شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

ایک ایسا شخص جس نے کرکٹ کی دنیا میں ورلڈ کپ جیتا ہواور وہ دن رات جھوٹ بولے ، دروغ گوئی کرے اور غلط بیانی کرے اس کا بھی احتساب ضرور کریں ۔


چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی ملتان میٹرو کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کی تردید کی اورچینی کمپنی کو 6 لاکھ ین جرمانہ کیا اور اسے بلیک لسٹ بھی کر دیا۔ کمپنی کے سی ای او مسٹر لو کو بھی 3 لاکھ ین جرمانہ کیا گیا۔ اس یابیٹ نامی چینی کمپنی نے کھلے عام معافی بھی مانگی ۔ میں خان صاحب سے پوچھتا ہوں اب کونسا انہیں ثبوت چاہیے جو میں

 

پیش کروں۔ ایک اللہ تعالی کی عدالت ہے جہاں سزا اور جزا کا نظام موجود ہے وہاں فیصلہ ہو گا اور ایک عوام کی عدالت ہے وہ بھی فیصلہ کرے گی ۔ عدالت عظمی اور عدالت عالیہ بھی ایک فورم ہے ۔ میں اس فور م کا دروازہ ایک بار پھر کھٹکھٹا رہا ہوں تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو ۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن نیازی صاحب کا مسئلہ نہیں اور اگر کرپشن ان کا مسئلہ ہوتا تو وہ نندی پور کرپشن کے میگا سکینڈل پر خاموش نہ رہتے۔ اس سکینڈل پر عدالت عظمی کے جج بابر اعوان کو کرپشن کا ذمہ دار ٹھہرا چکے ہیں ۔ کیا کبھی انہوں نے بابر اعوان کا نام لیا ؟ وہ کرپشن کے خلاف بات کرتے ہیں لیکن کرپٹ بابر اعوان ان کی گود میں بیٹھے ہیں ۔ یہ قوم کے ساتھ سنگین مذاق ہے ۔ مشرف جسے خان صاحب نجات دہندہ کہتے تھے ان کے دور میں چنیوٹ کے معدنی ذخائر پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ ہم نے اس کے خلاف عدالتوں میں جنگ جیتی اور قوم کے اربوں روپے بچائے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں چنیوٹ میں 400 ارب روپے کے کرکٹذ خائر دریافت ہو چکے ہیں ، دوسرے مرحلے پر کام شروع ہو چکا ہے ۔ لاہور ہائی کورٹ کے جج نے نیب کو ہدایت کی تھی کہ اس کے ذمہ داروں کے

 

خلاف کارروائی کی جائے لیکن افسوس کہ نیب نے اسے کلین چٹ دے دی۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کے سیکرٹری کے بھائی کی جعلی کمپنی کو چنیوٹ کے ذخائر کی تلاش کا ٹھیکہ دیا گیا ۔ ہم اگر اس کے خلاف بروقت کارروائی نہ کرتے تو قوم کا اربوں روپے کا خزانہ لٹ چکا ہو تا۔ کیا نیازی صاحب نے اس کے بارے میں بھی کبھی آواز اٹھائی ۔ ای او بی آئی میں 40

 

ارب روپے کا ڈاکہ ڈالا گیا جس کے ذمہ دار ظفر گوندل تھے جو سابق وفاقی وزیر نذر گوندل کے بھائی تھے ۔قوم کے اربوں روپے پر ڈاکہ ڈالنے والے یہ لوگ آج پی ٹی آئی کی پناہ میں ہیں ۔ ظفر گوندل وہ شخص ہے جس نے اس کرپشن پر جیل بھی کاٹی ہے ۔ اس خائن کو خان صاحب نے اپنی گود میں بٹھا رکھا ہے ۔ این آئی سی ایل ایک اور کرپشن کا سکینڈل ہے جس میں غریب قوم کی اربوں روپے کی زمینیں لٹ گئیں ۔ یہ زمینیں کوڑیوں کے بھاؤ خریدی گئیں ۔ خان صاحب نے اس سکینڈل کے بارے میں بھی کبھی کوئی لفظ نہیں کہا۔ خان صاحب جن کی کرپشن کے بارے میں آخری حدوں تک جاتے تھے اور انہیں چور ، ڈاکو کہہ کر مخاطب کرتے تھے انہیں کے ساتھ مل کر لاہور میں جلسہ کیا۔ زرداری صاحب نے 60 ملین ڈالر غریب قوم کے لوٹ کر سوئس بنکوں میں جمع کروائے۔ پوری قوم جانتی ہے کہ دو وزرائے اعظم کو اس معاملے میں قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ سوئس بنک نے ان پیسوں کی واپسی کیلئے خط لکھنے کا کہا عدالت عظمی کے اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو خط لکھنے کا کہا لیکن انہوں نے خط نہ لکھا اور توہین عدالت کے مرتکب ہونے پر وزارت عظمی

 

سے فارغ ہوئے۔ دوسرے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف تھے وہ بھی اپنی لیڈر کی کرپشن بچانے کے لئے ان سے وفاداری نبھائی اور توہین عدالت کی۔ انہوں نے کہا کہ غریب قوم کے 60 ملین ڈالر لوٹ کر سوئس بنکوں میں رکھنا اس قوم کے ساتھ بڑی زیادتی ہے اور پاکستان کے عوام کے ساتھ کھلی دشمنی ہے ۔ اگر قوم کے یہ اربوں روپے لوٹے نہ جاتے تو کوئی

 

ہمیں بھکاری نہ کہتا ۔ ہمیں ڈکٹیشن لینے پر مجبور نہ ہونا پڑتا اور ہمیں اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی طور پر آزاد قوم ہی سیاسی طور پر آزاد ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر مجھ سے غلطی ہوئی ہے تو نشاندہی پر قوم سے معافی مانگ لوں گا لیکن دن رات جھوٹ بول کر قوم کا وقت ضائع کرنے سے غربت ، مایوسیوں کے سوا ہمارے دامن میں کچھ نہیں ہو گا۔ قوم قربانیاں دے رہی ہے اور ان کی قربانی پکار پکار کر اپنا حق مانگ رہی ہے ۔ خدا را ، خدا کا خوف کریں اور ملک و قوم پر رحم کریں ۔ انہوں نے کہا کہ نیازی صاحب آپ نے کے پی کے کا بیڑا غرق کر دیا ہے ۔ پشاور کو میٹرو بس کے نام پر اکھاڑ کر رکھ دیا ہے ۔ آپ پشاور میں جو میٹروبس کا منصوبہ بنانے جا رہے ہیں اس میں 85 فیصد فنڈ ایشیائی ترقیاتی بنک دے رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ خان صاحب کو جھوٹ بولنے کا نشہ ہے جب تک وہ جھوٹ بول نہ لیں ان کا نشہ نہیں اترتا۔ خان صاحب یاد رکھیں آئندہ انتخابات میں قوم آپ کے جھوٹ پر آپ کا احتساب کریں گے ۔ وہ دعوی کرتے تھے کہ ہم میٹرو پر وسائل لگانے کی بجائے تعلیمی ادارے اور ہسپتال بنائیں گے

 

۔ انہوں نے نہ تو کوئی تعلیمی ادارہ اور نہ ہی کوئی ہسپتال بنایا۔ پنجاب حکومت اور عوام نے اپنے وسائل سے سوات میں سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال بنایا تھا ۔ کے پی کے کی حکومت اس ہسپتال کو چلانے میں بھی قاصر ہے اور وہ کہہ رہی ہے کہ نان سیلری بجٹ کے لئے پنجاب حکومت سے رابطہ کیا جائے۔ پنجاب کی حکومت اور عوام نے خوش دلی سے عطیہ دے کر

 

اس ہسپتال کا تحفہ آپ کو دیا اور آپ اسے بھی چلانے میں ناکام ہیں ۔ کے پی کے میں دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کے دعوے کرنے کی بجائے عملی اقدامات کئے جاتے تو اچھا ہوتا۔ وزیر اعلی نے کہا کہ عدالت عظمی کا دروازہ ایک بار پھر کھٹکھٹایا ہے کہ وہ عمران نیازی کے لگائے گئے مجھ پر تمام الزامات کی تحقیقات کیلئے فل بنچ بنادیں اور اس بنچ میں پیش ہو کر اپنی صفائی دینا میرے لئے باعث اعزاز ہو گا ۔ اگر میں جھوٹے الزامات پر نیب میں پیش ہو سکتا ہوں تو عدالت عظمی کے بنچ کے سامنے پیش ہونے میں بھی مجھے کوئی عار نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وقت کا ضیاع قوم کے ساتھ زیادتی ہے ۔ آج میں خان صاحب کے الزامات کا جواب دینے کے لئے یہاں موجود ہوں۔ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ اس کی بجائے میں عوام کی خدمت کے کسی منصوبے میں وقت صرف کر رہا ہوتا۔ وزیر اعلی نے میڈیا کے نمائندوں کے سوالات کے جواب بھی دیئے۔ *





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس