’’اسلام کی کھلم کھلا توہین ‘‘ ریحام خان نے اپنیے حوالے سے کیا لکھ ڈالا ؟ شرمناک انکشاف


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کی دوسری سابقہ اہلیہ ریحام خان نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں ایک تصویر پوسٹ کی ۔ اس تصویر میں ریحام خان کے چہرے پر داڑھی بھی بنی ہوئی ہے۔ ریحام خان نے کہا کہ کچھ دیر قبل مجھے ایک جماعت میں شرکت کرنے کی پیشکش کی گئی، میں نے ان سے کہا کہ میں نقاب تو نہیں کر سکتی لیکن ہاں میں داڑھی ضرور رکھ سکتی ہوں۔ اور یہ داڑھی مجھ پر اچھی بھی لگ رہی ہے۔ ٹویٹر پر جاری کیے گئے دوسرے پیغام میں ریحام خان نے پی ٹی آئی والوں کو مخاطب کیا اور کہا کہ میں اپنی کتاب کا سرورق ایڈٹ کروانے کے لیے کسی کی تلاش میں ہوں، کیا آپ لوگ میری مدد کرنا چاہتے ہیں؟ پی ٹی آئی سے سرورق ایڈٹ کرنے میں مدد کرنے کا کہنے پر ریحام خان کو ٹویٹر صارفین نے نہ بخشا اور سوشل میڈیا پر ریحام خان کا مذاق اُڑانا شروع کر دیا۔ ایک صارف نے سانپ کی تصویر لگائی اور لکھا کہ اپنی کتاب کا سرورق یہ رکھ لیں۔ ایک صارف نے ریحام خان کے ماضی کی ایک تصویر شئیر کی جس میں وہ مغربی لباس زیب تن کیے ہوئے ہیں اور کہا کہ اس تصویر پر حجاب لگا کر کتاب کا سرورق بنا لیں,یہ سرووق آپ کی شخصیت کی بہترین انداز میں عکاسی کرے گا۔ ایک اور صارف نے کسی عمر رسیدہ عورت کی تصویر کو فوٹو شاپ کیا اور کہا کہ کتاب کا سرورق یہ ہونا چاہئیے۔ ایک اور صارف نے تو ریحام خان کی تاریخی بے عزتی کی اور کہا کہ اپنا کور پیج تبدیل کرنے سے پہلے یہ ہے کہ آپ اپنا اندر تبدیل کریں۔ کیونکہ اندر کی گندگی نہ داڑھی سے چھپتی ہے اور نہ پردے سے۔ اپنا کور پیج تبدیل کرنے سے پہلے یہ ہے کہ آپ اپنا اندر تبدیل کریں

۔کیونکہ اندر کی گندگی نہ داڑھی سے چھپتی ہے اور نہ پردے سے ۔یاد رہے کہ ریحام خان اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر تمسخرانہ پوسٹ کرتی رہتی ہیں ، قبل ازیں پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کی دوسری سابقہ اہلیہ ریحام خان کی نظر سے حمزہ علی عباسی پر بنی مزاحیہ تصویر گزری تو وہ اس پر تبصرہ کیے بغیر نہیں رہ سکی تھیں۔ اپنے ٹویٹر پیغام میں ریحام خان نے مضحکہ خیز انداز میں حمزہ علی عباسی کو خوشخبری بھی سنا دی۔ ریحام خان نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ اگر پی ٹی آئی نے کوئی نیا چہرہ ڈھونڈ لیا ہے تو کوئی بات نہیں، میں نے اپنی نئی فلم میں حمزہ علی عباسی کے لیے ایک نیا کردار لکھا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ہیش ٹیگ میں ”میں ہوں نا” بھی تحریر کیا۔

کپتان نے مسلم لیگ (ن)پر ہلہ بول ڈالا، سابق وزیرکی وکٹ اڑا ڈالی، پنجاب کا سیاسی منظر نامہ تبدیل


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن)سے منحرف ہونے والے سینئر رہنما اور پنجاب کے سابق وزیر خوراک چودھری عبدالغفور سے چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے رابطہ کیا ہے اور انھیں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے کی باضابطہ دعوت دے ڈالی ہے۔چوہدری عبدالغفور میو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہ

ے کہ ان سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نےرابطہ کیا ہے اور انہیں تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت دی ہے اور وہ جلد ہی ان کی رہائشگاہ پر آئیں گے اور انہیں باقاعدہ طور پر تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت دیں گے۔ چوہدری عبدالغفور میو کا کہنا تھا کہ وہ کافی عرصے سے تحریک انصاف میں شمولیت کا فیصلہ کر چکے تھے۔

ٹکٹ لینا ہوتا تو کیا کرتا ؟تھوک کر چاٹنا عادت نہیں ! چوہدری نثارپھٹ پڑے ، نواز شریف کو کھری کھری سنادیں


راولپنڈی(سی پی پی ) سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ ٹکٹ لینا ہوتا تو نواز شریف کو ایک درخواست دے دیتا لیکن میں ایک دفعہ تھوک کر دوبارہ نہیں چاٹتا‘ عمران خان میرے دوست ہیں ، ان سے ٹکٹ لے سکتا تھا لیکن میں نے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کو ترجیح دی‘میری نوازشریف سے 34 سال دوستی رہی لیکن انہوں نے مجھ سے بے وفائی کی‘برادری کی سیاست نہیں کرتا پاکستان کی سیاست کرتا ہوں ہمیشہ سیاست میں اپنے علاقے کا علم بلند رکھا۔ ہفتہ کو قومی اسمبلی کے حلقہ 59 میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ میں برادری کی سیاست نہیں کرتا پاکستان کی سیاست کرتا ہوں ہمیشہ سیاست میں اپنے علاقے کا علم بلند رکھا، اس علاقے میں میں 1985 میں آیا جب یہاں اسپتال تھا نہ کوئی سڑک تھی لیکن 34 سال کی سیاسی زندگی میں علاقے کے لوگوں کوترقی دی، ایک وقت تھا انسانوں کیلئے کچی سڑکیں نہیں تھی آج گدھوں کیلئے بھی پکی سڑکیں ہیں۔چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ میں نے 34 سال سیاست کی اور بڑے بڑے عہدوں پر فائر ہوا لیکن اپنی ذات کے بجائے عوام کی ترقی کو ترجیح دی اور ساتھ ہی اپنی قیادت سے مدد لینے کے بجائے اس کی مدد کی اور ساتھ لیکن نوازشریف نے مجھ سے بے وفائی کی اور 34 سال کا ساتھ بھول گئے، اگر میں نے ٹکٹ لینا ہوتا تو نواز شریف کو ایک درخواست دے دیتا لیکن میں ایک دفعہ تھوک کر دوبارہ نہیں چاٹتا، عمران خان میرے دوست ہیں ، ان سے ٹکٹ لے سکتا تھا لیکن میں نے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کو ترجیح دی۔سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ میں دنیا کو دکھانا چاہتا ہوں کہ اللہ کے کرم سے میں تنہا نہیں بلکہ اللہ کے بعد صرف اپنی قوم و علاقے کا محتاج ہوں، میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے میرے علاقے کے لوگوں کا شملہ نیچے ہو، 25 جولائی کو پورا پاکستان دیکھے گا کہ یہاں صندوقچیوں سے کیا نکلے گا، اس دن میرے حلقے کے لوگ کفن باندھ کر نہیں صاف کپڑے پہن کر نماز پڑھ کر نکلیں اور اگر ان کا دل مانتا ہے کہ میرا مخالف مجھ سے زیادہ اہل اور ایماندار ہے تو ووٹ اس کو دیں لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ ووٹ ایک امانت ہے۔ اس سے قبل چوہدری نثار کا تقریر میں نواز شریف کو مخاطب ہوئے کہا ہے کہ میں نے اپنا ضمیر نہیں بیچا اور نہ بیچوں گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ نے پہلے خود کو جنرل ضیا کے آگے بیچا ، پھر بینظر بھٹو اور اب عمران خان کے آگے خود کو بیچ دیا ہے ۔

تحریک انصاف کو الیکشن سے قبل بڑا دھچکا نازک موڑ پر سینئر رہنما نے ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کر دیا


جھنگ (سی پی پی ) پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی سینئر نائب صدر آصف علی ڈھڈی نے ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کر دیاہے۔نجی ٹی وی کے مطابق ن لیگ نے جھنگ کے حلقہ پی پی 126 سے آصف علی ڈھڈی کو ٹکٹ بھی جاری کر دیا۔واضح رہے کہ 25 جولائی کو عام انتخابات ہونے جارہے ہیں اور اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے امیدواروں کو ٹکٹیں جاری کر دیں ،? الیکشن مہم کا آغاز کر دیا گیاہے۔

جون جولائی کی فیس نہ لینے کا حکم،سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر پا کستان پرائیویٹ سکولز ایسو سی ایشن کا شدیدردعمل بڑا اعلان کردیا


کراچی (نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان پرائیوٹ اسکولز کے معاملات میں حقائق کو سامنے رکھے ۔ جون جولائی کی فیس نہ لینے سے کئی اسکولز بند ہو جائیں گے ، ٹیچرز کا استحصال ہو گا۔ آل پا کستان پرائیویٹ اسکولز ایسو سی ایشن کے چیئرمین انتخاب سوری نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہی ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چیف جسٹس کا پرائیویٹ اسکولز کو سر کاری اسکولز میں تبدیل کر نے عندیہ بھی حیرت انگیز اور تعجب خیز ہے ۔جبکہ سر کاری اسکولز معیارِ تعلیم کے خاتمے کے ذمہ دار ہیں ۔

انہو ں نے کہا کہ بڑے اسکولز اور چھوٹے اسکولز کو ایک نظر سے نہ دیکھا جائے ۔ جن اسکولز کی فیس 2سے 3ہزار تک بھی ہے وہ اسکولز اکثر مشکلات کا شکا ر ہیں ۔ ان اسکولز کو تو سرکاری طور پر مالی معاونت ملنی چاہیئے کیونکہ پرائیویٹ اسکولز نے تعلیم کا معیار بہت بہتر کیا ہے اور اس کے لیے قر بانیاں دی ہیں ۔ پرائیویٹ اسکولز فی بچہ خرچ کم از کم اوسطً 2ہزار آتا ہے ۔جس پر اچھی تعلیم مل رہی ہے ۔ جبکہ سر کاری اسکولز میں گورنمنٹ یہ خرچ 20ہزار روپے ہے اور تعلیم صفر ۔ کم آمدنی والے یا اوسط درجے کے اسکولز کے ساتھ خصوصی رعایت ہونی چاہیئے ۔ مافیا شاید وہ اسکولز ہوں جن کی فیس 20, 20ہزار روپے یا اس سے زائد ہیں ۔ جبکہ اوسط درجہ یا اس سے کم درجہ کے اکثر اسکولز کرایے کی بلڈنگ پر قائم ہیں ۔ ان پرائیویٹ اسکولز کے پاس اتنا فنڈ بھی نہیں ہوتا کہ وہ جون جولائی کی فیس کی وصولیابی کے بغیر اسکولز کی بلڈنگ کا کرایہ اور ٹیچرز کی تنخواہیں ادا کر سکیں ۔ کراچی میں قائم اسکولز گزشتہ عرصے بد امنی کا شکار رہے ۔ بھتہ اور دھمکیوں کا بھی سامنا کر تے رہے ۔سپریم کورٹ یا حکومت کی جانب سے والدین کو اُکسانہ تعلیم کے حق میں نہیں ۔ اس سے اساتذہ اور والدین کے درمیان خلا پیدا ہو گا ۔ اسکول انتظامیہ ، اساتذہ اوروالدین کے درمیان تلخ کلامی پیدا ہو گی جو قطعی طور پ معیار تعلیم کے تسلسل میں رکاوٹ بنے گی ۔

وہ ٹوپی جس میں حضرت خالد بن ولید ؓکی ساری طاقت پوشیدہ تھی۔۔ آپ بھی جانئے کہ اس ٹوپی کا راز کیا تھا۔۔ ایمان افروز تحریر


وہ ٹوپی جس میں حضرت خالد بن ولید ؓکی ساری طاقت پوشیدہ تھی آپ بھی جانئے کہ اس ٹوپی کا راز کیا تھاجس کی خاطر ایک بار سینکڑوں مسلمانوں کی جان قربان کر دی گئی تھیحضورﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد خلافت راشدہ کے دور میں صحیح معنوں میں سیدنا خالدؓ کو اپنی تلوار کے جوہر دکھانے کا موقع ملا،اور آپؓ نے بہت خونریز جنگیں لڑیں۔سیدنا

ابو بکر صدیقؓ نے فتنہ ارتداد کو دبانے کے لیے آپؓ کو منتخب کیا۔ حضورﷺ کے وصال کے بعد بہت سے قبائل ایسے تھے کہ جو مرتد ہوگئے تھے۔ بہت سے قبائل ایسے تھے کہ جنہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا تھا۔ ان تمام کی سرکوبی کے لیے جس سپہ سالار کا انتخاب کیا گیا، وہ سیدنا خالدؓ ہی تھے۔مسیلمہ کذاب نامی ایک شخص نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کردیا تھا۔سیدنا ابوبکرصدیقؓ نے اس فتنے کو ختم کرنے کیلئے بھی سیدناخالدؓ کو ہی منتخب کیا۔موجودہ ریاض کے شہر کے نزدیک یمامہ کے مقام پر ایک خونریز جنگ کے بعد سیدنا خالدؓ نے مسیلمہ کذاب کو جہنم رسید کیا۔یہ جنگ اتنی شدید تھی کہ سات سو سے زائد صحابہ کرامؓ اس میں شہید ہوئے۔اتنی بڑی تعداد میں قرآن کے حفاظ اس جنگ میں شہید ہوئے کہ اس کے بعد ہی قرآن کو تحریر ی شکل میں جمع کرنے کا حکم خلیفہ کی طرف سے جاری کیا گیاتھا۔حضرت خالدبن ولیدؓ۔اسلام کے عظیم سپہ سالار کے حالات زندگی… قسط 2 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریںسیدنا خالدؓ نے انتہائی دلیری اور شجاعت کے ساتھ ان مہمات کو سر کیا۔ حضورﷺ نے سیدنا خالدؓ پر جو نگاہ کرم فرمائی تھی، اور اس کے بعد جو کامیابیاں ان کو میدان جنگ میں

حاصل ہوئی تھیں، اس سے سیدنا خالدؓ کو اتنا اعتماد ہوگیا تھا کہ اب دنیا کی کوئی طاقت ان کے آگے ٹھہر نہ سکتی تھی۔ ان کے یقین کا ا ندازہ اس بات سے کیجیے کہ جب انہوں نے ایران کے بادشاہ کو خط لکھا اور بہت اعتماد سے اسکو کہا کہ اسلام قبول کرلویا سرنگوں ہوکر جزیہ دو ،ورنہ تمہیں پتہ نہیں ہے کہ کیا چیز تمہارے پاس آنے والی ہے! اور کیا چیز تم سے

ٹکرائے گی! جو لوگ میں تمہاری طرف لے کر آرہا ہوں ، وہ موت کو اتنا ہی عزیز رکھتے ہیں کہ جتنا تم اپنی زندگی کو۔ اسی طرح ایک بازنطینی سپہ سالار کہ جس نے خود کو ایک بہت بڑے اورمضبوط قلعے میں بند کرلیا تھا، کے نام خط میں آپؓ نے لکھا کہ اگر تم بادلوں میں بھی چھپ جاؤ تو اللہ ہمیں باد لوں میں پہنچا دے گا یا تمہیں ہماری سطح پر لے آئے گا،تاکہ ہم میدان جنگ میں تمہارا صفایا کرسکیں۔ یہ تھا ان کا غیر معمولی اعتماد!میدان جنگ میں سیدنا خالد بن ولیدؓ کو انکے نعرے سے پہچانا جاتا تھا۔ انکا جنگی نعرہ یہ تھا :’’میں غیرت مند جنگجو ہوں! میں اللہ کی تلوار ہوں! میں خالد بن ولیدؓ ہوں‘‘۔ ان کا یہ اعتماد اور نام ہی دشمن پر دہشت طاری کردیتا۔ ایک دفعہ ان کے پاس ایک رومی جاسوس قاصد کی شکل میں آیا اورایک جھوٹا منصوبہ پیش کرکے آپکو پھنسانے کی کوشش کی۔ خالد بن ولیدؓ نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر صرف اتنا پوچھا کہ کیا تم سچ کہہ رہے ہو۔۔۔؟ اس شخص کی روح ہی فنا ہوگئی ۔۔جب مرتدین کی سرکوبی ہوگئی تو اس کے بعد حضرت ابو بکرؓ کی نگاہ ایران اور عراق کی طرف بھی گئی۔ آپؓ نے اس مہم کے لیے بھی سیدنا خالدؓ کو ہی منتخب کیا۔ مسلمانوں کو یہ بشارت حضورﷺ کی طرف سے پہلے ہی مل چکی تھی کہ مسلمان ایرانی اور رومی سلطنتوں پر قبضہ کرلیں گے۔آپ کو سراقہؓ والی حدیث یاد ہوگی کہ جب حضورﷺ ،حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہمراہ مکے سے ہجرت کرکے مدینے کی جانب روانہ ہوئے، تو سراقہؓ نے گھوڑے پران کا تعاقب کیا تھا۔ اس وقت سراقہؓ کو حضورﷺ نے بشارت دی تھی کہ ایک وقت آئے گا کہ کسریٰ کے کنگن تمہارے ہاتھوں میں ہونگے۔ سیدنا ابو بکر صدیقؓ اس بات کے شاہد تھے۔ حضورﷺ کی اس حدیث مبارکہ کی تکمیل کا آغاز سیدنا خالدؓ کی اسی مہم کے نتیجے میں ہوا۔اس سے پہلے کہ ہم خالدؓ کی جنگی اور حربی حکمت عملی پر بات کریں،کچھ روشنی حضرت خالدؓ کی نفسیات پر بھی ڈالتے چلیں۔ حضرت خالدؓ کو جتنا اعتماد اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی روحانی تائید پر تھا،اتنا تو انکواپنی جنگی حکمت عملی پر بھی نہ تھا۔ حضرت خالدؓ نے حضورﷺ کے کچھ بال مبارک اپنی ٹوپی میں سی لیے تھے اور وہ اپنے آہنی خود کے نیچے وہی ٹوپی پہنا کرتے تھے۔جنگ یرموک میں ایک موقع پر وہ ٹوپی آپؓ کے سر سے گر گئی، تو آپؓ جنگ کے دوران لاشوں کے بیچ اس کو ڈھونڈتے رہے ، مگر رومی فوج کے دباؤ کی وجہ سے پیچھے ہٹنا پڑا۔حضرت خالدؓ نے مسلمانوں کا ایک دستہ تیار کیا اور دوبارہ حملہ کرکے رومیوں کو پسپا کیا، اور اپنی ٹوپی دوبارہ حاصل کی۔ جنگ کے بعد لوگوں نے اعتراض بھی کیا کہ آپؓ نے ایک ٹوپی کی خاطر کئی مسلمانوں کی جانیں ضائع کروادیں، تو سیدنا خالدؓنے فرمایا کہ یہ ٹوپی نہیں بلکہ میری طاقت کا سرچشمہ ہے، کیونکہ اس میں رسولﷺکے بال مبارک پروئے ہوئے ہیں۔ایک اور واقعہ ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے حضرت خالدؓ کی ایرانی سپہ سالار سے بات چیت ہورہی تھی ۔اس نے کہا کہ آپ ہم سے کیوں لڑتے ہیں، ہماری تلواروں میں تو ایسا زہر لگا ہوا ہے کہ جو جسم کو چھو بھی جائے تو اسے گلاَ کر خراب کردے گا۔ سیدنا خالدؓ نے وہ زہر کی شیشی لی اوربسم اللہ الذی لا یضر۔۔۔ والی دعاپڑھ کر اسے پی گئے اور آپؓ کو کچھ بھی نہ ہوا، کیونکہ آپؓ کو کامل یقین تھا کہ جو کام اللہ نے آپؓ سے لینا ہے وہ ہر حال میں لیا جائے گا۔ اللہ کی تلوار کافروں کے ہاتھوں نہیں ٹوٹے گی۔ پھر آپؓ کے ساتھ رسولﷺکے بال مبارک کی برکت بھی تھی کہ جنہیں آپؓ ہر وقت اپنے وجود کے ساتھ جوڑ کر رکھتے تھے۔

امریکہ پاکستان سے خوش ہوگیا


واشنگٹن(نیوزڈیسک) امریکی محکمہ خارجہ نے اس بات پر اظہار اطمینان کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے اعلیٰ سطحی سیاسی عزم سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی ترسیل کے معاملے پر نظر رکھنے کے حوالے سے نشاندہی کردہ کمزوریاں دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات

محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان نے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہی ۔ ہیدر نوئرٹ نے کہا کہ ہم پاکستان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ ایف اے ٹی ایف اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرے تاکہ دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی ترسیل پر نظر رکھنے والے ادارے کی شرائط پوری کی جا سکیں، جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1267 کی شقوں کو پورا کرنا شامل ہے۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ اٴْن فنڈز کو منجمد کیا جائے، اٴْنھیں اکٹھا کرنے سے روکا جائے اور جن رقوم کا تعلق کالعدم نہ قرار دیے گئے دہشت گرد گروپوں سے ہو اٴْن کی ترسیل روکی جائے۔

یااللہ خیر زلزلے کے شدیدجھٹکے ،پاکستان کے بڑے شہرلرز اٹھے


لاہور (ویب ڈیسک)سوات میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے تاہم کسی قسم کے نقصان کی اطلاعات نہیں ملیں۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4.6 جبکہ گہرائی217کلومیٹر تھی اور اس کا مرکز کوہ ہندوکش

ریجن تھا۔ سوات کے مختلف علاقوں اور گرد ونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے،جس سے عوام میں شدید خوف وہراس پھیل گیا اور عوام گھروں سے باہر کھلی جگہوں پر جمع ہوگئے۔ تاہم کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔واضح رہے کہ 28 اپریل کو بھی خیبرپختونخواہ کے کئی اضلاع میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔

’’انا للہ وانا الیہ راجعون ‘‘ یا اللہ مدد ۔۔ باران رحمت ، بارانِ زحمت بن گئی ۔۔ ۔۔ محکمہ موسمیات نے کیا اعلان کردیا ؟


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ) لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں منگل کی رات سے شروع ہونے والی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔لاہور، فیصل آباد اور گردو نواح میں رات بھر تیز بارش ہوتی رہی، کئی علاقوں میں فیڈرز ٹرپ کر گئے اور بجلی غائب ہو گئی۔ لاہور میں بارش کے بعد نشیبی علاقہ زیر آب آگئے لیکن واسا ان علاقوں سے پانی نکالنے میں ناکام ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا پر نجی ٹی وی چینل کت ایک رپورٹر کی ویڈیو وائرل ہوئی جس نے شہباز شریف کے لاہور عرف پیرس کے ایک علاقہ میں بارش کے کھڑے پانی میں واٹر پُول رکھ کر اپنی رپورٹنگ کے فرائض انجام دئے، گلیوں اور سڑکوں میں پانی اکٹھا ہونے سے پیدل چلنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں بچی جس کی وجہ سے مذکورہ رپورٹر نے سڑک کے درمیان کھڑے پانی میں واٹر پُول رکھ کر رپورٹنگ کے فرائض انجام دئے، رپورٹر نے اس ویڈیو میں بتایا کہ محکمہ واسا اپنا کام کرنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ واسا کی مشینوں نے بھی جواب دے دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس رپورٹر کی ویڈیو وائرل ہوئی تو سوشل میڈیا صارفین اس ویڈیو کو دیکھ کر محظوظ ہوئے اور ساتھ ہی سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی تنقید کا نشانہ بنا ڈالا اور کہا کہ یہ شہباز شریف کے لاہور عرف پیرس کی صورتحال ہے جہاں نکاسی آب کا نظام اس قدر بُرا ہے کہ بارش کا پانی شہریوں کے لیے مسائل پیدا کررہا ہے۔ واضح رہے کہ لاہور،، فیصل آباد اور گردو نواح میں رات بھر تیز بارش ہوتی رہی، کئی علاقوں میں فیڈرز ٹرپ کر گئے اور بجلی غائب ہو گئی جبکہ قصور، پاک پتن، میاں

چنوں، اوکاڑہ، شورکوٹ میں بھی موسلادھار بارش ہوئی جس سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور،، گوجرانوالہ، راولپنڈی، فیصل آباد، ساہیوال، بہاولپور، مالاکنڈ اور ہزارہ میں بعض جگہوں پر تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارچ نے بلدیاتی اداروں کی ناقص کارکردگی کی کلی کھول دی ہے۔ مختلف علاقوں میں گلیاں اور سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ جبکہ مختلف حادثات بھی پیش آئے۔ساہیوال میں بارش کے باعث نواحی گاؤن میں چار مکانوں کی چھتیں گر گئیں۔ چنیوٹ میں بھی بارش کے باعث گھر کی چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق ہو گئے ہیں۔

پاکستانی عوام اب موٹر سائیکل نہیں خرید سکتے کیونکہ!!خبر نے سب کے ہوش اُڑا دیئے


اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ایف بی آرنے نان فائلرز کاپہیہ جام کرنے کافیصلہ کرلیا۔تفصیلات کے مطابق ایف بی آرنے گاڑیوں کے بعداب نان فائلرز کے لیے موٹرسائیکل کی خریداری بھی مشکل بنادی نان فائلرز اب موٹرسائیکل بھی نہیں خریدسکیں گے۔فنانس بل 2018میں بڑی تبدیلی کی گئی ہے اوریہ بل یکم جولائی سے نافذالعمل ہوگا۔نئی تبدیلی کے بعدنان فائلرز پرگاڑی کی بکنگ ،خریداری اوررجسٹریشن پرپابندی لگادی گئی ہے۔اگرکوئی فائلرہوگاتووہ موٹرسائیکل یاگاڑی خریدسکے گا۔جبکہ اس سلسلے میں محکمہ ایکسائز کوبھی ہدایت کی گئی ہے کہ نان فائلرکی درخواست بھی قبول نہ کی جائے ۔دوسری جانب قومی ایئر لائن انتظامیہ نے پی آئی اے نجکاری کیس میں تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی جس کے مطابق ایئرلائن کا خسارہ 406 ارب تک پہنچ چکا ہے۔سپریم کورٹ میں جمع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قومی ایئرلائن میں فوری طور پر کوئی بہتری نہیں آسکتی اور خسارے کی وجہ سے پی آئی اے اثاثے کی بجائے بوجھ بن چکی ہے۔رپورٹ کے مطابق اثاثے 111 ارب روپے جب کہ خسارہ 406 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، پی آئی اے پرانے سرکاری ادارے کی طرز پر چلائی جارہی ہے جس کی وجہ سے موجودہ بزنس ماڈل اسے منافع بخش نہیں بنا سکتا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے سیاسی حالات کا پی آئی اے پر منفی اثر پڑا اور سیاسی مداخلت اور عملے میں مایوسی جیسے چیلنجر کا سامنا ہے جب کہ ادارے کی بہتری میں یونینز بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔رپورٹ کے مطابق زیادہ تر روٹس پر نقصانات اور ضرورت سے کئی گنا زیادہ ملازمین پی آئی اےکے خسارے میں رہنے کی بڑی وجہ ہیں جب کہ پی آئی اے میں تجربے اور استعداد کار کی کمی ہے۔ رپورٹ میں انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نئے انتظامی اقدامات سے ٹکٹس کی فروخت میں 30 فیصد تک بہتری جب کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال آمدنی میں 5 فیصد اضافہ ہوا ہے اور کارگو سروس سے آمدنی میں 8.5 فیصد بہتری آئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارخور کی تصویر لگانے کا مقصد قومی پرچم کی تصویر ہٹانا نہیں بلکہ قومی پرچم کو جہاز کی دُم سے درمیان میں منتقل کیا گیا ہے۔ پی آئی اے انتظامیہ نے رپورٹ میں استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات پر جلد فیصلے کرنے کا حکم دے اور جہازوں پر مارخور کی تصویر بنانے سے روکنے کا حکم واپس لے اور جب کہ پی آئی اے کے سی ای او کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا بھی حکم جاری کرے۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے پی آئی اے کے گزشتہ 10 سال کے اسپیشل آڈٹ کا حکم دیا ہے۔