شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

کیا آپ کا اشارہ بی بی کی طرف ہے ۔۔۔۔۔ اسد درانی کی کتاب میں مریم نواز اور نواز شریف کے حوالے سے کیا دھماکہ خیز مواد موجود ہے ؟ یہ اقتباسات ملاحظہ کیجیے


لت:کیا آپ کا اشارہ بی بی کی طرف ہے؟درانی:نہیں۔۔۔ جہاں تک پاک بھارت تعلقات کا سوال ہے تو بی بی نہ توڈانواں ڈھلمل یقین خیالات کی حامل تھیں اور نہ ہی انتہا پسند اور کٹر تھیں۔ لیکن جہاں تک میاں صاحب کا تعلق ہے تو تمام تر کوششیں کی گئی تھیں کہوہ مودی کی تاجپوشی (حلف برداری) کی تقریب پر ضرور آئیں۔ بعد میں کسی نے سوچا کہ میاں صاحب

کے نمبرٹُو کو بلا لیتے ہیں۔ان کا خیال تھا کہ اگر پہلے ہی ایسا کیا جاتا تو بہتر ہوتا۔ لیکن بہرحال میاں صاحب آئے۔ لیکن ان سے کوئی اچھا سلوک نہ کیا گیا۔مودی پاکستان کے بارے میں پہلے ڈھاکہ اور پھر کابل میں جو ہرزہ سرائیاں کر چکے تھے اس کے بعد رائیونڈ میں ان کی کریش لینڈنگ سمجھ سے باہر تھی۔ کوئی اور ہوتا تو کہتا کہ یہ سب سرکس کا کھیل کیا بلا ہے؟ لیکن میاں صاحب نے پھر بھی مثبت رویہ دکھایا۔آپ لوگ یہ کہتے رہتے ہیں کہ مودی کی طرف سے رائیونڈ یاترا ان کی عظمت کی دلیل تھی۔لیکن ایسا ہرگز نہیں تھا۔ دراصل یہ میاں صاحب کی عظمت اور کمٹ منٹ کی دلیل تھی۔ چونکہ لوگ میاں صاحب کو سادہ لوح سمجھتے ہیں اس لئے سب نے یہ یقین کر لیا تھا کہ وہ آئندہ بھی ہمیشہ اسی سادہ لوحی اور فیاضی کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔دلت: انڈیا کے نقطہ ء نظر سے پاک بھارت تعلقات کو آگے بڑھانے میں نوازشریف دوسروں سے بہتر تھے۔ میں پاکستانیوں کے نقطہ ء نظر سے تو متفق نہیں ہوں۔ لیکن جب وہ مودی کی حلفبرداری پر آ ہی گئے تھے تو ان کے ساتھ بہتر سلوک ہونا چاہیے تھا۔درانی: میں صرف ایک بات پر میاں صاحب سے خوش تھا اور وہ ان کا جوہری

تجربات کرنے کا فیصلہ تھا۔میں نے کھل کر ان کی حمائت کی تھی۔انہوں نے بالکل درست فیصلہ کیا تھا اور یہ فیصلہ دلیرانہ بھی تھا۔ ہرچند کہ ان کو نہ تو جوہری اہلیت کی کچھ سمجھ بوجھ ہے اور نہ ہی یہ ادراک ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا رول کیا ہوتا ہے۔علاوہ ازیں انہوں نے یہ فیصلہ اپنے حلقہ ء نیابت یعنی کاروباری طبقے کے خواہشات کے برعکس کیا۔ اور کلنٹن کی طرف سے پانچ دس کالوں کی بھی کوئی پروا نہ کی۔ اس لئے میں نے ان کی سرعام تعریف کی تھی اور تحریری طور پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔

ادتیہ سنہا:پاکستان میں آج کل جو عدم استحکام کی صورتِ حال ہے اس کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟درانی:نہیں ایسا نہیں ہے۔۔۔ صرف چند مقامات پر یہ صورت حال ہے۔ وہ لوگ جو حقیقتِ حال پر گہری نظر رکھتے ہیں ان کو یقین ہے کہ میاں صاحب کے رخصت ہو جانے کے بعد گرد بیٹھ جائے گی اور صورتِ حال زیادہ بہتر ہوجائے گی۔شریف فیملی کے خلاف کورٹ

میں مقدموں کے سلسلے میں ہاہا کار تو مچی ہوئی ہے لیکن کاروباری طبقے نے پھر سے معمول کی طرف لوٹنا شروع کر دیا ہے اور وہ خاصے مطمئن نظر آتے ہیں۔جہاں تک اس نووارد شخص یعنی خاقان عباسی کا تعلق ہے تو میں ذاتی طور پر اول اول ان کے رویوں سے مطمئن نہیں تھا۔ لیکن اب وہ آہستہ آہستہ بہتری کی طرف جا رہے ہیں اور اچھاکام کررہے ہیں۔میرے سارے رفیقانِ کار یہ سمجھتے ہیں کہ عباسی قواعد و ضوابط کے مطابق چلنے والے آدمی ہیں اور صبح سے شام تک کام میں لگے رہتے ہیں۔ وہ دوسرے اداروں سے بھی مشاورت کرتے ہیں۔نیشنل سیکیورٹی کمیٹی (NSC) کہ جس کے وہ سربراہ ہیں کئی اجلاس کر چکی ہے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو جس طرح انہوں نے ہینڈل کیا ہے، وہ بھی ایک قابلِ تحسین بات ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جو تقریر کی تھی وہ بھی اچھی تھی۔ اور ایشیا سوسائٹی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے جو باتیں کیں وہ بھی بالکل ٹھیک تھیں۔امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن پاکستان آئے تھے لیکن ان کو یہ موقع نہیں دیا گیا کہ وہ سیاستدانوں اور آرمی سے الگ الگ بات کریں۔ آرمی اور سیاستدانوں نے اکٹھے ہو کر ان سے بات کی

اور ان کو یکساں پیغام دیا۔ ہمارا رویہ ٹلرسن کے ساتھ بات چیت میں نہ تو مدافعانہ تھا اور نہ معذرت خواہانہ۔۔۔ ہم نے ان کو کہا کہ ہم پاکستانی جو کچھ کرتے ہیں، صرف اپنے لئے کرتے ہیں!

سنہا: کیا عباسی سرتاپا آرمی کے آدمی ہیں اور سیاستدان نہیں؟درانی: وہ کبھی بھی آرمی کے بندے نہیں رہے۔ مشرف ان سے اسی لئے تو ناراض اور جھنجھلائے رہتے تھے کہ وہ آخر ایک ملٹری آفیسر(کموڈور خاقان عباسی) کے بیٹے ہیں اسی لئے مشرف کے آدمیوں نے اپنی سی کوشش کی کہ عباسی کو نوازشریف سے علیحدہ کرلیں۔ لیکن وہ اپنے پارٹی لیڈر کے وفادار رہے۔ انہوں نے جیل جانا منظور کر لیا لیکن آرمی کی بین پر ناچنے سے انکار کردیا۔

میں ذاتی مثال دینا چاہتا ہوں۔۔۔۔ ایک وقت تھا کہ میں جہاں کہیں بھی ہوتا تھا اور جو بھی تھا وہ میرے ساتھ احترام سے پیش آتے رہے۔ جب میں فوج میں نہ رہا اور میاں صاحب نے بھی فوج سے کٹّی کرلی تو عباسی مجھ سے کنی کترانے لگے۔ لیکن اس کے باوجود میں یہ کہوں گا کہ وہ اچھا کام کررہے ہیں۔دلت:آپ کی باتیں دلچسپ ہیں!۔۔۔ میں نے اپنے پاکستانی دوستوں سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان میں کیا ہونے جارہا ہے۔

جنرل احسان سے میں نے لندن میں اس موضوع پر بات کی تو انہوں نے کہا کہ شاید عمران آجائیں۔ میں حیران ہوا اور سوال کیا:’’کیا واقعی؟‘‘۔۔۔لیکن اس کے چند ہفتوں کے بعد سب دوستوں نے کہا کہ عمران کے آنے کا کوئی چانس نہیں۔میں نے پاکستانی دوستوں سے جو کچھ سنا اس کی رو سے ان کا خیال ہے کہ 2018ء میں عباسی وزیر اعظم بننے کی دوڑ میں فیورٹ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (نون) کا پنجاب پر کنٹرول ہے۔ پنجاب سارے ملک کا تین چوتھائی ہے۔اس لئے جو پارٹی پنجاب کنٹرول کرے گی وہی جیتے گی۔۔۔۔ پاکستان مسلم لیگ پنجاب کو کنٹرول کرتی ہے، چند سیٹیں پی پی پی بھی لے جاتی ہے اور عمران صرف ایک آدھ نشست لاہور یا کسی اور شہر سے جیتنے کے علاوہ کچھ اور نہیں کرسکتے۔عباسی، میاں صاحب کا چوائس ہیں۔ میں نے دوستوں سے پوچھا کہ انہوں نے اپنے بھائی کو چھوڑ کر عباسی کو کیوں وزیر اعظم چنا؟ ان کا جواب تھا کہ عباسی میاں صاحب کی کمر میں خنجر نہیں گھونپیں گے۔سنہا: یعنی میاں صاحب کو ڈر تھا کہ ان کا بھائی ان کی کمر میں خنجر اتاردے گا؟دلت:اگر شہباز شریف خنجر گھونپ بھی دے تو گھاؤ زیادہ گہرا نہیں ہوگا۔

آپ نے ملٹری کی بات کی ہے۔ میں اس کو زیادہ اہمیت دینا نہیں چاہوں گا۔ جیسا کہ جنرل صاحب نے ’’اداراتی‘‘کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ میں اس کی بجائے یہ کہوں گا کہ اسٹیبلشمنٹ خوش ہے کیونکہ پی ایم ایل (PML) کا کنٹرول ہے اور لوگوں میں عام تاثر یہی ہے کہ یہ اچھا کام کررہی ہے اس لئے امکان یہی ہے کہ 2018ء میں بھی یہی پارٹی جیتے گی۔لیکن عمران پھر بھی ڈارک ہارس(Dark Horse) ہے۔(کیمبرج ڈکشنری کے مطابق ڈارک ہارس اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اپنے مفادات اور خیالات اپنے تک محدود اور خفیہ رکھتا ہے اور کسی کو کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کب مہلک وار کردے گا۔ مترجم)درانی:جی ہاں۔ وہ (خاقان عباسی) کافی ہشیار آدمی ہیں ۔اسی لئے کہتے پھرتے ہیں کہ میں نواز شریف کی پالیسیوں پر عمل پیرا رہوں گا۔سنہا:ان کا(عباسی کا) انڈیا کے بارے میں کیا نقطۂ نظر ہوگا؟درانی:ایسا نہیں ہوگا کہ جب بھی دہلی کی طرف سے ان کے لئے کال آئے گی تو وہ بھاگے بھاگے دلی پہنچ جائیں گے۔ ابھی بطور وزیر اعظم ان کو چند روز ہی گزرے تھے تو کسی نے ان سے پوچھا تھا کہ افغانستان میں انڈیا کا رول کیا ہے؟۔۔۔ ان کا جواب تھا:

زیرو۔۔۔ یہ بات اور ہے کہ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ افغانستان میں انڈیا کا ایک رول ہے۔ عباسی کا جواب اس بات کا پیغام تھا کہ یہ موضوع میاں صاحب کا کوئی بزنس نہیں تھا۔دلت: جو کچھ جنرل صاحب فرما رہے ہیں وہ براہِ راست پاکستان کے اندر سے آ رہا ہے۔ آپ نے دنیا بھر میں سیاستدانوں کو بھی دیکھاہے اور ان کی سیاست پر بھی آپ کی نظر ہے۔موجودہ ایام میں عباسی صاحب صرف اور صرف میاں صاحب کی جگہ پُر کر رہے ہیں۔ اگر 2018ء میں عباسی وزیراعظم بن گئے تو ان کا اپنا خود مختارانہ نقطہ ء نظر ہو گا۔اس وقت عباسی انڈیا کے بارے میں کیا کریں گے اور امریکہ کے بارے میں ان کا ردعمل کیا ہوگا، یہ دیکھنے کے لئے ہمیں انتظار کرنا پڑے گا۔ عباسی خاصے سمجھدار، لکھے پڑھے اور سمارٹ آدمی ہیں۔ اورایک انجینئر بھی ہیں! وہ کسی ایرے غیرے کی لائن Towنہیں کریں گے۔ادتیہ سنہا: الیکشن کب ہو رہے ہیں؟دلت:جنرل احسان صاحب کہہ رہے تھے کہ اگست میں ہونے کا امکان ہے۔درانی: جی ہاں۔ وجہ یہ ہے کہ نئی حلقہ بندیاں حالیہ رائے شماری کے مطابق ابھی تشکیل پانی ہیں ان کو زیر غور رکھنا پڑے گا۔دلت: کوئی جلدی بھی نہیں۔۔۔ پاکستان میں ابھی بہت سی باتوں کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔۔۔ شریف فیملی۔۔۔ دوسرا بھائی۔۔۔ اور۔۔۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس