شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

برطانیہ کے مشہور مسلمان سیاست دان کو ڈاک میں ایسی چیز موصو ل ہو گئی کہ پورے شہر میں ہلچل مچ گئی ، قانون نافذ کر نے والے اداروں کی دوڑیں


لندن(ویب ڈیسک)برطانوی پارلیمنٹ کے رکن محمد یاسین کو ایک مشتبہ پیکٹ موصول ہوا، تاہم پیکٹ وصول کرتے وقت وہ اپنے دفتر میں موجود نہیں تھے۔دوسری جانب احتیاط کے پیش نظر پارلیمنٹ سے دو افراد کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس ترجمان نے بتایا کہ نارمن شا بلڈنگزمیں موصول ہونے والے مشکوک پیکٹ کی

اطلاع پر پولیس کو بلایا گیا اور علاقے کو بند کر کے تلاشی لی گئی جبکہ احتیاط کے پیش نظر ایک مرد اور ایک خاتون کو سینٹرل لندن کے اسپتال لے جایا گیا۔ترجمان پارلیمنٹ کے مطابق پیکٹ کی جانچ کے بعد اسے غیر مضر قرار دے دیا گیا۔ برطانوی پارلیمنٹ کے رکن محمد یاسین کے عملے کے ایک رکن نے اے ایف پی کو بتایا کہ پیکٹ ان کے دفتر میں موصول ہوا، تاہم اُس وقت وہ موجود نہیں تھے۔واضح رہے کہ نارمن شا بلڈنگز، ہاؤس آف پارلیمنٹ اور پولیس ہیڈکوارٹرز کے درمیان واقع ہے، جہاں قانون سازوں کے دفاتر موجود ہیں۔ایک اور خبر کے مطابق استاد انسانیت عبد الستار ایدھی کی خدمات کو کبھی بھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ ان کے چاہنے والے دنیا کے ہر کونے میں موجود ہیں، جو اپنے اپنے انداز میں انہیں سراہتے ہیں، ایسے میں لندن کے ایک مصور نے ایدھی کا خاکہ بنا کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔لندن کے ڈینیئل سوان نامی اسٹریٹ آرٹسٹ ایدھی صاحب کی بے لوث انسانی خدمات سے بے حد متاثر ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر لندن کے ٹرافلگر اسکوائر پر ان کا خاکہ بنا کر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ڈینیئل سوان ٹرافلگر اسکوائر پر ایدھی

صاحب کا خاکہ اس لیے بناتے ہیں کیونکہ یہ ایک مرکزی علاقہ ہے جہاں ہر مذہب اور رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے لوگ گزرتے ہیں۔جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈینیئل سوان کا کہنا تھا کہ عبدالستار ایدھی کا خاکہ بنانا ان کے لیے اعزاز کا باعث ہے۔انہوں نے بتایا کہ چند سال پہلے انہوں نے ایک پاکستانی امیریکن شہری سے عبدالستار ایدھی کا نام سنا اور وہ ان کے گرویدہ ہوگئے۔ان کا کہنا تھا کہ عبدالستار ایدھی کا خاکہ بنانے کا مقصد یہ ہے کہ ہر کوئی ان کی خوبصورت شخصیت، خدمت انسانیت کے جذبہ، ان کے دل اور خدمات سے واقف ہوسکے جو ہم سب کے لیے ایک مثال ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ایدھی صاحب نے انسانیت کی عملی طور پر خدمت کر کے دکھائی ہے جس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ان کا کہنا تھا کہ ایدھی نے جس طرح یتیم بچوں کو سہارا دیا ، ایمبولینس کے ذریعے لا تعداد لاشوں کو اٹھایا، غریبوں اور نادار افراد کو کھانا کھلایا، یہ ایک عظیم کام تھا جس کے بارے میں دنیا کو ضرور جاننا چاہیے۔ڈینیئل سوان بھی عبدالستار ایدھی کے نقش قدم پر چلنا چاہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے فن کے ذریعے لندن کے 50 ہزار سے زائد بے گھر افراد کی مدد کر رہے

ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر آج وہ زندہ ہوتے تو وہ بھی یہی کام کرتے اور خلق خدمت کی ہدایت دیتے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ آج دنیا میں سب سے زیادہ ضرورت ایثار و محبت کی ہے جس کے لیے الفاظ کافی نہیں بلکہ کچھ کر دکھانا ضروری ہے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس