Tag Archives: ڈونلڈ ٹرمپ

’’امریکی صدر ٹرمپ کا صدر بننے کے بعد پہلا میڈیکل چیک اپ‘‘


واشنگٹن(نیو زڈیسک )ڈونلڈ ٹرمپ صدرامریکی صدر منتخب ہونے کے بعد پہلا میڈیکل چیک اپ مکمل ہوگیا جس کے بارے میں ترجمان وائٹ ہاوس نے بتایا ہے کہ ہے ڈاکٹروں نے ان کی صحت کو بہترین قرار دیدیا۔تفصیلات کے مطابق دماغی صحت پر مسلسل خدشات کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا پہلا طبی معائنہ والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر میں کروایا ۔

اپنے میڈیکل چیک اپ کے نتائج کا اعلان صدرامریکی صدر منگل کے روز کریں گے ۔ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکا کے صدر کے منتخب ہونے کے بعد سے بے تکی حرکتیں ،زبان پھسلنے جیسے متعدد واقعات رونما ہوئے تھے ۔مائیکل وولف کی نئی کتاب کے مطابق ٹرمپ کے ساتھی انہیں بچوں جیسا قرار دیتے تھے۔بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد ٹرمپ پرخود کو منصب صدارت کیلیے فٹ ثابت کرنے کیلیے دبائوتھا۔

امریکی اخبار نے الزام لگایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی وکیل نے ان کے ایک پورن سٹار سے مبینہ تعلق کو منظر عام پر


واشنگٹن(نیو زڈیسک) امریکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل نے ایک سابق پورن سٹار کو ٹرمپ کے ساتھ مبینہ جنسی تعلق کے بارے میں خاموش رہنے کے لیے ایک لاکھ ڈالر دیے۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ رقم کی ادائیگی صدارتی انتخاب سے ایک ماہ قبل ادا کی گئی۔ یہ وہ وقت تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ پر خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کے حوالے سے

ان پر تنقید کی جا رہی تھی اور وہ ان الزامات کی تردید کر رہے تھے۔امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل مائیکل کوہن نے یہ رقم پورن سٹار سٹیفنی کلفرڈ، جن کا فلمی نام سٹورمی ڈینیئلز ہے، کو اس وقت دی تھی جب وہ اس مبینہ ملاقات کو منظر عام پر لانے والی تھیں۔ایک اور امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ کوہن نے اس ملاقات کی تردید کی ہے تاہم انھوں نے رقم کی ادائیگی کا ذکر نہیں کیا۔دوسری جانب پورن سٹار سٹیفنی نے بھی خاموش رہنے کے لیے رقم ملنے کی تردید کی ہے۔میڈیا کے مطابق یہ مبینہ ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب ٹرمپ کی اپنی تیسری بیوی ملانیا سے شادی ہوئے ایک سال ہو گیا تھا اور وہ حاملہ تھیں۔وال سٹریٹ جرنل کے مطابق یہ رقم سٹیفنی کو اس وقت دی گئی جب وہ اکتوبر 2016 میں اے بی سی ٹی وی چینل کے پروگرام ’گْڈ مارننگ امریکہ‘ اور آن لائن رسالے ’سلیٹ‘ کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں بتانے کے حوالے سے بات چیت کر رہی تھیں۔’سلیٹ گروپ‘ کے ایڈیٹر ان چیف جیکب ویزبرگ نے جمعہ کو کہا کہ اگست اور اکتوبر 2016 میں سٹیفنی کے ساتھ کئی انٹرویوز کیے جن میں انھوں نے بتایا کہ ان کی ٹرمپ کے ساتھ پہلی بار ملاقات سلیبرٹی گولف ٹورنامنٹ میں ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے بعد ان کی ٹرمپ کے ساتھ افیئر بھی چلا۔جیکب کا کہنا ہے کہ ان انٹرویوز میں سٹیفنی نے کہا کہ مائیکل کوہن نے ان کو ایک لاکھ تیس ہزار ڈالر دینے کی پیشکش کی اگر وہ اس افیئر کے بارے میں بات نہ کریں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غصے میں تارکینِ وطن کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے ہیں


واشنگٹن (نیو زڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غصے میں تارکینِ وطن کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے ہیں جس کے بعد اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے صدر ٹرمپ کی مذمت کرتے ہوئے ان کے الفاظ کو حیران کن، شرمناک اور نسل پرستانہ قرار دیا ہے۔امریکی صدر نے تارکینِ وطن کے حوالے سے ہونے والے مذاکرت کے دوران کانگریس ممبران

سے استعفار کیا کہ ’ ہمارے ملک میں ان گھٹیا ممالک سے لوگ کیوں آ رہے ہیں۔‘بتایا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ ہیٹی، ایلسیلواڈور اور افریقی ممالک کے بارے میں یہ الفاظ استعمال کیے ہیں۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے اس بیان کی تردید بھی سامنے نہیں آئی ہے۔خیال رہے کہ حالیہ عرصے میں امریکی انتظامیہ نے ملک میں آنے والے تارکینِ وطن کی تعداد کم کرنے اور پہلے سے ملک میں موجود تارکینِ وطن کے حقوق محدود کرنے کے حوالے سے اقدمات کیے ہیں۔تارکینِ وطن کے حوالے سے معاہدے پر بات چیت کے لیے جمعرات کو ڈیموکریٹ اور ریپبلیکن ارکانِ کانگریس نے صدر ٹرمپ کے دفتر میں ان سے ملاقات کی تھی جس کے دوران صدر ٹرمپ نے یہ متنازع بیان دیا۔صدر ٹرمپ کا ارکانِ کانگریس سے بات کر کہنا تھا کہ امریکہ کو ناروے جیسے ممالک سے تارکینِ وطن لینے چاہیے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ ہمیں ہیٹی سے مزید افراد کی کیوں ضرورت ہے؟ انھیں باہر نکالو۔‘ادھر وائٹ ہاوس کے ترجمان راج شاہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’واشنگٹن میں کچھ سیاستدان دوسرے ممالک کے مفادات کے لیے لڑتے ہیں جبکہ صدر ٹرمپ ہمیشہ امریکی لوگوں کے لیے لڑیں گے۔‘اقوامِ متحدہ کے

انسانی حقوق کے ترجمان روپرٹ کولوائل نے کہا ہے کہ ’ اگر یہ حیران کن اور شرمناک بیان امریکی صدر کی جانب سے دیا گیا ہے تو معاف کیجیے گا یہ سراسر نسل پرستی ہے۔

’’ایران پر نئی پابندیاں‘‘امریکا کیا کرنے والاہے؟ افسوسناک انکشاف


واشنگٹن(نیو زڈیسک ) امریکی وزیر خزانہ سٹیو منچن نے کہا ہے کہ انھ توقع ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر نئی پابندیاں عائد کر گے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خزانہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھ توقع ہے کہ

ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا جائے گا. ماضی م سامنے آنے والی رپورٹس م ان پابندیوں کے تحت ایران کی انفرادی شخصیات اور کاروبار کو ہدف بنایا جائے گا۔ ہماری ان پر نظر رہے گی اور میرے خیال م آپ توقع رکھ کہ مزید پابندیاں لگائی جا رہی ہ ۔ اس سے پہلے برطانیہ کے وزیرِ خارجہ بورس جانسن نے امریکہ کو چیلنج کیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے موجودہ معاہدے سے بہتر متبادل لا کر دکھائے۔برسلز م ایران اور یورپی اتحاد کے اپنے ہم عصروں کے ساتھ مذاکرات کے بعد انھوں نے کہا کہ 2015 م ہونے والا معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے ایک بڑی کامیابی تھی اور ایران اس پر مکمل طور پر عمل کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق وہ ایران سے جوہری معاہدے م ترمیم کرنا چاہتے ہ یا اس سے مکمل طور پر دستبردار ہونا چاہتے ۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ہار مان لی۔۔کس بات پر راضی ہو گئے؟؟؟


واشنگٹن (انقلاب ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے شمالی کوریا سے بات چیت کا عندیہ دے ڈالا۔ ترجمان وائٹ ہائوس کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناہے کہ وہ شمالی کوریا کے صدر کم جو ان سے فون پر بات چیت کےلئے تیار ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریائی صدر سے بات چیت میں کوئی مسئلہ نہیں ۔

انھوںنے مزید کہا کہ شمالی او ر جنوبی کوریا کے مابین بات چیت ایک مثبت پیشرفت ثابت ہو گی۔ واضح رہے کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے مابین حالیہ چند ماہ سے کشیدگی آخری حدوں کو چھونے لگی ہے۔ اور دونوں ممالک ایک دوسرے کو ایٹمی حملوں کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایٹمی پروگرام کے معاملے پر شمالی کوریا کی حکومت سے


واشنگٹن(نیو زڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایٹمی پروگرام کے معاملے پر شمالی کوریا کی حکومت سے براہ راست بات چیت کے لیے تیار ہیں اس کے لیے وہ کم جونگ ان کو فون بھی کرسکتے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کیمپ ڈیوڈ میں نیوز کانفرنس کے دوران امریکی صدر سے ایک صحافی نے پوچھا کہ

شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کے معاملے پر کیا آپ ان کی حکومت سے بات چیت کرسکتے ہیں؟ ٹرمپ نے جواب دیا کہ یقیناً، میں بات چیت پر ہمیشہ یقین رکھتا ہوں۔امریکی صدر نے جواب میں کہا کہ مذاکرات کے لیے کم جونگ ان سے بھی بات کرسکتا ہوں اور انہیں فون بھی کرسکتا ہوں، اگر مذاکرات سے ہم انتہائی پرامن اور بہترین حل کی طرف چلے جائیں تو یہ پوری انسانیت اور پوری دنیا کے لیے ایک بہتر اقدام ہوگا۔دریں اثنا ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ اگلے ماہ جنوبی کوریا میں ہونے والے سرمائی اولمپکس میں شمالی کوریا تعاون کرے گا۔واضح رہے کہ 2017 کے دوران شمالی کوریا نے ایٹم بموں کے علاوہ کئی بیلسٹک میزائلوں کے بھی کامیاب تجربات کرتے ہوئے امریکا کو براہ راست دھمکی دی تھی جب کہ متعدد مرتبہ جوہری میزائل تجربے کے سبب اقوام متحدہ اور امریکا کی جانب سے شمالی کوریا پرسخت اقتصادی پابندیاں عائد کی گئی ہیں

امریکی اخبار نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انتباہ کیا ہے کہ واشنگٹن کو دی گئی رسائی پاکستان کسی بھی لمحے


واشنگٹن(نیو زڈیسک) امریکی اخبار نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انتباہ کیا ہے کہ واشنگٹن کو دی گئی رسائی پاکستان کسی بھی لمحے بند کرسکتا ہے۔امریکا کے صف اول کے اخبار نے اپنے اداریے میں خبردار کیا کہ صدر ٹرمپ اس بات کے متحمل نہیں ہوسکتے کہ پاکستان کو چھوڑ دیں تاہم ٹرمپ کے پاکستان کے خلاف فیصلے سے لگتا نہیں کہ ان کے پاس اثرات سے

نمٹنے کی پالیسی موجود ہے ۔امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ کا پرانے پارٹنرز کو امریکا سے دور کرنے کا فیصلہ چین کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا جب کہ ٹرمپ انتظامیہ کو دیگر سفارتی طریقے اپنانے چاہییں۔امریکی اخبار نے ٹرمپ کو انتباہ کیا کہ سعودی عرب اور امارات سے تعلقات استعمال میں لانے چاہییں اور امریکا کو پاکستان سے تعاون کے لیے شور مچانے کے بجائے خاموش بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے اہم خفیہ معلومات اکثر امریکا کو فراہم کی ہیں اب یہ دیکھنا ہوگا کہ امداد منجمد کرنے پر پاکستان تعاون کرتا بھی ہے یا نہیں ۔امریکی اخبار کے مطابق افغانستان کے لیے ہر فوجی پرواز پاکستانی فضا سیگزرتی ہے، زیادہ ترسپلائی پاکستانی ریل یا روڈ سے ہوتی ہے تاہم امریکا کو دی گئی رسائی پاکستان کسی بھی لمحے بند کرسکتا ہے۔اخبار نے اپنے اداریے میں امریکی صدر کو مشورہ دیا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ذریعے طالبان کی خلیج فارس میں فنڈز اکھٹا کرنے کی کوشش ناکام بنانا چاہیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف ایسا اقدام اٹھا لیا گیا کہ امریکی صدر سر پکڑ کر بیٹھ گئے


واشنگٹن (نیو زڈیسک )ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ٹوئیٹ کی وجہ سے اس وقت سے خبروں میں ہیں، جب وہ امریکا کے صدر بھی نہیں بنے تھے۔تاہم دنیا کے سپر پاور ملک کے سب سے اہم عہدے پر براجمان ہونے کے بعد وہ اپنی ٹوئیٹس کی وجہ سے اور بھی زیادہ خبروں میں رہنے لگے۔لیکن ساتھ ہی ان کے ٹوئٹر اکانٹ کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کے مطالبے بھی

ہونے لگے، جو اس وقت زور پکڑ کر ایک مہم کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔اگرچہ نومبر2017 میں ٹوئٹر کے ایک ملازم نے غلطی میں ڈونلڈ ٹرمپ کا اکانٹ چند لمحوں کے لیے معطل بھی کردیا تھا، تاہم ان اکانٹ مکمل طور پر بند ہونے کی لوگوں کی خواہش پوری نہ ہوسکی۔ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے وہ واحد سیاستدان، ریاست کے سربراہ اور دنیا کے سب سے فیصلہ ساز اور طاقتور انسان ہیں، جن کی ٹوئیٹس عام افراد سے بھی گئی گزری ہوتی ہیں۔تاہم اس کے باوجود ٹوئٹر ان کا اکانٹ معطل کرنے سے قاصر ہے، اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسی ایک ٹوئیٹ بھی کوئی اور شخص کرتا ہے تو فورا اس کا اکانٹ معطل کردیا جاتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دسمبر 2017 اور جنوری 2018 کی ابتدائی ٹوئیٹس کے بعد جہاں وائیٹ ہاس اور ٹوئٹر ہیڈ کوارٹر کے سامنے مظاہرے کرکے مطالبہ کیا گیا کہ امریکی صدر کا ٹوئٹر اکانٹ معطل کیا جائے۔وہیں اب ان کے اکانٹ کو بند کرنے کے لیے ایک آن لائن مہم کا آغاز بھی کردیا گیا۔تاہم ٹوئٹر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اکانٹ کو معطل نہ کیے جانے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی منتخب عالمی رہنماں کے ٹوئٹر اکانٹس معطل نہیں کرسکتی۔ٹوئٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ان کی جانب سے سیاستدانوں کی ٹوئیٹس پر بحث کی گئی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ منتخب عالمی رہنماں کے اکانٹ معطل نہیں کیے جائیں گے۔

ٹوئٹر نے وضاحت کی کہ منتخب عالمی رہنماں کی ٹوئیٹس میں اہم سیاسی معلومات ہوتی ہے، جس سے جہاں لوگوں میں بحث ہوتی ہے، وہیں اس سے دنیا کے لوگ باخبر بھی ہوتے ہیں

امریکی صحافی نے ٹرمپ کا چہرہ بے نقاب کر دیا ، ایسے انکشافات کہ پورے امریکہ میں ہلچل مچ گئی


نیویارک(نیو زڈیسک ) ہر وقت تنازعات میں گھرے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدِ صدارت کے ایک سال مکمل ہونے پر صحافی مائیکل وولف کی کتاب فائر اینڈ فیوری میں ان کی شخصیت اور عہدِ صدارت کے بارے میں خوفناک انکشافات کیے گئے ہیں۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کتاب 9 جنوری کو فروخت کیلیے پیش کی جارہی ہے

اور ایمیزون کی ویب سائٹ پر اس کی فروخت سے قبل کے آرڈر لیے جارہے ہیں جس کی بنا پر اسےبیسٹ سیلر کتاب قرار دیا جارہا ہے،اس کتاب نے ایمیزون پر موجود لاکھوں کتابوں میں سے بہت تیزی سے48 ہزار 448 درجے اوپر آکر ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے اس کتاب پر پابندی لگانے پر غور شروع کردیا ہے اور ٹرمپ اپنے قانونی ماہرین سے کتاب کے مصنف مائیکل وولف اور پبلشر پر ہتکِ عزت کے دعوے پر بھی غور کررہے ہیں،ناقدین نے اس کتاب کے مندرجات کو پڑھ کر اسے صدر ٹرمپ کے بارے میں دھماکہ خیز انکشافات کا مجموعہ قرار دیا ہے، مائیکل وولف نے امریکی صدر کے بارے میں اپنے انکشافات کے بارے میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ ملازموں پر چیختے اور چلاتے ہیں، ایک وقت میں3 ٹی وی دیکھتے ہیں اور اپنی ذاتی اشیا پر کسی کو ہاتھ نہیں لگانے دیتے جبکہ انہیں ڈر ہے کہ کوئی ان کے ٹوتھ برش پر زہر لگادے گا،وہ شام کو ساڑھے6 بجے اپنے بستر پر بیٹھ کر پنیر برگر کھاتے ہیں۔ارب پتی ٹام بیرک صدر ٹرمپ کو پاگل اور بے وقوف کہہ کر پکارتیہیں جبکہ روپرٹ مرڈوخ ٹرمپ کو احمق قرار دیتے ہیں۔

ٹرمپ اپنے دوستوں کی بیویوں پر نظر رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں برے الفاظ ادا کرتے رہے ہیں۔صدر ٹرمپ کے ایک معاون نے کہا کہ وہ ضروری کاغذات بھی نہیں پڑھتے۔ٹرمپ ضد میں آکر فوری طور پرٹویٹ کا جواب دیتے ہیں۔ ان کی ٹویٹس صرف ایک سوشل میڈیا معاون دیکھتا ہے جسے ٹرمپ نے ایک اہم عہدہ دے رکھا ہے تاہم صدر اپنے

ٹویٹ خود لکھتے ہیں۔صدر ٹرمپ اپنے ملازموں پر شور مچاتے ہیں اور انہیں سخت الفاظ سے بھی پکارتے ہیں۔حال ہی میں ایک شاندار دعوت پر ٹرمپ نے اپنے پرانے دوستوں کو پہچاننے سے انکار کردیا اور بسا اوقات ایک وہ دس منٹ میں ایک بات تین تین مرتبہ بیان کرتے ہیں۔امریکی صدر نے اپنے اسٹاف کے بارے میںکچھ یوں کہا: بینن بے کار ہے،

پریبیئس بونا ہے اور کیلیان کونوے ہمہ وقت روتی رہتی ہے،اس کے علاوہ ٹرمپ اپنے عملے کو غائب دماغ، بےوقوف، مایوسانہ انداز والا، نا اہل اور بے کار کے علاوہ بہت سی گالیاں بھی دیتے ہیں۔ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا اپنے والد کے بالوں اور ہیئر اسٹائل کا مذاق اڑاتی رہتی ہیں۔واضح رہے کہ ٹرمپ کے اسٹریٹجک ایڈوائزر اسٹیو بینن نے کہا تھا

کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے نے ٹرمپ ٹاور میں روسی افسران سے ملاقات کی تھی جسے بینن نے غداری اور بے وفائی سے تعبیر کیا تھا۔

امریکا اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں تناؤ


اسلام آباد(نیو زڈیسک ) ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے وسائل سے لڑی ہے اور 15 سالوں میں 120 بلین ڈالرز خرچ کیے امریکی صدر کی پاکستان مخالف ٹوئٹ کے بعد امریکا اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں تناؤ آگیا ہے اور دونوں طرف سے بیان بازی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔پاکستان نے

امریکی صدر کے بیان کو یکسر مسترد کردیا ہے اور قومی سلامتی کمیٹی نے اسے افسوسناک قرار دیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹوئٹ اور امریکی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کا نام واچ لسٹ میں ڈالنے پر دفتر خارجہ نے بھی رد عمل جاری کیا ہے۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ سیکیورٹی معاملات پر امریکی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور امریکی انتظامیہ کے جواب اور تفصیلات کا انتظار ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے وسائل سے لڑی ہے اور 15 سالوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 120 بلین ڈالرز خرچ کیے، ہم اپنے شہریوں اور خطے کے امن کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف پاک امریکی اتحاد در حقیقت امریکی قومی سلامتی کے مقاصد پورے کرتا ہے اور پاک امریکا انسداد دہشت گردی تعاون کا فائدہ سب سے زیادہ امریکا اور عالمی برادری کو ہوا ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں دونوں ملکوں کے لیے مشترکہ خطرہ ہیں اور پاکستان کے اقدامات سے القاعدہ سمیت دیگر دہشت گرد گروپوں کا خاتمہ ممکن ہوا ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں داعش کی

موجودگی خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے جب کہ پاکستان نے پاک افغان سرحد پر بہترین بارڈر مینیجمنٹ کا نظام متعارف کرایا لیکن افغانستان میں امن افغان حکومت کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں امریکی صدر کی ٹوئٹ کے بعد اب امریکا نے پاکستان کو مذہبی آزادی کی مبینہ سنگین خلاف ورزی کرنے والے ممالک سے متعلق خصوصی واچ لسٹ میں بھی شامل کردیا ہے۔