شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

نواز شریف کا سورج غروب ہونے کے پیچھے عدالتی فیصلے نہیں بلکہ ۔۔۔ سہیل وڑائچ کے دعوے نے پاکستانی سیاست میں ہلچل مچا دی


اسلام آباد (ویب ڈیسک ) سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین سینیٹ کے الیکشن میں شکست کے بعد ن لیگ کے 10 سالہ اقتدار کا سورج غروب ہونا شروع ہوگیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق چئیرمین سینیٹ کے الیکشن میں ن لیگ کو اپ سیٹ شکست کا سامنا کرنا پڑا ہےاپوزیشن کے امیدوار صادق سنجرانی نے 57 ووٹ حاصل کرکے ن لیگ کے امیدوار

راجہ ظفر الحق کو شکست سے دوچار کیا۔اس حوالے سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اب ن لیگ کا زوال شروع ہوگیا ہے۔ عدالتی فیصلوں اور دیگر مشکلات کے باوجود ن لیگ کا مستقبل کچھ زیادہ خطرات سے لاحق نہیں تھا۔ تاہم اب چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین سینیٹ کے الیکشن میں شکست نے ن لیگ کے 10 سالہ اقتدار کا سورج غروب ہونے کی تصدیق کردی ہے۔ یہ شکست بہت بڑی ہے اور اس کے بعد ن لیگ کا عروج ختم ہونا شروع ہوگیا ہے۔ 10 سال تک ن لیگ سیاسی طور پر مقبولیت کی انتہاء کو چھو گئی تھی اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ آئندہ حکومت بھی ان کی ہی ہوگی۔ تاہم اب ایسا ہونا بظاہر بہت مشکل نظر آ رہا ہے۔اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار صادق سنجرانی چیئرمین اور سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیرمین سینیٹ منتخب ہوگئے ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سینیٹ کے اہم اجلاس میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہوا۔ چیرمین سینیٹ کے عہدے کے لیے مسلم لیگ (ن) اور ان کے اتحادی جماعتوں کے امیدوار راجہ ظفرالحق اور اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار صادق

سنجرانی میں مقابلہ ہوا جب کہ ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کے لئے مسلم لیگ (ن) اور ان کی اتحادی جماعتوں کے امیدوار عثمان کاکڑ اور اپوزیشن جماعتوں کے سلیم مانڈوی والا کے درمیان مقابلہ ہوا۔صادق سنجرانیکو 57 اور سلیم مانڈوی والا کو 54 ووٹ ملےاپوزیشن جماعتوں کے امیدوار صادق سنجرانی نے مسلم لیگ (ن) اور ان کے اتحادی جماعتوں کے امیدوار کے مقابلے میں 57 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جب کہ راجہ ظفر الحق کو 46 ووٹ ملے۔ دوسری جانب ڈپٹی چیرمین کے انتخاب کے دوران اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ امیدوار سلیم مانڈوی والا نے 54 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جب کہ مسلم لیگ (ن) اور ان کے اتحادیوں کے امیدوار عثمان کاکڑ کو 44 ووٹ ملے۔پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور بلوچستان کے آزاد سینیٹرز نے گزشتہ روز چیئرمین کے لیے صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے سلیم مانڈوی والا کا نام پیش کیا تھا۔ فاٹا اور ایم کیو ایم کے سینیٹرز نے بھی اپوزیشن امیدواروں کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔سینیٹ میں پارٹی پوزیشنسینیٹ کا ایوان 104 ارکان پر مشتمل ہے جس میں ن لیگ کے 33، پی پی پی 20، پی ٹی آئی 12، آزاد 17، ایم کیو

ایم 5، نیشنل پارٹی 5، جے یو آئی 4، پشتون خوا میپ 3، جماعت اسلامی 2 اور بی این پی مینگل، فنکشنل لیگ اور اے این پی کا ایک ایک سینیٹر ہے۔آصف زرداری کی نومنتخب چیرمین کو مبارکبادپی پی پی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری نے صادق سنجرانی اور سلیم مانڈوی والا کو چیرمین اور ڈپٹی چیرمین سینیٹ منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اراکین سینیٹ بھی مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے حزب اختلاف کے امیدواروں کو ووٹ دیا جب کہ بلوچستان سے چیئرمین سینیٹ منتخب کرانا آغاز حقوق بلوچستان کا تسلسل ہے، پاکستان پیپلزپارٹی جمہوریت اور جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہے۔

صادق سنجرانی کا انتخاب خاندانی سیاست کی شکست ہے، عمران خاندوسری جانب نومنتخب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے چیرمین پی ٹٰی آئی عمران خان کو ٹیلی فون کرکے ان کی حمایت پرشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کےعوام کو پارلیمان میں اہم مقام دلوانے پرعمران خان کے مشکور ہیں، عمران خان وفاق کی علامت کے طور پر ابھرے ہیں، بلوچستان کےعوام عمران خان کے تہہ دل سےمشکور ہیں، آپ نے مجھ سے جو توقعات وابستہ کیں ان پر انشاءاللہ پورا اتروں گا۔عمران خان نے بھی بھاری اکثریت سے کامیاب ہونے پر صادق سنجرانی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ صادق سنجرانی کا انتخاب آئین وجمہوریت کی فتح اور خاندانی سیاست کی شکست ہے اور ہم بلوچستان کے عوام کی کامیابی پر خوش ہیں۔چیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی چیرمین سینیٹ منتخب ہونے پر صادق سنجرانی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ضیا کا اوپننگ بیٹمیسن ہار گیا، بلوچستان اوروفاق جیت گیا جب کہ انہوں نے سلیم مانڈوی والا کو بھی ڈپٹی چیئرمین بننے پر مبارکباد دی۔ ایوان بالا میں سب کو ساتھ لے کر چلوں گا، صادق سنجرانی بعدازاں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے نومنتخب چیرمین صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ آصف زرداری اور عمران خان سمیت تمام دوستوں کا شکرگزار ہوں، ایوان کی کارروائی اچھے انداز میں چلائیں گے اور ایوان بالا میں سب کو ساتھ لے کر چلوں گا، کسی کے ساتھ کسی قسم کی نا انصافی نہیں ہونے دوں گا کیوں کہ میرے لیے سب برابر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا اور صوبہ بلوچستان اور پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کروں گا۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس