شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

سائیں جی کا وضو اور ھمارا میڈیا !!


جب بھی پاکستانی چینلز پر شرم و حیاء کے جنازے اُٹھتے دیکھتا ھوں تو ایک بزرگ مجھے ٹوٹ کر یاد آتے ھیں ! میں انہیں سائیں جی کہا کرتا تھا، بہت نیک انسان تھے،مردانہ وجاھت کا شاہکار قندھاری انار کی طرح سرخ و سپید،، پر جلال چہرہ اس پر سفید براق نورانی داڑھی ،، ھمیں دو چار چلے بھی کرائے تھے،، ھر خوبی کے علی الرغم ایک اخلاقی خرابی پتہ نہیں

ان میں کہاں سے در آئی تھی کہ وہ وضو بہت زور سے توڑتے تھے، جمعے میں عین اس وقت جب مولوی صاحب اردو خطاب ختم کرنے والے ھوتے آدھے لوگ اونگھ رھے ھوتے کہ اچانک سائیں جی وضو توڑ دیتے،، مگر اتنے زور سے توڑتے کہ خود ان کی آنکھ بھی کھل جاتی اور باقی لوگوں کی آنکھیں نہ صرف کھل جاتیں بلکہ کھلی کی کھلی رہ جاتیں،، وہ باوقار انداز مین اٹھتے اور وضو کرنے چلے جاتے، اس دوران دوسری اذان ھوتی اور عربی خطبہ شروع ھو جاتا !اصل چیز اس وضو ٹوٹنے کی ٹائمنگ تھی، ٹھیک ایک ھی وقت پر اور ریکٹر اسکیل پر ایک جتنی شدت کے ساتھ ٹوٹتا،، یہانتک کہ چند منچلے اپنی گھڑیاں ان کے وضو کے ساتھ درست کرنے لگ گئے ! مولوی صاحب نے تو اس کو الارم ھی سمجھ لیا تھا ،فورا ً خطبہ ختم کر کے کہتے سنت پڑھ لیں جی ! مگر سارا مسئلہ ھمارے لئے بنا جو ھمیشہ کوشش کرتے کہ سائیں جی کے پہلو میں بیٹھیں تا کہ ان کے انوارات سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں،،اس بد اخلاقی پر ھماری پوزیشن بہت خراب ھو جاتی،، لوگ تمسخر بھری نگاھوں سے ھمیں یوں گھورتے جیسے اس وضو کے ٹوٹنے میں بھی ھمارا کوئی ھاتھ ھے !

اب ھم نے بھی لیٹ آنا شروع کر دیا اور پیچھے جہاں ایکسٹرا صفوں کا ڈھیر لگا ھوتا ان کے پاس چھپ کر بیٹھ جاتے تا کہ لوگوں کی تمسخرانہ نگاھوں سے محفوظ رہ سکیں! آخر ایک دن ھمارا صبر کا پیمانہ لبریز ھو گیا، یہ بھی کتنی عجیب حرکت ھے،اتنا شور تو پاکستان کی اسمبلیاں ٹوٹنے پر نہیں ھوتا جتنا سائیں جی کے وضو ٹوٹنے پر ھوتا ھے !ھم نے ان سے پوچھ ھی لیا کہ سائیں جی آپ یہ کیا حرکت کرتے ھیں؟، نہایت معصومانہ انداز مین بولے کونسی حرکت ؟ سبحان اللہ ،، بے ساختہ ھمارے منہ سے نکلا ،جانے نہ جانے گل ھی نہ جانے گاؤں تو سارا جانے ھے،، یہ آپ وضو اتنے زور سے کیوں توڑتے ھیں ؟ پتـر یہ ایک شرعی مسئلہ ھے،، انہوں نے سادگی سے جواب دیا،اس دن ھمیں شریعت کی گرفت کی وسعت کا اندازہ ھوا ،،یہ شرعی مسئلہ کیسے ھو گیا سائیں جی ؟ بیٹا جی میرا وضو ٹوٹ جاتا تھا اور مجھے یاد نہیں رھتا تھا، کئی دفعہ نماز بغیر وضو پڑھ لی پھر دھرانی پڑی،، کئی دفعہ نماز کا وقت نکل جانے کے بعد یاد آیا کہ نماز کے وقت وضو نہیں تھا،، مولوی صاحب سے مسئلہ پوچھا تھا تو انہوں نے بتایا تھا کہ ،وضو ٹوٹنے پر کسی کو گواہ بنا لیا کریں !میں نے

بات ٹوکتے ھوئے کہا کہ سائیں جی آپ اپنے کسی پوتے کو کان مین بتا دیا کریں کہ بیٹا میرا وضو ٹوٹ گیا ھے ،نماز کے وقت یاد کرا دینا،،اور امانت اس کے پاس رکھا دیا کریں،،، اس پر وہ بھڑک کر بولے ” پھر اذان کے بعد میں اس پوتے کو ڈھونڈنے نکل جاتا ؟ یا اس کو رسی ڈال کے کلے کے ساتھ باندھ دیتا؟ وہ تھوڑے تلخ ھو کر بولے ،، میں نے مسئلے کا حل یہ ھی ڈھونڈا ھے کہ نہ صرف گھر والے بلکہ بیٹھک والے دکاندار کو بھی گواہ بنا لیتا ھوں،جونہی نماز کے لئے نکلتا ہوں دکاندار سر نفی میں ھلا کے بتا دیتا ھے کہ وضو نہیں ھے،، – جمعے میں تو آپ فوراً اٹھ کر وضو کے لئے چل پڑتے ھیں تو وھاں تو کم از کم والیوم کا خیال رکھا کریں، ھم نے نظریں نیچی کر کے التجا کی،، پُتر اب تو عادت ھو گئ ھے ،، سائیں جی نے اپنی نوارنی داڑھی پر ھاتھ پھیرتے ھوئے جواب دیا اوروضو کرنے چل دیئے !!اپنے شاھد مسعود صاحب نے تو اس قدر زور سے وضو توڑا ہے کہ چیف جسٹس صاحب سمیت پوری قوم کا تراہ نکال کر رکھ دیا اور پھر کتنی بےنیازی سے فرماتے ہیں کہ میں اچھا نہیں لگتا تو چلا جاتا ھوں ، یعنی کہ ہم تڑپتے رہ گئے وہ مسکرا کر چل دیئے ،، اس پر چیف صاحب نے جوابی وضو توڑا کہ پُتر اب تم تو جانا چاھو گے مگر ھم تمہیں جانے نہیں دیں گے، توھینِ عدالت کے علاوہ دھشت گردی اور دفعہ ۱۹۳ کے تحت ۷ سال جیل کی سزا بھی دی جا سکتی ہے ، اس پر تو حامد میر سمیت سارے اینکرز ڈاکٹر شاھد مسعود کو بھول کراپنے آپ کو جیل میں محسوس کرنے لگے کیونکہ یہ سب اس سے بھی بڑی بڑی جھوٹی کہانیاں بریک کر چکے ہیں لہذا اب چیف کے خلاف ٹھیک ٹھاک صحافتی محاذ بننے جا رھا ہے ـ





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس