Tag Archives: شاہد خاقان عباسی

شوبز حلقوں میں آجکل وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی او راداکارہ ریشم کے تعلق پر کافی چرچے


اسلام آباد(نیو زڈیسک )شوبز حلقوں میں آجکل وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی او راداکارہ ریشم کے تعلق پر کافی چرچے ہو رہے ہیں ۔ شوبز سے تعلق رکھنے والے بااثر افراد اداکارہ ریشم کے ذریعے اپنی سفارشات وزیر اعظم تک پہنچا رہے ہیں۔ مصدقہ ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی او راداکارہ ریشم کے درمیان گزشتہ 4سال سے تعلقات قائم ہیں

لیکن لیکن شوبز انڈسٹری س وابستہ لوگوں نے اس وقت صنعت کی بہتر ی کیلئے اداکارہ ریشم سے بہت توقعات وابستہ کی وہوئی ہیں کیونکہ شوبز حلقوں میں یہ بات عام ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اداکارہ ریشم کی ہر بات نہ صرف توجہ سے سنتے ہیں بلکہ اس پر عمل درآمد بھی کرواتے ہیں ۔ وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی کے دورہ لندن کے موقع پر بھی اداکارہ ریشم کو انکے ساتھ دیکھا گیاتھا۔

وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ کوئی مانے یا نہ مانے ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں


سیالکوٹ ( نیو زڈیسک ) وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ کوئی مانے یا نہ مانے ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل کرکے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیالکوٹ انٹرنیشنل ائیرپورٹ،ایوان صنعت وتجارت اور وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف کے گھر ورکر کنونشن سے

خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف اور مشیر ہوابازی مہتاب عباسی بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں نیٹو کی ڈھائی لاکھ فوج امن قائم کرنے میں ناکام رہی جبکہ اسکے برعکس پاکستان نے محدود وسائل سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کیں اور افراتفری کی پیدا شدہ صورتحال میں ملک کو استحکام کی جانب گامزن کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک میں معیاری تعلیم نہ ہو وہ ملک دنیا میں پیچھے رہ جاتے ہیں لہٰذا ہم تعلیمی میدان میں اصلاحات لارہے ہیں اور ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی قائم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی دنیا کے پانچ خطرناک ترین شہروں میں شامل تھا اور ہم نے اسکو امن کا گہوارہ بنادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نندی پور پاور پلانٹ کے منصوبہ ہم نے مکمل کیا اوربدنامہ بھی ہماری ہوئی حالانکہ یہ منصوبہ پچھلی حکومتوںکا تھا جو کہ2006میں شروع کیا گیا۔ انہوں نے کہ بجلی کا بحران بڑا تھا تاہم ہماری حکومت نے 10ہزار میگا واٹ بجلی کے منصوبوں پر نہ صرف کام شروع کیا بلکہ انہیں بروقت مکمل بھی کیا اور اب انشا اللہ15سال تک بجلی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور انشا اللہ بجلی کی قیمتوں میں کمی

بھی لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے ادوار میں عوام اور کاروباری برادری کے پاس سوئی گیس نہیں تھی ،سی این جی میسر نہیں تھی تاہم آج ہم اس حوالے سے خود کفیل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے چار پانچ سال میںانتشار پھیلانے کی کوشش کی گئی پر ہم نے مشکلات کے باوجود اپنا کام جارکھا جس کا رزلٹ آج سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت

ملک میں تین بڑی سیاسی جماعتوں کی حکومت ہے مگر سب سے اچھی کارکردگی صوبائی حکومت پنجاب کی ہے جہاں عوام کے مسائل کو حل کرکے انکو بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جارہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جب وہ پشاور یونیورسٹی میں پڑھتے تھے تو لواری ٹنل کا کام شروع کیا گیا جسے ہماری حکومت نے پائی تکمیل تک پہنچا دیا ہے اور اسی

طرح گوادر پورٹ پر6وزیر اعظموں کے ناموں کی تختیاں لگائی گئی ہیں جبکہ اس منصوبے کا کامیابی سے آغاز سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں ہوا اور ہم نواز شریف کے ویثرن کے مطابق ہی آگے بڑھیں گے۔ اس کے باوجود کہ ہماری خلاف دھرنے دیئے گئے اور سیاسی عدم استحکام پیدا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک میں سیاسی استحکام ہو گا تو

معاشی خوشحالی آئے گی۔28جولائی کے فیصلے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس سے ن لیگ کی حکومت کو بڑا دھچکا لگا مگر اسکے باوجود ہم نے ملک کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس سے پہلے وزیر اعظم پاکستان شاہد خانان عباس نے اپنی آمد پر سیالکوٹ

انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر نئے ٹرمینل کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر این ایچ اے کی جانب سے سیالکوٹ تا لاہور موٹر وے ، رنگ روڈ، فلائی اوورو دیگر منصوبہ جات جن کی لاگت200ارب روپے بتائی جارہی ہے کہ حوالے سے بریفننگ دی گئی۔ وزیر اعظم پاکستان

نے شاہد حاقان عباس نے سیالکوٹ چیمبر میں مقامی درآمدکنندگان اور برآمدکنندگان کے مطالبے پر کہا کہ کسٹم، سیلز ٹیکس، ڈی ایل ٹی ایل وزیر اعظم پیکج 10ارب روپے کے زیر التو10ارب روپے کے ری فنڈز15فروری تک اداکر نے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ

حکومت کے پاس وسائل ہونگے تو ملک معاشی اور اقتصادی ترقی کرے گا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کامرس اینڈ بزنس سینٹر سیالکوٹ میں نادرہ اور پاسپورٹ کے دفاتر قائم کرنے کا اعلان کیا جبکہ وفاقی وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے سمبڑیال کے قریب یونیورسٹیوں کی500ایکڑ زمین پر30ایکڑ نسٹ اور35ایکڑ بحریہ یونیورسٹی کے لئے جگہ مختص کرنے کا اعلان کیا جسکی منظوری وزیر اعظم نے دی۔ بعدازاں وزیر

اعظم شاہد حاقان عباس وفاقی وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کے گھر گئے جہاں ورکروں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 28جولائی کو جب عدالت نے فیصلہ کیا یہ مشکل مرحلہ تھا مگر مسلم لیگ ن کی سب سے بڑی طاقت ہے کہ اس وقت کوئی وزیر

اعظم کا امیدوار نہیں تھا جو فیصلہ پارٹی نے کیا وہ سب نے قبول کیا۔ نواز شریف ہمار ا لیڈ ر ہے ہمارا20سال میں ایک ہی لیڈر تھا آج بھی ہے اور کل بھی رہے گے۔ انہوں نے کہا کہ جوسیاست بدل لیتے لیڈر بدل لیتے ہیں وہ سیاست کی خدمت نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ

مجھے اخباروں نے بڑی تنقید کا نشانہ بنایا مگر میں حقیقت بات کرتا ہوں کہ پاکستان کی عوام نے میاں نواز شریف کووزیر اعظم بنایا تھا اور میرا وزیر اعظم آج بھی نواز شریف ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پی ایم ایل این کی کامیابی ہے کہ جو ایم

این یہاں بیٹھے ہیں ان میں سے کسی کو بھی پارٹی وزیر اعظم بناتی وہ سب کو قبول ہوتا اور یہی جمہوریت اور سیاست کی کامیابی ہے اور اس سے بڑی سیاست کی تاریخ میں کوئی کامیابی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت متحد ہے اور ہمیں کسی قسم کی شرمندگی نہیں کیونکہ

پی ایم ایل این اے نے عوام سے کئے وعدوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔ انہوں نے میں ہمیشہ کہتا ہو کہ سیاست کے فیصلے عدالتوں میں نہیں ہوتے اور جب جب عدالتوں نے سیاسی مقدمات کے فیصلے کئے نہ تاریخ نے مانا اور نہ ہی عوام نے انہیں قبول کیا، انہوںنے کہا کہ

فیصلے پولنگ اسٹیشنوں پر ہوتے ہیں اور آئندہ جولائی میں انتخابات میں فیصلہ عوام کرے گی، یہی ملک کو ترقی دینے کا راستہ اور یہی خودمختاری کا راستہ اور اس حوالے سے کوئی دوسراراستہ قبول نہیں۔

’’دودھ کا دودھ پانی کا پانی ‘‘ وزیراعظم نے کسے کھلا چیلنج کر دیا ؟


رحیم یار خان(نیو زڈیسک ) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ مخالفین جولائی کے انتخابات میں آکر مقابلہ کرلیں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔ نواز شریف وہ لیڈر ہیں جو وعدے نہیں کام کرکے دکھاتے ہیں، 2013 میں حکومت آئی تو 1800 کلومیٹر موٹروے تعمیر کرائی، اضافی گیس مہیا کیے بغیر پاکستان کے مسائل حل نہیں ہوسکتے تھے

اسی لئے سابق وزیراعظم کا وڑن اور جذبہ تھا کہ ملک میں آئندہ 15 سال کے منصوبے بھی بنائیں گے، پاکستان کی تاریخ میں 42 انچ قطر کی کوئی گیس پائپ لائن نہیں ڈالی گئی ہماری حکومت میں ریکارڈ مدت میں 14 سو کلو میٹر گیس کی پائپ لائن بچھائی گئی، آج ہر صارف کو گیس فراہم کی جا رہی ہے اور کارخانے و صنعتیں لگانے کے لیے گیس میسر ہے، جتنے گیس کنکشن ہمارے دور میں دیے گئے اس کی مثال نہیں ملتی۔ کسی نے کرپشن اور کسی نے گالیوں کی سیاست کی، یہاں پر آپ کو وعدے کرنے والے بھی بہت ملیں گے لیکن مسلم لیگ (ن) خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے ۔ مسلم لیگ (ن) آئندہ انتخابات میں بھی کامیاب ہوکر مسائل حل کرے گی، ملک کی ترقی کا سفر مستقبل میں بھی جاری رہے گا، گوادر سے خیبر پختونخوا تک منصوبوں کی فہرست ہے جس پر کام کریں گے۔تفصیلات کے مطابق ہفتہ کے روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے رحیم یار خان میں آر ایل این جی کی ترسیل اور فراہمی کے لئے42انچ قطر کی گیس پائپ لائن منصوبے کے افتتاح کے موقع پر کہا ہے کہ آئندہ 15برس کے لئے بجلی کا مسئلہ حل کردیا ہے،معیشت کو جتنی ترقی ہماری حکومت نے دی

ہے کسی اور نے نہیں دی اور جس نے مقابلہ کرنا ہے آئندہ الیکشن میں کرلے،ہماری حکومت نے 1800کلومیٹر موٹروے بنائی اور ہم نے گیس کے20لاکھ نئے کنکشن دئیے ہیں،مسلم لیگ(ن) نوازشریف کی قیادت میں صرف باتیں نہیں بلکہ عملی کام کرکے دکھاتی ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ انتہائی کم عرصے میں وہ کام کرکے دکھائے ہیں

جن کو مکمل کرنے کے لئے ترقی یافتہ ممالک میں بھی زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آر ایل این جی کی ترسیل اور فراہمی کے لئے 1400کلومیٹر گیس پائپ لائن ریکارڈ مدت میں مکمل کی ہے،جس میں 700کلومیٹر42انچ کی لائن شامل ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جب ہماری حکومت آئی تو ملک میں انرجی کا بحران تھا اور بجلی آتی تھی نہ گیس ،

جبکہ گیس کا بحران حل کئے بغیر بجلی کی کمی کے مسئلے پر بھی قابو نہیں پاسکتے تھے لیکن میاں نوازشریف اور مسلم لیگ(ن) کی دور اندیشی اور منصوبہ بندی سے ناممکن مسئلے کا حل نکالا ہے۔انہوں نے کہا کہ اربوں ڈالر کے منصوبے مکمل کئے اور سب سے مشکل کام ایل این جی کے سودے طے کرنا تھا جو ہم نے خوش اسلوبی سے پایہ تکمیل تک پہنچائے۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ گیس فراہمی کی وجہ سے تیل پر چلنے والے بجلی کے کارخانے اب گیس پر چل رہے ہیں اور تیل کی مزید درآمد کی ضرورت نہیں رہی جبکہ ساتھ ہی ساتھ سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وسائل تو اس سے قبل حکومتوں کے پاس بھی موجود تھے لیکن میں چیلنج کرتا ہوں کہ مخالفین پچھلے15

سال کا کوئی ایک بھی قابل ذکر منصوبہ بتا دیں۔وزیراعظم نے کہا کہ قیام پاکستان سے لے کر 2013ء تک صرف580کلومیٹر موٹروے صرف (ن) لیگ نے ہی بنائی تھی جبکہ اب تک1800کلومیٹر موٹرویز کا جال بچھایا جاچکا ہے جس کے ملک پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے کوئی سردیوں میں گیس کی دستیابی کا

سوچ بھی نہیں سکتا تھا جبکہ ہم نے نہ صرف20لاکھ نئے کنکشنز دئیے ہیں بلکہ گیس کی دستیابی کو بھی یقینی بنایا ہے ، ہم میرٹ پر یقین رکھتے ہیں اس لئے تمام کنکشنز سفارش کے بغیر دئیے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم خدمت کی سیاست کرتے ہیں اور عوام پر بھی اعتماد ہے کہ وہ کام کرنے والے کا ساتھ دیں گے اور جس نے مقابلہ کرن ہے آئندہ الیکشن میں کر لے سب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا

’’ٹرمپ کا پاکستان کیخلاف ٹویٹ ‘‘


اسلام آباد (نیو زڈیسک )پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سربراہ ٗ سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ کسی ریاستی سربراہ کو دوسری ریاست سے مکالمہ کرتے ہوئے مسلمہ بین الاقوامی آداب اور سفارتی اخلاق کا خیال رکھنا چاہیے ٗ یہ کسی ڈکٹیٹر کی حکومت نہیں

کہ ایک فون کال پر ڈھیر ہوجائے ٗعوامی حکومت دھمکیوں کی پرواہ نہیں کرتی ٗکولیشن سپورٹ فنڈ کو امداد یا خیرات کا نام نہ دیا جائے ٗوزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کوئی ایسی حکمت عملی وضع کریں جس سے ہمیں امریکی امداد کی حاجت باقی نہ رہے ٗ ہمیں پورے اخلاص کے ساتھ اپنے کردار اور عمل کا ضرور جائزہ لینا چاہیے۔ بدھ کو پنجاب ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے کہاکہ سال نو کے آغاز کے ساتھ ہی امریکی صدر کی طرف سے ایک غیر سنجیدہ ٹوئٹ کا جاری ہونا افسوسناک ہے ۔سابق وزیر اعظم نوازشریف نے کہا کہ کسی ریاستی سربراہ کو دوسری ریاست سے مکالمہ کرتے ہوئے مسلمہ بین الاقوامی آداب اور سفارتی اخلاق کا خیال رکھنا چاہیے۔نوازشریف نے کہاکہ نائن الیون کے بعد سے اب تک سب سے بھاری قیمت صرف پاکستان نیادا کی ہے ٗسب سے بھاری نقصان پاکستان کاہوا ہے ٗ17 برس سے ایسی جنگ میں الجھے جو بنیادی طور پر ہماری نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کو معلوم ہونا چاہے کہ 2013 میں مسلم لیگ (ن) نے اقتدار میں آتے ہی دہشت گردی کے خلاف کس بھرپور عزم کا اظہار کیا، اسی کے نتیجے میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوا ٗآج دہشت گردی کی کمر توڑ دی گئی ہے

اور جو بچے کچھے عناصر ہیں انہیں بھی جلد کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے گا۔مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ یہ کسی ڈکٹیٹر کی حکومت نہیں کہ ایک فون کال پر ڈھیر ہوجائے ٗیہ عوامی حکومت ہے جو دھمکیوں کی پرواہ نہیں کرتے ٗہمیں امداد کے طعنے نہ دیئے جائیں، کولیشن سپورٹ فنڈ کو امداد یا خیرات کا نام نہ دیا جائے ٗ ہمیں ایسی فنڈ کی حاجت نہیں،

آپ کو احسان جتانے کی بجائے کسی سپورٹ کا تقاضہ نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یقین ہے کہ 2001 میں یہاں آمریت کی بجائے جمہوری حکومت ہوتی تو وہ اپنی خدمات کبھی نہ بیچتی اور اپنی خودی کا سودا بھی نہ کرتی۔نوازشریف نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان سے یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ کوئی ایسی حکمت عملی وضع کریں جس سے ہمیں

امریکی امداد کی حاجت باقی نہ رہے تاکہ ہماری عزت نفس پر اس طرح کے حملے نہ کیے جائیں۔سابق وزیراعظم محمد نے کہا کہ تین بار ملک کا وزیراعظم رہا ہوں ٗبہت سے حقائق سامنے ہیں ٗ مخلص اور درد مند شہری کی حیثیت سے یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں پورے اخلاص کے ساتھ اپنے کردار اور عمل کا ضرور جائزہ لینا چاہیے ٗبڑی دردمندی سے کہتا رہا

ہوں کہ ہمیں اپنے گھر کی خبر ضرور لینی چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ دنیا ہمیں قربانیوں کے باوجود ایسے کیوں دیکھتی ہے۔مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم نے کہاکہمیرے مشورے کو نہ صرف نظر انداز کیا جاتا رہا بلکہ اسے کبھی ڈان لیکس اور کبھی کوئی اور نام دے کر میری حب الوطنی پر سوال اٹھائے گئے۔نوازشریف نے کہا کہ ہمیں

اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ دنیا ہماری قربانیوں کے باوجود ہماری بات کیوں نہیں سنتی ٗفوج پولیس ٗسول سیکیورٹی ادارے ٗعوام ٗحتیٰ کہ ہمارے معصوم بچوں کا خون دنیا کی آنکھوں میں اتنا ارزاں کیوں ہوگیا ٗ17 سال کے دوران عظیم جانی و مالی قربانیوں کے باوجود ہمارابیانیہ کیوں نہیں مانا جارہا ٗہمیں ان سوالوں کا جواب تلاش کرنا ہے ٗ

اگر انہیں نظر انداز کیا جاتا رہا اور قومی مفاد کے منافی قرار دیا جاتا رہا تو بہت بڑی خود فربی ہوگی، ایسی ہی خود فریبی کی وجہ سے پاکستان دو لخت ہوچکا۔سابق وزیرعظم نے کہاکہ ہمیں خود فریبی کے اس آسیب سے نجات حاصل کرنا ہوگی ٗیہی طاقت کا اصل سرچشمہ ہے ٗقومی قیادت ٗتمام اداروں ٗمیڈیا ٗدانشوروں اور عوام کو سیاسی الزام تراشیوں کے

کھیل سے ہٹ کران باتوں کا جواب تلاش کرنا چاہیے اور حل بھی دینا چاہیے ٗاگر چاہتے ہیں مستقبل کل اور آ ج سے مختلف ہو اور دنیا کا کوئی ملک ہماری عزت پر حملہ نہ کرے تو ہمیں ایک زندہ قوم کے طور خود احتسابی کی مشق سے گزرنا ہوگا۔

وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ قا ئد ا عظم بین ا لصو با ئی گیمز میں شر کت والے


اسلام آباد (نیو زڈیسک ) وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ قا ئد ا عظم بین ا لصو با ئی گیمز میں شر کت والے کھلاڑیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس گیمز میں بڑی تعداد میں کھلاڑیوں کی شرکت ہی اہم اور کا میا بی ہے اور کھلاڑی بھر پور محنت کریں تاکہ آئندہ آنے والے عا لمی مقا بلو ں میں میڈلز حاصل کرکے ملک کا نام روشن کر سکیں

وہ گیمز کی رنگا رنگ اختتا می تقریب کے مو قع پر خطا ب کر رہے تھے۔ انہوں اس موقع پر پہلی سپورٹس یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس یونیورسٹی کی منظوری دی جا چکی ہے، انہوں نے وزیراعظم چیلنج کپ ٹورنامنٹ منعقد کروانے کا بھی اعلان کیا ہے اور یہ ٹورنامنٹ آئندہ تین ماہ تک اسلام آباد میں کھیلا جائے گا، انہوں نے سپورٹس فیڈریشنزکے عہدیداران کو کہا کہ کوئی بھی سیاست نہ کرے اور سپورٹس کی ترقی کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرے تاکہ آنے والے اولمپک گیمز میں زیادہ سے زیادہ میڈلز حاصل کر سکیں،اس سے قبل وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ میاں ریاض حسین پیرزادہ نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا تقریب میںآمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی خواہش کے مطابق ان کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کیا، اس موقع پر وفاقی وزیر نے سپورٹس یونیورسٹی کے قیام کے علاوہ وزیراعظم چیلنج کپ فٹ بال ٹورنامنٹ کے انعقاد کی تجویزپیش کی ، جس کو وزیراعظم نے منظور کر لیا ہے، گیمز میں آٹھ ٹیموں نے حصہ لیا جن میں پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، فاٹا، آزادوجموں کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد شامل تھیں

۔،اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کامیابی حاصل کرنے والی ٹیموں میں ٹرافیاں تقسیم کیں، اس موقع پر وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ میاں ریاض حسین پیرزادہ،وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ، پاکستان ٹینس فیڈریشن کے صدر سینیٹر سلیم سیف اللہ، پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اختر نواز گنجیرا، ڈپٹی ڈی جیزمنصوراحمد، شاہداسلام ، ڈاکٹر وقار احمد اور میڈیا ڈائریکٹر محمد اعظم ڈارکے علاوہ کھلاڑیوں اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی،۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے پٹرولیم مصنوعا ت کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق اوگرا کی جانب سے بھیجی گئی


اسلام آباد (نیو زڈیسک ) سابق وزیراعظم نواز شریف نے پٹرولیم مصنوعا ت کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق اوگرا کی جانب سے بھیجی گئی سمری کی منظوری کو شہباز شریف سے مشاورت سے مشروط کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو سمری منظور کر نے سے روک دیا ہے ،اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل کے

حوالے سے سمری بھی حکومت کو ارسال کر دی، حکومت کو اوگرا کی جانب سے بھیجی گئی سمری میں پیٹرول کی قیمت میں چار روپے چھے پیسے اضافے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں تیرہ روپے اٹھاون پیسے اضافہ کی سفارش کی گئی ہے ، اوگرا کی جانب سے لائٹ ڈیزل کی قیمت میں بارہ روپے انچاس پیسے فی لیٹر اضافہ ،ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں پانچ روپے تیراسی پیسے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی گئی ہے ،دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے قبل وزیراعلیٰ شہباز شریف سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے اور انہوں نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو اوگرا کی جانب سے بھیجی گئی سمری منظور کرنے سے روک دیا ہے ، سابق وزیراعظم نے کا خیال ہے کہ الیکشن قریب ہیں اور ایسے موقع پر پٹرولیم مصنوعا ت کی قیمتوں میں اضافے سے نقصان ہو سکتا ہے ، قیمتوں میں اضافے سے قبل شہباز شریف سے مشاورت ضروری ہے ۔

)کراچی میں وائٹ آئل پائپ لائن موٹرگیسولین منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے


کراچی (نیو زڈیسک )کراچی میں وائٹ آئل پائپ لائن موٹرگیسولین منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹرز کے کاروبارکا خیال رکھاہے، منصوبےسے ان کے کاروبارکو نقصان نہیں پہنچے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ پائپ لائن منصوبہ حساس نوعیت کا ہے،

ٹینکرزکی بڑی تعداد نظام میں ہونے سےحادثات کا خطرہ رہتا ہے، ٹینکرز سیکنڈری تیل کی ترسیل کریں گے، ان کے کام میں کمی نہیں آئے گی۔انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کے معیارکوبھی بہتربنارہے ہیں، تیل کی روڈ کے ذریعے ترسیل سے زیادہ نقصان کا خطرہ ہوتا ہے، دنیا بھر میں تیل کی ترسیل پائپ لائنز کے ذریعے کی جاتی ہے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آئل ٹینکرز کے معیار پرا وگرا نے تشویش کا اظہار کیا ہے، 15 ارب روپے لاگت کا منصوبہ 20 ماہ میں مکمل ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فرنس آئل امپورٹ نہیں کرے گا، سیاسی اختلافا ت رہتے ہیں لیکن جب ملک کا معاملہ ہو تو وزیراعلیٰ سندھ ہمیشہ سپورٹ کرتےہیں۔

وزیراعظم آخر کار طاقتور بیورو کریٹ فواد حسن فواد کے پر کاٹنے میں کامیاب ۔مختلف وزارتوں ،ڈویژنوں اور اداروں کو براہ راست احکامات دینے سے روک دیا


اسلام آباد(انقلاب ویب ڈیسک)وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی آخر کار طاقتور بیورو کریٹ اپنے سیکرٹری فواد حسن فواد کے پر کاٹنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور انھیں مختلف وزارتوں ، ڈویژنوں اور اداروں کو براہ راست احکامات دینے سے روک دیا ہے جبکہ وزارت خزانہ کے معاملات بھی وزیر اعظم نے براہ راست اپنی نگرانی میں لے لئے ہیں۔

وزیر اعظم آفس کے ذرائع نے آن لائن بتایا کہ وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی اپنے باس نواز شریف کے حکم کی بنائ پر سیکرٹری ٹو وزیرا عظم کو تبدیل تو نہ کرسکے البتہ آہستہ آہستہ وہ ان کے پر کاٹنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور ان کی وزیرا عظم کی اجازت کے بغیر مختلف وزارتوں ، اداروں ، ڈویڑنز میں مداخلت روک دی ہے اور تمام سینئر بیو رو کریٹس اور وفاقی سیکرٹریز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پالیسی اور انتظامی امور سے متعلق اہم سمریاں اور فائلیں براہ راست وزیر اعظم کو بھجوائیں اور

وزیر اعظم ہی ان امور پر جو احکامات دینگے فواد حسن فواد وہی احکامات آگے ہو بہو متعلقہ وزارتوں اور اداروں تک پہنچانے کے پابند ہونگے کسی بھی سمری پر فواد حسن فواد اپنی طرف سے کسی وزارت یا ادارے کو احکامات نہیں دینگے ذرائع نے بتایا کہ فواد حسن فواد ماضی میں سابق وزیرا عظم نواز شریف کا نام استعمال کرکے اپنے دوستوں کو نوازنے کے لئے نہ صرف تبادلوں کے احکامات خود جاری کرتے بلکہ اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھی بائی پاس کیا جاتا پھر وہ براہ راست وزارتی معاملات میں مداخلت کرتے جس کا متعلقہ وزیر کو علم ہی نہیں ہوتا تھا اور وہ سیکرٹریز کو احکامات جاری کرکے اپنے قریبی دوستوں کو سرکاری گھروں کی الاٹمنٹ بھی کروا لیتے مگر اب یہ طریقہ کار ختم کر دیا گیا ہے

کیونکہ اس حوالے سے کئی وزرائ اور سینئر بیورو کریٹس نے وزیرا عظم کو شکایات بھی کی تھی جس پر وزیر اعظم عباسی فواد حسن فواد کو تبدیل بھی کرنا چاہتے تھے مگر نواز شریف کے حکم کی وجہ سے وہ ایسا نہ کر سکے لیکن وزیر اعظم اب ہر سرکاری فائل خود دیکھتے ہیں اور پھر احکامات جاری کرتے ہیں اور فواد حسن فواد کو کسی بھی اہم معاملے اور خاص کر وزارت خزانہ کے معاملات میں مداخلت سے روک دیا گیا ہے اور انچارج وزیر کے طور پر انہوں نے خود وزارت خزانہ کے معاملات دیکھنا شروع کر دیا ہے کیونکہ ن لیگ کیم حکومت نے اپنے اخری بجٹ کی تیاری شروع کر دی ہے اور سیکرٹری خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس حوالے سے بجٹ کا خاکہ تیار کرکے وزیرا عظم کو بریفنگ دیں ۔

وزارت پیٹرولیم کی ہدایت پر سوئی سدرن گیس کمپنی اور اینگرو پرائیویٹ لمیٹڈ کے مابین اربوں روپے کی ایل این جی درآمد کرنے کا ایک نیا خفیہ معاہدہ کیا


اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزارت پیٹرولیم کی ہدایت پر سوئی سدرن گیس کمپنی اور اینگرو پرائیویٹ لمیٹڈ کے مابین اربوں روپے کی ایل این جی درآمد کرنے کا ایک نیا خفیہ معاہدہ کیا گیا ہے جس پر پیپرا (PPRA) حکام نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یہ معاہدہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی اجازت اورہدایت پر ہوا ہے جس کے مطابق سوئی

سدرن گیس کمپنی نے اینگرو کمپنی کو مزید 200 ایم ایم کیوبک فٹ ایل این جی درامد کرنے کی اجازت دے دی ہے جس کامطلب ہے کہ اینگرو کمپنی کو روزانہ اربوں کا فائدہ دیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ماضی میں پی ایس او کو ہدایت تھی کہ وہ ایل این جی کی 300 ملین مکعب فٹ گیس درامد کرکے ایل این جی ٹرمینل کو فراہم کرے جس کی ملکیت اینگرو کمپنی کی ہے اب ٹینڈرز طلب کئے بغیر حکومت نے اضافی 200 ملین مکعب فٹ گیس درامد کرنے کی اجازت دی ہے جس کا مطلب ہے کہ اینگرو ٹرمینل پر پانچ سومکعب ملین فٹ ایل این جی درامد ہوگی جس سے اینگرو کمپنی کو اربوں روپے کا روزانہ کی بنیادوں پر فائدہ ہوگا قانون کے مطابق اربوں روپے کا کنٹریکٹ دینے کا اخبارات میں ٹینڈر دینا ہوتا ہے اس مقصد کیلئے پیپرا قوانین کی پاسداری کرنا ہوتی ہے لیکن شاہد خاقان عباسی نے پیپر قوانین کی پاسداری نہ کرتے ہوئے سوئی سدرن کمپنی کو مزید 200 ایم ایم ایف گیس درامد کرکے ایل این جی ٹرمینل تک پہنچانا ہوگا پہلے معاہدے کے مطابق 300 ایم ایم سی ایف بل این جی درامد کی جارہی ہے اب پانچ سو ایم ایم سی ایف گیس درآمد کی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ وزارت پیٹرولیم کے انچارج وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے پاس ہے اور ایل این جی

معاہدہ بھی وزیراعظم کے سپرد ہے اور اب مزید اینگرو کمپنی کو فائدہ دینے میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ذمہ دار ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے قطر حکومت سے 13.37 ڈالر کے حساب سے ایل این جی درآمد کرنے کا معاہدہ کر رکھا ہے جبکہ دیگر عالمی آئل کمپنی ای این آئی نے حکومت پاکستان کو 11.64 ڈالر کے حساب سے فروخت کرنے پر راضی ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے بطور وزیراعظم سب سے پہلے کیا کام کردیا


اسلام آباد(نیوز ڈیسک)شاہد خاقان عباسی نے بطور وزیر اعظم کام کا باضابطہ آغاز کردیا ہے، جب کہ افسران کو ضروری ہدایات بھی جاری کردیں۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی گزشتہ روز وزیر اعظم ہاوس پہنچے جہاں انہوں نے باضابطہ اپنے کام کا آغاز کیا۔وزیراعظم کو سینئر افسران نے مختلف معاملات پر بریفنگ دی جس کے بعد انہوں

 

نے افسران کو ضروری ہدایات بھی جاری کردیںتفصیلات کے مطابق شاہد خاقان عباسی یکم اگست کو قومی اسمبلی سے 221 ووٹ حاصل کر کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔واضح رہے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وزارت عظمیٰ کا باقاعدہ چارج سنبھال لیا، وہ گزشتہ روز پہلی مرتبہ آفس آئے جہاں پر ان کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا، اس موقع پر وزیراعظم آفس کی میڈیا ٹیم کے سربراہ محی الدین وانی، پروٹوکول سٹاف اور دیگر متعلقہ عملہ موجود تھا۔ ذرائع کے مطابق اس موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کچھ ہدایات بھی دیں، مختلف شعبوں کے سربراہوں نے وزیراعظم کو بریفنگ دی، اس موقع پر ملٹری سیکرٹری، اے ڈی سی، چیف سکیورٹی آفیسرز اور دیگر حکام موجود تھے۔