت:دور جدید میں بہت سے افراد اپنی نیند پوری نہیں کر پاتے۔طویل اوقاتِ کار، مصروف نجی زندگی، شہرکا شور اور الیکٹرانک آلات کا استعمال

ہمارے ذہن اور جسم کو آرام نہیں کرنے دیتے۔ اگر آپ کی نیند پوری نہیں ہوتی تو قیلولہ آپ کی ضرورت ہے کیونکہ آپ کو نیند کی ضرورت ہے۔ ۲۔ وراثت:سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ لاکھوں سال قبل انسان درختوں پر رہتا تھا اور ایک ہی بار طویل دورانیے کے لیے نہیں سوتا تھا بلکہ دن اور رات کو مختلف وقفوں سے سوتا تھا۔ جب انسان نے درختوں کا بسیرا ترک کیا تو وہ رات بھر سونے لگا۔ کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو ماضی کے انسان کی طرح ایک ہی وقت میں لمبی نیند نہیں سو سکتے بلکہ انہیں وقفوں میں نیند آتی ہے۔ جس طرح کچھ لوگ پیدائشی طور پر بائیں بازو سے کام کرتے ہیں اس طرح نیند کا یہ نظام کچھ لوگوں کو ورثے میں ملتا ہے۔ ایسے افراد کو دن میں تھوڑی دیر سو لینا چاہیے تاکہ ان کی نیند پوری ہو سکے۔ ۳۔کارکردگی:میکائیلا شیفرین ایتھلیٹ ہیں اورا نہوں نے 2018ء کے ونٹر اولمپکس میں سونے کا تمغہ جیتا۔ وہ ریس میں حصہ لینے سے قبل تھوڑی دیر باقاعدگی سے سوتی ہیں جس سے ان کا دماغ اور جسم تازہ دم ہو جاتا ہے۔اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے بہت سے ایتھلیٹ بھی ایسا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر باسکٹ بال کے معروف امریکی کھلاڑی جے جے

ریڈک روزانہ دو سے چار بجے دن کو سوتے ہیں اور اس کے بعد شام کے وقت کھیلتے ہیں۔ ان ایتھلیٹس کو معلوم ہے کہ دن کے وقت سونے سے ان کی کارکردگی اچھی ہو جائے گی۔ ۴۔ خواب:بعض خواب ایسے ہوتے ہیں جنہیں دیکھتے ہوئے ہم نیند میں یہ محسوس کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم انہیں دیکھ رہے ہیں اور یہ ایک خوش گوار تجربہ ہوتا ہے۔ دن کے وقت سوتے ہوئے ہمارا دماغ زیادہ سرگرم ہوتاہے اور ایسے خواب دیکھنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ ان خوابوں میں کبھی کبھار کوئی نیا اور کارآمد خیال بھی ذہن میں آ جاتا ہے۔ تخلیقی ذہن رکھنے والوں کے لیے یہ ایک اچھا موقع ہوتا ہے۔(ف،م)





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس