صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخواہ کے سکولوں میں طلبہ و طالبات کے اندراج کی تعداد انتہائی افسوسناک ہے


۔پنجاب حکومت نے تعلیم کے لئے 345 بلین روپے کی کثیر رقم مختص کی گئی ۔انکا کہنا تھا کہ خیبر پختونخواہ کے سکولوں میں بچوں کے اندراج کے حوالے سے چلائی جانے والی مہم بری طرح ناکام ہوئی ہے اور لاکھوں بچے سکول جانے سے محروم رہے۔ جبکہ 2008 سے 2017 تک پنجاب کے سکولو ں میں 5 ملین سے زائد طلبہ وطالبات کا اندراج ہواہے۔ بروز

 

منگل شائع کیے جانے والے ایک ہینڈ آؤٹ کے مطابق، صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخواہ کے ایلیمینٹری اینڈ سکینڈری ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے اساتذہ کے ساتھ کیے جانے والے ایک حالیہ سروے کے مطابق ابھی بھی لاکھوں بچے سکول کی تعلیم سے محروم ہیں۔جبکہ 275 سکول اساتذہ کی عدم دستیابی ، زمینی جھگڑوں اورسکیورٹی خدشات کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔ یہ رپورٹ کے پی کے میں تعلیم کے حوالے سے کام کرنے والی ایک این جی او کی جانب سے شائع کی گئی ہے۔ سروے کے دوران کے پی کے اساتذہ کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں معیاری تعلیم کی فراہمی ناممکن ہے۔ پنجاب میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے پنجاب حکومت نے 345 بلین روپے کا فند تعلیم کے لئے مختص کیا۔ جبکہ 3,000 سکولوں کی اپ گریڈیشن کی گئی اور پنجاب کے154 سکولوں کو برٹش کونسل کی جانب سے پہلی بار ایوارڈز ملے۔‎

انتظار کی گھڑیاں ختم۔۔اورنج لائن ٹرین چلتا دیکھ کر عوام خوشی سے دوبالا


میاں محمد شہبازشریف اُس تمام اوصاف کی حامل شخصیت ہیں جو ایک اچھے قائد میں ہونے چاہیے جیسے مثبت سوچ و عمل ، بصیرت، خوداعتمادی، علم ، انصاف پسندی، راست بازی، جانچ و پرکھ، ہمت و حوصلہ ،بھروسہ مندی، پہل کاری، قوت فیصلہ، برداشت، جوش و ولولہ اور متاثر کُن اندازِ بیان ۔یہی وجہ ہے کہ شہبازشریف پنجاب سمیت دیگر صوبوں کی عوام کے

 

دلوں پر بھی راج کرنے لگے ہیں اور اِن کا نام سیاسی اور عوامی حلقوں میں مسلم لیگ(ن) کیجیت کی صورت میں آئندہ کے وزیراعظم کی حیثیت سے گونج رہا ہے ۔،وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی سب سے قابل ذکر خوبی یہ ہے کہ وہ کبھی بھی دباؤ میں نہیں آتے ،ہرحال میں اُنہوں نے اپنے ارادوں کو کبھی پست نہیں ہونے دیا ۔۔چیلنجز کو قبول کیا اور مقابلہ بھی کیا ۔۔گبھرانے کا عنصر اِ ن میں بالکل بھی نہیں بلکہ اپنے عمل سے مخالفین کو خوف زدہ کرنے کا ہنر باخوبی جانتے ہیں ۔ سیاسی مخالفین نے کئی الزامات لگائے مگر اُنہوں نے قانونی میدان ہو یا سیاسی میدان ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔تاریخ گواہ ہے کہ الزامات لگانے والے کچھ بھی ثابت نہیں کرسکے اور مخالفین اپنے خلاف دائر کئے گئے ہتک عزت کے دعوؤں سے بھی مفرور ہیں مگر سیاسی مخالفین ماضی سے سبق سیکھے بغیر اپنا وطیرہ بدلنے کو تیار نہیں ،مگر شہبازشریف ایک طرف تو بڑی مردانگی کے ساتھ سامنا کرنے کو ضرور تیار ہیں اور دوسری طرف اپنے زیرنگرانی شروع کئے گئے عوامی فلاح کے منصوبہ جات سے بھی غافل نہیں ۔پہلے بھی مخالفین کی جانب سے تنقید کے نشتر چل رہے تھے اور آپ منصوبہ جات کی تکمیل پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے، افتتاح او رسنگ بنیاد کاسلسلہ جاری تھا۔ ۔۔‎

ججز کی کردارکشی اورعدالتوں کے خلاف ہرزہ سرائی ،نوازشریف کے خلاف توہین عدالت کی درخوست قابل سماعت ہوگی یانہیں ؟فیصلہ ہوگیا


اسلام آباد( ویب ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوازشریف کے خلاف توہین عدالت کی درخوست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیادرخواست گزار نے نوازشریف کوکیوں نکالا کی وجوہات تقاریرپرپابندی اور توہین عدالت پرسزا کی استدعا کی تھی، پیر کواسلام آباد ہائیکورٹ کے جج عامرفاروق نے نوازشریف کے خلاف توہین عدالت کی

درخواست پرسماعت کی ، درخواستگزارنے موقف اپنایا کہ نوازشریف سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد مسلسل عدالتوں کے خلاف ہرزہ سرائی اورججزکی کردارکشی کررہے ہیں ، عوامی اجتماعات میں دھمکی آمیز تقاریر انکا وطیرہ بن چکے ہیں ،عدالت نوازشریف کو انہیں کیون نکالا کی وجوہات بتائے اور انکی تقاریرپرپابندی عائد کرے درخوستگزارنے نوازشریف سیکریٹری انفارمیشن ،چئیرمین پیمرا سمیت دیگرکو فریق بنایا عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پرفیصلہ محفوظ کرلیا

110 مغو ی لڑکیوں کی بازیابی ۔۔۔۔اضافی فوجی دستے اور طیارے تعینات


ابو جا (ویب ڈیسک)نائجیریا نے سکول کی 110 طالبات کی تلاش کے لیے اضافی فوجی دستے اور طیارے تعینات کیے ہیں۔ ان لڑکیوں کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گذشتہ ہفتے شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے انھیں اغوا کر لیا ہے۔یہ لڑکیاں ملک کے شمال مشرقی صوبے یوبے کے ڈاپچی شہر کے ایک سکول سے 19 فروری سے لاپتہ ہیں جب

جہادی تنظیم نے ان کے سکول پر حملہ کیا تھا۔صدر محمد بخاری نے اسے ‘قومی سانحے’ سے تعبیر کرتے ہوئے طالبات کے اہل خانہ سے معافی مانگی ہے۔اس حملے نے سنہ 2014 کے چیبوک حملے کی یاد تازہ کردی ہے جس میں ڈھائی سو سے زیادہ لڑکیاں اغوا کر لی گئی تھیں۔طالبات کے اہل خانہ کے غم و غصے میں اس بات پر اضافہ نظر آ رہا ہے کہ گذشتہ ماہ ڈاپچی کے اہم چیک پوائنٹس سے فوجیوں کو ہٹا لیا گیا تھا۔ڈاپچی پر گذشتہ پیر کو حملہ ہوا تھا۔ یہ چیبوک سے تقریبا پونے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مغرب میں واقع ہے۔ حملے کی وجہ سے گورنمنٹ گرلز سائنس اینڈ ٹیکنیکل کالج کی طالبات اور اساتذہ کو قریبی جھاڑیوں میں چھپنا پڑا تھا۔مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بعد میں فوجی طیاروں کی نگرانی میں سکیورٹی فورسز نے اس حملے کو پسپا کر دیا۔حکام نے پہلے لڑکیوں کے اغوا ہونے کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ وہ حملہ آوروں سے بچنے کے لیے چھپی ہوئی تھیں۔لیکن بعد میں انھوں نے تسلیم کیا کہ حملے کے نتیجے میں 110 لڑکیاں لاپتہ ہیں۔شدت پسند تنظیم بوکو حرام ملک کے شمالی علاقے میں ایک عرصے سے اسلامی ریاست کے قیام کے لیے بر

سرپیکار ہے۔تقریبا چار سال قبل انھوں نے چیبوک کے ایک سکول سے 276 لڑکیوں کو اغوا کر لیا تھا جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ‘برنگ بیک آور گرلز’ کی مہم نظر آئی تھی۔ ان میں سے ابھی بھی ایک سو سے زیادہ لڑکیوں کے بارے میں تاحال کوئی علم نہیں ہے۔ملک میں جاری شورش کے نتیجے میں اب تک دسیوں ہزار افراد ہلاک اور ہزاروں اغوا ہوئے ہیں

ہم صرف اسی صورت شمالی کوریاسے مذاکرات کریں گے۔۔امریکہ نے بڑی شرط عائدکردی


واشنگٹن (ویب ڈیسک)امریکہ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا حتمی مقصد جوہری پروگرام کی بندش ہونا چاہیے۔ جبکہ جنوبی کوریا کے مطابق پیونگ چینگ میں ہونے والے سرمائی اولمپکس کے اختتامی روز شمالی کوریا نے اس جانب اشارہ کیا کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ غیر ملکی خبر رسا ں ادارے کے مطابق امریکہ کا

کہنا ہے کہ ’ہم یہ دیکھیں گے کہ شمالی کوریا کا پیغام کہ وہ مذاکرات کا خواہش مند ہے جوہری تھیاروں کی تلفی کی جانب پہلا قدم ہے۔‘شمالی کوریا کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے رضامندی کی خبریں سرمائی اولمپکس کی اختتامی تقریب سے قبل جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے حکام کے درمیان ملاقات کے بعد سامنے آئی۔خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایونکا ٹرمپ بھی اس اختتامی تقریب میں شریک ہوئیں لیکن ان کی کسی بھی شمالی کوریائی عہدیدار سے ملاقات نہیں ہوئی ، حتکہ وہ اولمپک سٹیڈیم میں شمالی کوریا کے ایلچی جنرل کم یونگ چول سے چند قدم کے فاصلے پر ہی بیٹھی تھیں۔جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان کے دفتر کا کہنا ہے کہ ’شمالی کوریا امریکہ سے مذاکرات کے لیے بہت حد تک رضامند ہے۔‘ان کا مزید کہنا ہے کہ ’بین الاکوریائی مذاکرات اور شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان تعلقات ایک ساتھ بہتر ہونے چاہیے۔‘جنوبی کوریا کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب چند گھنٹے قبل ہی شمالی کوریا کی طرف سے ایک بیان جاری ہوا تھا جس میں اس نے امریکہ کی جانب سے تازہ پابندیوں کو ’جنگی

عمل‘ قرار دیا تھا۔واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ شمالی کوریا کے خلاف نئی اقتصادی پابندیاں لگانے لگا ہے جو کہ تاریخ کی ‘سب سے بڑی پابندیاں’ ہیں۔مجوزہ پابندیوں میں شمالی کوریا کے 50 بحری جہازوں اور بحری ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جن میں سے کچھ چین اور تائیوان میں بھی کام کرتی ہیں۔شمالی کوریا کے خلاف اس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے پہلے ہی متعدد امریکی اور عالمی اقتصادی پابندیاں لگائی جا چکی ہیں

پی ٹی وی حملہ سمیت 3 مقدمات:کپتان کوبڑی خوشخبری مل گئی


اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے خلاف 2014 کے اسلام آباد دھرنے کے دوران دائر کیے گئے مقدمات کی سماعت اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ہوئی۔واضح رہے کہ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں عمران خان کے خلاف 4 مقدمات زیر سماعت ہیں جن میں پی ٹی وی اور پارلیمنٹ

حملہ کیس سمیت سابق ایس ایس پی اسلام آباد عصمت اللہ جونیجو پر تشدد کا کیس بھی شامل ہے۔انسداد دہشت گردی عدالت میں عمران خان کے خلاف مقدمات کی سماعت شروع ہوئی تو پی ٹی آئی چیئرمین کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھے، جس پر سماعت میں 10 بجے تک کا وقفہ کردیا گیا۔وقفے کے بعد سماعت کے دوبارہ آغاز پر پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور ان کے وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کوثر عباس نے عمران خان کے خلاف پی ٹی وی، پارلیمنٹ حملہ سمیت 3 مقدمات کی سماعت کی اور پی ٹی آئی چیئرمین کی آیندہ سماعت پر حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت 13 مارچ تک ملتوی کردی۔دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے عمران خان کے خلاف ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو تشدد کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی چیئرمین کی حاضری سے مستقل استثنیٰ اور بریت کی درخواستوں پر پراسیکیوشن کو نوٹس جاری کردیا اور اس کیس کی سماعت بھی 13 مارچ تک ملتوی کردی گئی۔یاد رہے کہ عمران خان نے ان مقدمات میں حاضری سے استثنیٰ اور نمائندے کے ذریعے

ٹرائل کی درخواست دی تھی، تاہم 23 فروری کو عدالت نے عمران کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کر دی تھی۔یہ بھی واضح رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف ان کیسز میں پولیس کو بیان ریکارڈ کراچکے ہیں اور عدالت نے چاروں مقدمات میں انہیں ضمانت دے رکھی ہے۔گزشتہ سماعت پر عمران خان نے عدالت سے کہا تھا کہ ‘ایک آدمی سیاسی احتجاج کرے اور اس کے خلاف کیسز بن جائیں، یہ سراسر غیر جمہوری عمل ہے’۔جس پر انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے کہا تھا کہ ‘کیس عدالت میں ہے اور ہم نے عدالتی پروسیجر کو فالو کرنا ہے’

بریکنگ نیوز لندن میں دھماکا۔۔۔۔2عمارتیں تباہ ۔۔بڑے پیمانے پرتباہی


لندن (ویب ڈیسک )غیر ملکی میڈیا کے مطابق دھماکہ ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور میں ہوا ، جس کے بعد آگ لگ گئی، دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، ملبے تلے دب کر چار افراد زخمی ہوگئے مقامی افراد نے ریسکیو عملے کے ساتھ مل کر ملبے تلے دبے افراد کو نکالا،،پولیس نے اسے غیر معمولی واقعہ قرار دیا اور فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع

کردیںدھماکے کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں تاہم دھماکے کی وجوہات کا علم نہیں ہو سکا

پٹرولیم مصنوعات پر 7اقسام کےمختلف ٹیکسوں کی وصولی ،فی لیٹر پٹرو ل پر کتنا ٹیکس لیاجاتاہے؟سرکاری دستاویزات منظر عام پر۔۔۔ہوشرباانکشافات


اسلام آبا د(ویب ڈیسک)وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر 7اقسام کے ٹیکس وصول کئے جانے کا نکشاف ہوا ہے، حکومت کی جانب سے پیٹرول پر 34.24روپے ،ڈیزل پر40.74روپے ،لائٹ ڈیزل پر 9.9 روپے اور مٹی کے تیل پر 13.86روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔دستاویز ات کے مطابق ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 55 روپے 9 پیسے

ہےجب کہ اِس وقت صارفین کیلئے ڈیزل کی قیمت 95 روپے 83 پیسے مقررہے۔اس طرح فی لیٹرڈیزل پر حکومت صارفین سے 40 روپے 74 پیسے ٹیکسز وصول کررہی ہے یعنی ڈیزل کے ہرلیٹر پرعوام سے 74 فیصد ٹیکس وصول کیا جارہا ہے،لائٹ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 54 روپے 40 پیسے ہے جب کہ اِس وقت صارفین کیلئے لائٹ ڈیزل کی قیمت 64 روپے30 پیسے مقررہے۔ اس طرح فی لیٹر لائٹ ڈیزل پر حکومت صارفین سے 9 روپے9 پیسے ٹیکسز وصول کررہی ہے۔ پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 50 روپے 27 پیسے فی لیٹرہے جب کہ صارفین کے لیے پیٹرول کی موجودہ قیمت 84 روپے 51 پیسے ہے۔ اس طرح ایک لیٹر پیٹرول پر حکومتی ٹیکسزکی شرح 34 روپے 24 پیسے فی لیٹرہے۔ یعنی پیٹرول کی مد میں بھی حکومت اس کی اصل قیمت پر 68 فیصد ٹیکس وصول کررہی ہے۔دستاویزات کے مطابق مٹی کے تیل کی ایکس ریفائنری قیمت 56 روپے 4 پیسے ہے جب کہ اِس وقت صارفین کیلئے مٹی کے تیل کی قیمت 70 روپے 26 پیسے مقررہے۔ اس طرح مٹی کے تیل پر حکومت صارفین سے 13 روپے 86 پیسے ٹیکس وصول کررہی ہے۔

دستاویزات کے مطابق حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی،ان لینڈ فریٹ مارجن،او ایم سی ز مارجن ،ڈیلروں کا کمیشن،پیٹرولیم نیوی اور جی ایس ٹی ٹیکسز وصول کرتی ہے۔ حکومت کی جانب سے پیٹرول پر 34.24روپے ،ڈیزل پر40.74روپے ،لائٹ ڈیزل پر 9.9 روپے اور مٹی کے تیل پر 13.86روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔

صولت مرزاکے بعدعزیربلوچ کی زبان بھی کھل گئی ۔۔۔ایسے انکشافات جس سے عوامی نمائندوں کوپاکستان میں چھپنے کی جگہ نہ ملے گی


کراچی(ویب ڈیسک )لیاری گینگ وار کے سربراہ عزیرجان بلوچ نے دوران تفتیش اہم انکشافات کرتے ہوئے159افرادکوقتل کرنے سمیت مختلف وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیاہے۔تفصیلات کے مطابق لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ سے تفتیش میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ عزیر بلوچ نے 159 قتل سمیت مختلف وارداتوں میں ملوث ہونے کا

اعتراف کر لیاہے۔عزیر بلوچ نے واراتیں ضلع ویسٹ ، سٹی اور ساؤتھ میں کیں۔ ذرائع کے مطابق عزیر بلوچ اپنے قریبی راشتے دار کے پاسپورٹ پر بیرون ملک فرار ہوا۔ پاسپورٹ پر راشتے دار کی تصویر ہٹا کر اپنی تصویر لگائی۔ عزیر بلوچ کو کراچی آپریشن شروع ہونے سے پہلے آپریشن کا بتا دیا گیا تھا۔ فیصل پٹھان کو گینگ کی ذمہ داری سونپنے پر گینگ وار 2 دھڑوں میں تقسیم ہوئی تھی۔ سابق چئیرمین فشریز کو عزیر بلوچ کے کہنے پر لگایا گیا تھا۔اچی میں رینجرز سے مبینہ مقابلے میں ہلاک ہونے والے بابا لاڈلا سفاک ملزم سمجھے جاتے تھے، وہ اپنے مخالفین سے انتہائی سفاکانہ انداز میں پیش آتے تھے۔رینجرز ترجمان کے مطابق بابا لاڈلا نے ٹارچر سیل بنا کر خوف و ہراس پھیلا رکھا تھا اور وہ 70 سے زائد وارداتوں میں ملوث تھے۔لیاری کے جرائم پیشہ گروہ وارداتوں کے خلاف ایک دوسرے کے خلاف بھی حملوں اور کارروائیوں میں شامل رہے ہیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق بابا لاڈلا مخالف گروپ کے ارشد پپو اور شیراز کامریڈ کے قتل میں بھی ملوث تھے اور ان مخالفین کو قتل کر کے ان کے لاشوں کے بے حرمتی بھی کی گئی تھی۔رینجرز نے گذشتہ شب لیاری کی

پھول پتی گلی میں بابا لاڈلا کو مبینہ مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔رینجرز ترجمان کے مطابق ملزمان نے آدھے گھنٹے تک مزاحمت کی جس کے دوران رینجرز پر دستی بم پھینکے گئے اور فائرنگ کے تبادلے میں تین ملزمان ہلاک ہو گئے جن کی شناخت نور محمد عرف بابا لاڈلا، سکندر عرف سکّو اور محمد یسین عرف ماما کے نام سے ہوئی ہے۔سندھ ہائی کورٹ نے لیاری گینگ وار کے ایک اور اہم کردار ارشد پپو قتل کیس میں بابا لاڈلا کو مفرور قرار دیا تھا کہ جبکہ اس کیس میں عذیر بلوچ پہلے ہی گرفتار ہیں۔ اس سے قبل بابا لاڈلا کی ایران کے سرحدی علاقوں میں مقابلے میں مارے جانے کی اطلاعات آئی تھیں جس کی مقامی پولیس نے تصدیق نہیں کی تھی۔عبدالرحمان بلوچ عرف رحمان ڈکیت کی ایس پی چوہدری اسلم سے ایک مقابلے میں ہلاکت کے بعد بابا لاڈلا کا نام سامنے آیا تھا۔ وہ گروپ کے سربراہ بننے کے خواہش مند تھے، لیکن گروہ نے عذیر بلوچ کو منتخب کیا۔اس فیصلے کے بعد دونوں میں اختلافات جاری رہے، بزنجو گراونڈ میں فٹبال میچ کے دوران دھماکے کے بعد یہ اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ بابا لالہ گروپ کا خیال تھا کہ بم انھیں ٹارگٹ کرنے کے لیے نصب کیا

گیا تھا۔ جس کے بعد دونوں گروہ ایک دوسرے پر حملہ کرتے رہے۔لیاری گینگ وار کے مرکزی کردار عبدالرحمان بلوچ، ارشد پپو اور بابا لاڈلا مارے جا چکے ہیں

جبکہ عذیر بلوچ اس وقت زیر حراست ہیں۔ رینجرز ترجمان نے واضح کیا ہے کہ وہ نوجوان جو بابا لاڈلا جیسے سرغنہ سے متاثر ہو کر جرائم کی پشت پناہی میں ملوث یا منسلک ہیں ان کے لیے بابا لاڈلا گروپ کی ہلاکت ایک مثال ہے کہ وہ قانون کی گرفت سے نہیں نکل سکتے۔صحافی اور تجزیہ نگار سعید سربازی کہتے ہیں کہ ایک نسل گینگ وار کا حصہ بن چکی ہے۔ بابا لاڈلا کو ختم کرنے سے مسائل ختم نہیں ہوں گے۔ماضی میں بعض سیاسی جماعتیں بھی ان عناصر کی مدد یا حمایت کرتی رہی ہیں، چھوٹے چھوٹے لڑکے ہیں جو یہ دیکھتے ہیں کہ گینگسٹر کے پاس پولیس افسر آ رہا ہے ان کی ذریعے تعیناتی ہو رہی ہے تو یہ لڑکے سوچتے ہیں کہ گینگسٹر ہی اصل مالک اور طاقت ہیں سعید سرباز’ماضی میں بعض سیاسی جماعتیں بھی ان عناصر کی مدد یا حمایت کرتی رہی ہیں، چھوٹے چھوٹے لڑکے ہیں جو یہ دیکھتے ہیں کہ گینگسٹر کے پاس پولیس افسر آ رہا ہے ان کی ذریعے تعیناتی ہو رہی ہے تو یہ لڑکے سوچتے ہیں کہ گینگسٹر ہی اصل مالک اور طاقت ہیں اس لیے ضروری ہے کہ ان کی سیاسی حمایت ختم ہو۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کی ذہنی تربیت اور بیروزگاری بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جس پر توجہ دینے سے لیاری پرامن بن سکتا ہے۔‘یاد رہے کہ 40 سالہ نور محمد عرف بابا لاڈلا نے بھی ایک چھوٹے منشیات فروش کی حیثیت سے جرائم کی دنیا میں قدم رکھا، بعد میں اپنی سخت گیری کی وجہ سے اپنے گروہ میں مقبول ہو کر علاقے میں دہشت کی علامت بن گئے۔

خواجہ سرائوں کی موجیں۔۔حکومت نے اہم ادارے میں نوکریاں دینے کافیصلہ کرلیا


چھتیس گڑھ(ویب ڈیسک)بھارتی اخبار کے مطابق ریاست چھتیس گڑھ کی حکومت نے گذشتہ ماہ خواجہ سراؤں کی پولیس میں بھرتی کا اعلان کیا تھا اور 8 فروری کو اشتہار کے ذریعے درخواستیں طلب کی گئی تھیں جس کے بعد کانسٹیبل کے عہدے کے لئے کم از کم 40 خواجہ سراؤں کی درخواستیں موصل ہو چکی ہیں۔اخبار کے مطابق حکومت کے اس اقدام کا مقصد

مساوات کو فروغ دینا اور خواجہ سراؤں کو قومی دھارے میں لانا ہے۔ حکام نے ریاست میں تمام کیٹگریز کے لئے کانسٹیلز کی دو ہزار سے زائد اسامیوں پر بھرتی کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے خواجہ سراؤں کی سہولت کے لئے ورکشاپس کا انعقاد بھی کیا تھا۔ اُن کاکہنا تھا کہ درخواست گذار کی بھرتی تحریری امتحان پاس کرنے اور فزیکل ٹیسٹ کے بعد عمل میں آئے گی۔واضح رہے کہ ریاست چھتیس گڑھ میں تین ہزار سے زائد خواجہ سرا ہیں۔