Tag Archives: فیس بک

فیس بک نے ’ڈاؤن ووٹ‘ فیچر کی آزمائش شروع کردی


کیلیفورنیا: فیس بک ایک نئے فیچر کی آزمائش کررہا ہے جس میں صارفین تبصرے یعنی’کمنٹ‘ پر منفی ردعمل رجسٹر کراسکیں گے جسے ’ڈاؤن ووٹ‘ بٹن کا نام دیا گیا ہے تاہم یہ ’ڈس لائک‘ جیسا نہیں ہوگا۔جس کمنٹ کو آپ ناپسندیدہ قرار دے کر ڈاؤن ووٹ کریں گے، وہ فوری طور پر اپ کی نگاہوں سے اوجھل یعنی آپ کی وال سے غائب تو ہوجائے گا تاہم فیس

بک اس کی وجہ جاننے کےلیے آپ سے کچھ سوال پوچھے گا۔ اس پر صارف کو بتانا پڑے گا کہ یہ کمنٹ ناپسندیدہ، گمراہ کن، غیراخلاقی یا کچھ اور ہے۔فیس بک کے ترجمان نے نئی اپ ڈیٹ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ڈاؤن ووٹ بٹن ابھی آزمائشی مراحل میں ہے اور مکمل تجربے اور تجزیئے کے بعد اسے باقاعدہ طور پر متعارف کرایا جائے گا۔فیس بک ترجمان نے مزید کہا کہ فی الحال اس آپشن کو امریکہ میں چند لوگ استعمال کررہے ہیں جن کی آزمائش کے بعد ان سے اس فیچر کے بارے میں رائے لی جائے گی۔کمپنی نے واضح کیا ہے کہ کمنٹ پر ملنے والے ڈاؤن ووٹ کی تعداد کو بھی صارفین سے خفیہ رکھا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد عوامی صفحات کی پوسٹ پر تبصروں کی صورت میں فیڈ بیک حاصل کرنا ہے۔فیس بک نے ’لائک‘ آپشن پر صارفین کی خواہشات پر ’ڈس لائک‘ کا بٹن متعارف کرانے کی کوشش کی تھی تاہم منفی نتائج کے خدشے کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے روک دیا گیا اور اس کے بعد پوسٹ پر ردعمل کے اظہار میں نئے ایموجیز متعارف کرائے گئے۔

فیس بک اب صارفین کی سماجی اور معاشی حیثیت کا اندازہ بھی لگائے گا


کیلیفورنیا: فیس بک اب صارفین کی سماجی اور معاشی حیثیت کا اندازہ بھی لگائے گا اور بتائے گا کہ صارف کا تعلق امیر طبقے سے ہے یا غریب طبقے سے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فیس بک نے اپنے سسٹم کو اپ گریڈ کرنے کے لیے ایک قسم کی ٹیکنالوجی پیٹنٹ کی درخواست دی ہے جس کے تحت صارف سے اس کا ذاتی ڈیٹا حاصل کیا

جائے گا، مثلاً صارف سے اس کی تعلیمی قابلیت، حق ملکیت، انٹرنیٹ استعمال کرنے کا اوسط وقت اور دیگر معلومات حاصل کرکے اس ٹیکنالوجی کے ذریعے از خود انہیں 3 اقسام میں تقسیم کرکے متعلقہ گروپ میں شامل کردیا جائے گا۔صارف کی مالی حیثیت کا اندازہ لگانے والی اس ٹیکنالوجی میں خاص الگورتھم استعمال کیا جائے گا جس کا پیٹنٹ فیس بک نے اپنے نام کرنے کی درخواست دائر کی ہے۔یہ پیٹنٹ صارف کی سماجی اور معاشی حیثیت کا اندازہ لگا کر اس کی سماجی معاشی حیثیت تجویز کرے گا جس کے بعد مذکورہ صارف کو امیر، متوسط یا غریب طبقے میں شامل کرلیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کو ان کی مالی حیثیت کے مطابق اشتہارات فراہم کرنا ہے تاکہ فیس بک متعلقہ طبقے تک اشتہارات باآسانی پہنچا سکے اور اپنے اہداف کا تعین سہل اندازمیں کرنے کی خاصیت حاصل کرسکے۔فیس بک اس نئے اقدام کے ذریعے سے ان تیسرے فریقین (تھرڈپارٹی) کی مدد کرے گا جس کے ذریعے ان اداروں کو متعلقہ حلقوں تک اپنے اشتہارات پہنچانے میں مدد ملے گی۔ یہ ٹیکنالوجی فیس بک نے اشتہارات کے لیے ذیادہ فوکس صارفین کی درجہ بندی کے لیے تیار کی ہے۔

فیس بک کا اپنے صارفین کیلئے انوکھا تحفہ ، جان کر آپ بھی یقین نہیں کرینگے


اسلام آباد(نیوز ڈیسک)فیس بک نے اپنے سالانہ فرینڈز ڈے کے موقع پر صارفین کے لیے فرینڈز ایوارڈ کا اعلان کیا ہے۔ویسے تو عالمی سطح پر اگست کے پہلے اتوار کو دوستی کا عالمی دن منایا جاتا ہے مگر فیس بک نے چار فروری کو اپنا فرینڈز ڈے بنا رکھا ہےجو کہ درحقیقت کمپنی کی اپنی سالگرہ کا دن ہے۔چار فروری 2004 میں فیس بک کا آغاز مارک

زکربرگ نے کیا اور اب وہ 14 سال کی ہوگئی ہے۔اس موقع پر فیس بک کی جانب سے فرینڈز ایوارڈ نامی فیچر متعارف کرایا ہے جو کہ نیوزفیڈ کے اوپر مختلف ویڈیوز کی شکل میں پیغامات ظاہر کرے گا۔

فیس بک اس سال کیاکرنیوالی ہے؟بانی کے اعلان نے ہلچل مچادی


لندن(انقلاب ویب ڈیسک)دنیا بھر میں سوشل میڈیا سائٹ فیس بک جس تیزی سے مقبول ہورہی ہے اسی تیزی سے جعلی خبروں نے بھی اس کی مقبولیت کو متاثر کیا ہے تاہم اب فیس بک نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لئے 2018 کو اہم سال قرار دیا ہے۔فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ 2018 فیس بک سے جعلی خبروں کے خاتمے کاسال ہوگا۔

جعلی خبروں کی روک تھام اور نفرت کے پرچار کو روکنا کسی چیلنج سے کم نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کمپنی نے جعلی خبروں کی روک تھام اور اس پلیٹ فارم کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے اپنی پالیسیز کے نفاذ میں بہت سی غلطیاں کیں۔مارک زکربرگ نے اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں کہا کہ وہ 2018 کو ذاتی اصلاح کا سال بنانا چاہیں گے جس میں فیس بک کا غلط استعمال اور جعلی خبریں روکنے کے لئے واضح پالیسی دیں گے۔مارک نے کہا کہ دنیا بہت تقسیم اور پریشان ہے اور اس صورتحال میں فیس بک کو بہت کچھ کرنا ہے تاکہ دنیا کو نفرت اور محرومیوں سے نکالا جاسکے۔فیس بک کے بانی کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے اس پلیٹ فارم کو ان لوگوں کے لئے مفید بنانا ہے جو اپنا بہت سا قیمتی وقت یہاں صرف کرتے ہیں

پاکستانیوں کے لیے بڑی خبر فیس بک نے پاکستانیوںبارے تہلکہ خیزانکشاف کردیا


اسلام آباد(انقلاب ویب ڈیسک)فیس بک نے اپنی ششماہی ٹرانسپیرنسی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے فیس بک صارفین کا ڈیٹاحاصل کرنے کیلئے درخواستوں میں اضافہ دیکھا گیا۔فیس بک کے مطابق پاکستانی حکومت نے 1540 صارفین یا اکاو نٹس کے بارے میں ڈیٹا طلب کیا، یہ تعداد جولائی 2016 سے دسمبر 2016 تک 142، جبکہ جنوری

سے جون 2016 کے دوران 1015 تھی۔1540 اکاو نٹس یا صارفین کے لیے 1050 درخواستوں میں سے فیس بک نے 63 فیصد پر تعاون کرتے ہوئے حکومت کو ڈیٹا یا معلومات فراہم کیں۔اس سے ہٹ کر بھی پاکستان کی جانب سے فیس بک سے کسی جرم کی تحقیقات کے لیے 399 درخواستوں کے ذریعے 613 اکاونٹس یا صارفین کا ڈیٹا یا ریکارڈ محفوظ کرنے کی درخواست کی گئی، یہ تعداد گزشتہ سال کی دوسری ششماہی میں 442

، جبکہ جنوری سے جون 2016کے دوران 280 درخواستوں کے ذریعے 363 صارفین یا اکاو نٹس کا ڈیٹا یا ریکارڈ محفوظ رکھنے کی درخواست کی گئی تھی۔
اس رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)کی قانونی درخواستوں کی بنا 177 پیجز یا انفرادی اکاو نٹس پر ایسے مواد کو بلاک کیا گیا جو کہ پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی، توہین مذہب یا ملکی خودمختاری کے خلاف تھا، جولائی سے دسمبر 2016 میں تعداد 6 جبکہ جنوری سے جون 2016کے دوران 25 تھی۔

حکومت پاکستان کی جانب سے جولائی سے دسمبر 2015 کے دوران 471، جنوری سے جولائی

2015 میں 192 درخواستوں کے ذریعے 275 اکاو¿نٹس جبکہ جولائی 2014 سے دسمبر 2014 کے درمیان 100 درخواستوں کے ذریعے 150 صارفین یا اکاو¿ نٹس کا ڈیٹا طلب کیا گیا تھا۔

دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ فیس بک نے پہلی بار اعتراف کیا ہے


نیویارک (نیو زڈیسک )دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ فیس بک نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ سوشل میڈیا کا زیادہ اور فالتو استعمال لوگوں کیلئے خطرناک ہوسکتا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق فیس بک نے وضاحت کی کہ یہ صارف کی پسند پر منحصر ہے کہ وہ سوشل میڈیا کا کس طرح استعمال کرتا ہے ٗبرے اور فالتو مقصد سے سوشل میڈیا کا

استعمال خطرناک ہوسکتا ہے۔فیس بک کی جانب سے یہ اعترافی بیان ایک ایسے وقت میں آیا جب اس سے پہلے صدرسین پارکراورسابق نائب صدرچماتھ پلی ہپی تیا کی جانب سے یہ بیانات دئیے گئےکہ فیس بک لوگوں کو سماج سے الگ کر رہا ہے۔فیس بک کے سابق ملازمین نے اعتراف کیا کہ انہیں افسوس ہے کہ وہ ایسے ٹولز بنانے میں ویب سائٹ کے شراکت دار رہے جنہیں استعمال کرتے ہوئے عام عوام کی بہتری، کسی کے ساتھ تعاون اور غلط معلومات کو پھیلنے سے روکنے سے متعلق کوئی مدد نہیں لی جاسکتی۔فیس بک کے پہلے صدر سین پارکر نے 30 نومبر کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ سماجی رابطے کی یہ ویب سائٹ دنیا کو دیوانہ بنا رہی ہے اور اسے ممکنہ طور پر لوگوں کی زندگیاں تباہ کرنے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔سین پارکر کے بعد تین دن قبل ہی سابق نائب صدرچماتھ پلی ہپی تیا نے اعتراف کیا کہ انہوں نے سوشل ویب سائٹ کے صارفین کی تعداد بڑھانے کیلئے ایسے ٹولز بنائے جن سے زیادہ سے زیادہ لوگ ویب سائٹ کو استعمال کرنے لگے اور سماج سے بے خبر ہوتے گئے۔انہوں نے پچھتاوے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں افسوس ہے

کہ انہوں نے ایک ایسی ویب سائٹ کیلئے مدد فراہم کی، جس نے لوگوں کو سماج سے الگ کردیا ٗان دونوں کے بیان کے بعد فیس بک کی جانب سے اپنی بلاگ پوسٹ اور ویڈیو میں بھی اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ اور فالتو استعمال خطرناک ہوسکتا ہے۔فیس بک کے ڈائریکٹر آف ریسرچرز ڈیوڈ گنجزبرگ اور ریسرچ سائنٹسٹ موئرا برکے

نے اپنی پوسٹ اور ویڈیو میں فیس بک کا نام لیے بغیر مجموعی طور پر سوشل میڈیا کے نقصانات اور فوائد پر بات کی۔فیس بک کی پوسٹ میں سوشل میڈیا کے زیادہ اور فالتو استعمال پر ہونے والی اب تک کی عالمی یونیورسٹیز کی تحقیقاتی رپورٹس کو بھی شامل کیا گیاجن میں بتایا گیا کہ سوشل میڈیا کا زیادہ اور فالتو استعمال انسانوں اور خصوصی طور پر

نوجوانوں کے لیے خطرناک ہے تاہم فیس بک ریسرچرز کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ صرف سکے کا ایک رخ ہے، جس سے انہیں انکار نہیں، لیکن اسی سکے کا دوسرا رخ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال سے سماج اور لوگوں کی زندگیوں میں بہتریاں بھی آئی ہیں اور اس حوالے سے متعدد تحقیقات بھی ہوچکی ہیں، تاہم ان پر بات نہیں کی جاتی۔

فیس بک ریسرچرز نے اعتراف کیا کہ کسی بھی سوشل نیٹ ورک کے زیادہ اور فالتو استعمال کے نقصانات ہیں تاہم اگر سوشل میڈیا کو خاص اور سماج کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے استعمال کیا جائے تو اس کے فوائد بھی نکلیں گے۔فیس بک تحقیق کاروں کا کہنا تھا کہ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ پہلے ہی کہ چکے ہیں کہ وہ اس ویب سائٹ کو

زیادہ سے زیادہ لوگوں کے درمیان روابط اور سماجی بہتری کے لیے استعمال کرنے کے عزم کا اعادہ کر چکے ہیں ٗفیس بک تحقیق کاروں نے اپنی پوسٹ اور ویڈیو میں واضح طور پر یہ تسلیم نہیں کیاکہ ان کی ویب سائٹ لوگوں یا سماج پر اثرات مرتب کر رہی ہے۔خیال رہے کہ اس وقت فیس بک کے دنیا بھر میں دو ارب سے زائد صارفین ہیں، اور اوسطا لوگ

فیس بک کو یومیہ 50 منٹ تک استعمال کرتے ہیں۔فیس بک سمیت دیگر سوشل ویب سائٹ کے استعمال سے متعلق متعدد عالمی یونیورسٹیز کی تحقیقات میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال لوگوں اور خصوصی طور پر نوجوانوں کو مایوسی کا شکار بنا رہا ہے۔تاہم تمام تحقیقات کے سامنے آنے کے باوجود فیس بک سمیت دیگر سوشل میڈیا صارفین میں کمی کے باوجود اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔

سماجی رابطے کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بک نے اپنے صارفین کے لیے ”گریٹنگ فیچرز“ متعارف کروا دیئے ،


کیلی فور(نیوز ڈیسک) سماجی رابطے کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بک نے اپنے صارفین کے لیے ”گریٹنگ فیچرز“ متعارف کروا دیئے ، جو کہ جلد ہی پاکستان سمیت دنیا بھر کے صارفین استعمال کرسکیں گے۔رپورٹس کے مطابق یہ فیچر ز نئے دوست بنانے اور پرانے دوستوں کے لیے جذبات کا اظہار کرنے کی غرض سے بنائے گئے ہیں۔

گریٹنگ فیچرز میں فیس بک کا پرانا ‘پوک’ آپشن بھی شامل ہے جس سے صارف دوسرے صارف کو اپنی موجودگی کا احساس دلاتا تھا۔اس کے علاوہ 4 مزید آپشنز بھی شامل کیے گئے ہیں جن میں ہیلو، ہگ، وِنک اور ہائی فائیو شامل ہیں۔اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے صارف کو اپنی پروفائل میں جانا ہوگا جہاں ہیلو بٹن میسر ہوگا، اس پر کلک کرکے رکھنے سے گریٹنگ کے پانچوں آپشن واضح ہوجائیں گے اور صارف اپنے دوست کے لیے جو گریٹنگ پسند کرنا چاہے، اس کا انتخاب کرسکتا ہے۔