شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الیکشن لڑنے پر پابندی، چوہدری نثار اور شہباز شریف کیلئے بہت بری خبرآگئی


اسلام آباد (ویب ڈیسک) میاں شہباز شریف اور ان کے ہم نظر چودھری نثار علی خان کے انتخاب میں شرکت کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے حکم امتناعی طلب کر لیا گیا۔ عدالت کے روبرو سوال اٹھایا گیا کہ جو شخص سپریم کورٹ پر حملہ کرنے کے لئے خفیہ ساز باز میں ملوث ہو، کیا قومی اسمبلی کا امیدوار بننے کا اہل ہے؟ درخواست میں پنجاب ہاؤس میں

علی الصبح منعقد ہونے والی خفیہ میٹنگ کے حقائق آشکار کیے گئے ہیں۔عدالت کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کے ریکارڈ کے مطابق وزیر اعلٰی پنجاب حملے کے روز صبح ساڑھے آٹھے بجے وزیر اعظم کے دفتر میں موجود تھے اور اس سے ایک گھنٹہ قبل پنجاب ہاؤس میں ان کی موجودگی کی تصدیق راجہ بشارت سے حاصل کی جائے ۔ درخواست کے ساتھ حلقہ پی پی 12 کے ریٹرننگ افسر کا حکم بھی لف ہے جس میں بتایا گیا کہ چودھری نثار نے راولپنڈی ڈویژن کے ارکان اسمبلی اور پارٹی عہدیداروں کو صبح سات بجے پنجاب ہاؤس پہنچنے کا حکم دیا اور میٹنگ کا ایجنڈا بتائے بغیر ان کی حاضری کو لازمی قرار دیا، لیکن جسٹس سجاد علی شاہ کے خلاف طبل جنگ بجانے کے بعد چودھری نثار میدان جنگ سے غائب ہو گئے اور ان کی بجائے خود وزیر اعلٰی پنجاب نے ارکان اسمبلی کو سپریم کورٹ پہنچنے کا حکم صادر کیا۔سپریم کورٹ سے پوچھا گیا کہ جو شخص سپریم کورٹ پر حملے کی غرض سے اپنے ہم جماعتوں کو خفیہ طور پر جمع کرے اور پھر ان سے دغا بازی کرتے ہوئے خود غائب ہو جائے کیا اس قابل ہے کہ اس کا نام اور انتخابی نشان بیلٹ پیپر چھاپا جائے جو شخص

اپنے ساتھیوں کے لئے جنگ کا نقارہ بجانے کے بعد خود منظر سے غائب ہو جائے کیا آئین کی نظر میں مسلمان شہری کہلائے گا۔کیا کوئی مسلمان اپنے ساتھی مسلم لیگیوں کے ساتھ اسقدر دھوکے بازی کر سکتا ہے ۔ سپریم کورٹ حملہ کیس کے اپیل کنندہ شاہد اورکزئی نے عدالت کو یاد دلایا کہ حملے کے روز (ن) لیگ کا کارکن میجر رشید وڑائچ ایک احتجاجی کتبہ اٹھائے عدالت عظمٰی کے دروازے پر کھڑا تھا جس پر جلی حروف میں لکھا تھا کہ ’’سندھی چیف جسٹس نامنظور‘‘ اور پاکستان میں کسی مسلمان شہری کا اظہار بیان ایسا بھی ہونا چاہئے ۔شاہد اورکزئی نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ تمام امیدواران قومی اور صوبائی اسمبلی جن کے نام اسلام آباد پولیس کی تیار کردہ انکوائری رپورٹ میں موجود ہیں فی الفور انتخابی عمل سے خارج کئے جائیں اور پنجاب ہاؤس میں ناشتے کا انتظام کرنے والے تمام کرداروں کو فی الفور عدالت کے روبرو لایا جایء۔ اسلام آباد پولیس کے آئی جی کے علاوہ سابق ڈی آئی جی تیمور علی خان کو بھی مقدمے میں فریق بنایا گیا ہے جنہوں نے 2000 میں سپریم کورت کے حکم پر انکوائری رپورٹ مرتب کی تھی اگرچہ رپورٹ میں پنجاب ہاؤس میں حملہ آوروں کے لئے تیار ہونے والے ظہرانے کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے وہاں ارکان اسمبلی کے لئے ناشتے کا قطعاً کوئی ذکر نہیں ہے ۔درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ عدالت ناشتے میں شامل افراد کی تفتیش کرے کیونکہ سپریم کورٹ((ن) لیگ کے رہنماؤں کی شناخت کے لئے انکوائری کا حکم دیا تھا ۔ معلوم ہوا ہے کہ چودھری نثار بعد نصف شب فون پر ارکان اسمبلی سے خفیہ رابطوں میں مصروف رہے لیکن ان میں سے کوئی یہ پھانپ نہ سکا کہ اگلی صبح سپریم کورٹ پر ہلہ بولا جائے گا ۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس