Tag Archives: رانا ثناء اللہ

زینب قتل کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر قصور پولیس کی فائرنگ اور دو افرادکے قتل کا مقدمہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ


لاہور (نیو زڈیسک ) زینب قتل کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر قصور پولیس کی فائرنگ اور دو افرادکے قتل کا مقدمہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے خلاف درج کرنے کے لئے لاہور کی سیشن کورٹ میں درخواست دائرکر دی گئی۔ یہ درخواست پاکستان تحریک انصاف کی رہنما تنزیلہ عمران کی جانب سے دائر کی گئی ہے،

درخواست میں کہا گیا کہ قصور میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کے ایما پر پولیس نے مظاہرین پربراہ راست فائرنگ کی،درخواست میں کہا گیا کہ قصور میں مظاہرین پر فائرنگ سے دو افراد جاں بحق ہوئے، وزیر اعلیٰ اور وزیر قانون نے عوام کے جان و مال کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے، نہتے شہریوں کاقتل عام حلف کی خلاف ورزی اور پولیس کی قانون کو ہاتھ میں لینے کی بدترین مثال ہے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کے خلاف قتل اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دے۔

وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ جو بھی پارٹی کیلئے غیر مشروط طور پر کام کر نا


فیصل آباد(نیوزڈیسک)وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ جو بھی پارٹی کیلئے غیر مشروط طور پر کام کر نا اور فعال ہونا چاہتا ہے اس کیلئے پارٹی کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں لیکن اگر اکوئی ٹکٹ کی شرط لگائے تو پھر میری طرف سے معذرت ہے ، شیخ اعجاز احمد پارٹی کا سرمایہ ہے اور انہوں نے برے وقت میں بھی میاں نواز شریف کا

ساتھ نہیں چھوڑا ، انہیں پارٹی ٹکٹ کا کوئی ایشو نہیںکیونکہ ٹکٹیں دینے والے پارلیمانی بورڈ کا صدر بھی رکن ہوتا ہے ،2018 میں عمران خان سیاست سے فارغ ہوجائیں گے خرم نواز گنڈا پور مجھ سے ملنے ماڈل ٹائون بھی تشریف لائے، ان کے ساتھ معاملہ طے نہیں ہوا، چاہتے ہیں مقتولوں کے ورثا کو معاوضہ دیا جائے، معاوضے کے معاملات وزیراعلی شہباز شریف کی منظوری سے طے کرنے کی کوشش کی گئی انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کی دیت کے لیے خرم نواز گنڈاپور سے مذاکرات کی بھی تصدیق کر دی،آن لائن کے مطابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے ماڈل ٹائون سانحے کا معاملہ حل کرنے کے لیے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کے روبرو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی پیش کش کر دی۔انہوں نے کہا کہ طاہرالقادری قرآن پر بیان دیں، ہم بھی بے گناہی ثابت کرنے کو تیار ہیں، ماڈل ٹاون ایک واقعہ تھا جس میں نہ کوئی پلاننگ شامل تھی نہ کسی نے گولی چلانے کا حکم دیا۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ہم اپنی بے گناہی انکوائری میں ثابت کر چکے ہیں۔ان کا کہنا تھا

کہ ہم سے پہلی بار استعفی نہیں مانگا جارہا، ساڑھے چار سال سے مانگ رہے ہیں اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ دھرنے، لانگ مارچ اور ریلیوں کا مقصد پاکستان کی ترقی کو روکنا تھا، تمام سازشوں کے باوجود ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوا، قوم ان لوگوں کو پہچان چکی ہے،

الیکشن میں سازشی قوتوں کو ووٹ سے شکست دیں گے، نواز شریف کی قیادت میں قوم متحد ہے۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ طاہرالقادری، آصف زرداری اور عمران خان ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ چکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ سیاست کیلئے پیرصاحب اور دیگر مشائخ کو استعمال کررہے ہیں، پیرحمیدالدین سیالوی کا بہت عزت اور احترام ہے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس سانحہ کو سیاسی مہم جوئی کا حصہ نہ بنایا جائے، غریبوں کی لاشوں پرسیاست نہ کی جائے۔علاوہ ازیں صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں ، سٹی صدر مسلم لیگ (ن) و چیئر مین ایف ڈی اے شیخ اعجاز احمد ایم پی اے کو تیمارداری کیلئے ان کی رہائش گاہ رحمان گارڈن ، ستیانہ روڈ گئے ، اس موقع پر میاں عبدالمنان ایم این اے

، ڈپٹی میئر شیخ یوسف ، ڈپٹی میئر چوہدری عبدالغفور ، محمد نواز ملک ایم پی اے ، سٹی سیکرٹری اطلاعات ، میاں محمد اجمل ، میاں عرفان منان ، میاں ضیاء الرحمن ، کاشف گجر ، چیئر مین رانا عثمان منج ، بائو جٹ ، میاں الیاس، پرویز اقبال کموکا ، علائو الدین بٹ ، لیاقت کمبوہ ، نصیر احمد گجر ، ملک اجمل جمال ، لیگی عہدیدار وکارکنان کثیر تعداد میں

موجود تھے ، اس موقع پر یوسی چیئر مینوں ، بائو جٹ ، عثمان منج سمیت تمام یوسی چیئرمینوں اور وائس چیئر مینوں نے رانا ثنا اللہسے اس بات پر تحفظات کا اظہار کیا کہ میاں عبدالمنان ایم این اے اور عرفان نے کسی کو اعتماد میں لئے بغیر سابقہ ایم پی اے شفیق گجر اور ان کے بھائی حبیب گجر سے ملاقات کی ہے اور ان کو پارٹی میں واپسی کی یقین دہانی کروائی ہے ، حالانکہ شفیق گجر نے تمام انتخابات اور بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کی سر

عام مخالفت کی تھی اور پارٹی امیدوار نے مقابلے میں الیکشن بھی لڑا تھا ، بلدیاتی نمائندوں کے اعتراضات پر صوبائی وزیر قانون رانا ثنا ئاللہ خان نے کہا کہ شفیق گجر نے مجھے گھر بلا یا تھا لکین میں نے ان پر واضح کر دیا ہے کہ جو بھی پارٹی کیلئے غیر مشروط طور پر کام کر نا اور فعال ہونا چاہتا ہے اس کیلئے پارٹی کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں لیکن اگر آپ ٹکٹ کی شرط لگائیں گے تو پھر میری طرف سے معذرت ہے ، رانا ثناء اللہ خاں نے کہا کہ شفیق گجر نے کہا کہ میری ٹکٹ کیلئے کوئی شرط نہیں ہے ، آپ صرف میرے گھر تشریف لائیں ، جس پر میں نے (رانا ثنا ء اللہ ) نے شفیق گجر کو کہا کہ میں آپکے گھر اس وقت آئوں گا جب آپ شیخ اعجاز سے اپنے معاملات حل کریں دوسری صورت میں میری طرف سے معذرت ہے ، رانا ثناء اللہ نے کہا کہ شفیق گجر کو کہا کہ پہلے آپ شیخ اعجاز کو انکے گھر جا کر منائیں اور اپنے معاملات حل کریں جس پر تمام چیئر مینوں نے رانا ثناء اللہ خاں کے اس اقدام کو سراہا اور تحفظات دور کر نے پر ان کا شکریہ ادا کیا ، اس موقع پر میاں منان ایم این اے نے کہا کہ میں نے شفیق گجر سے غیر مشروط طور پر صلح کی ہے اور ان سے ٹکٹ کا کوئی وعدہ نہیں کیا ، میاں منان نے فیصلہ صرف میاں نواز شریف نے کرنا ہے ۔

وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ان کے استعفیٰ دینے


لاہور(نیو ز ڈیسک )وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ان کے استعفیٰ دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ایک انٹرویو میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ سے جو لوگ توقعات لگائے بیٹھے تھے ایسا کچھ نہیں ہوا، حکومت پنجاب اگر موجودہ صورتحال کو مشکل وقت سمجھتی ہے تو پھر یہ

مشکل ساڑھے چار سال سے درپیش ہے ۔گزشتہ کئی سالوں سے دھرنوں اور احتجاج جیسی مشکلات کے باوجود پنجاب حکومت نے کافی حد تک دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا اور جلد مکمل خاتمہ کر دیں گے۔وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے متحد ہونے کی وجہ صرف نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) ہے ، کیونکہ وہ جانتے ہیں کوئی بھی سیاسی جماعت (ن) لیگ کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔ فیض آباد دھرنے کے معاہدے کو اگر کوئی گھٹنے ٹیکنا سمجھتا ہے تو اس میں حکومت کے ساتھ ریاست بھی شامل ہے ٗریاست کسی چیز کو درست سمجھتی ہے تو حکومت کو بھی درست سمجھنا چاہیے کیونکہ حکومت ریاست کا ہی حصہ ہے ، لیکن حکومت نے آج تک کسی معاہدے میں گھٹنے نہیں ٹیکے اور نہ آئندہ ٹیکے گی۔

پنجاب حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کمیشن رپورٹ جاری کردی


لاہور (نیوز ڈیسک)وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کمیشن رپورٹ جاری کردی ۔انہوں نے کہا کہ جسٹس باقر نجفی انکوائری ٹریبونل رپورٹ لفظ بہ لفظ شائع کر رہے ہیں،اس سے پہلے یہ معاملہ عدالت میں ہونے کی وجہ سے رپورٹ جاری نہیں کر رہے تھے ،رپورٹ کی وجہ سے فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلنے کا خدشہ بھی تھا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا ہے کہ رپورٹ مکمل نہیں ہے، قانون کی نظر میں نقائص سے بھرپور ہے، رپورٹ میں ہے کہ پڑھنے والا خود ذمہ دار کا تعین کر سکتا ہے، اس طرح میری نظر میں ذمہ دار کوئی اور، دوسرے کی نظر میں ذمہ دار کوئی اور ہوسکتا ہے ۔وزیر قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ قاری خود سانحے کے ذمے دار کا فیصلہ کرے،بہت سے قاری تو علامہ صاحب آپ کو بھی ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ غیر متعلقہ شواہد پر رپورٹ بنائی گئی، مجھ پر میٹنگ بلانے کا الزام ہے، جوڈیشل کمیشن رپورٹ میں ثبوت یک طرفہ ہیں۔رانا ثنا ءاللہ نے یہ بھی کہا کہ پنجاب حکومت اوروزیر اعلیٰ پنجاب کا پہلے دن سے مؤقف تھا کہ معاملہ عدالت میں ہے،ہائیکورٹ کا فیصلہ آتے ہی میاں شہباز شریف نے رپورٹ پبلک کرنے کاکہا،جو پبلک ہوچکی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ مناسب ہو گا،

رپورٹ ون مین انکوائری ٹریبونل کو بھیجی جائے، جو معاملے کو دیکھیں اور رائے قائم کرے،جسٹس خلیل الرحمان نے رپورٹ کا جائزہ لیا اور کوشش کی کہ اس پر رائے دیں۔وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ ون مین انکوائری ٹریبونل کی رپورٹ کسی مقدمے سے متعلق نہیں ہے، اس رپورٹ کا مقدمے اور اس کے ٹرائل پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ رپورٹ شہادت کے طور پر نہیں پیش کی جاسکتی، غیر متعلقہ شواہد پر رپورٹ بنائی گئی، جوڈیشل کمیشن رپورٹ میں ثبوت یک طرفہ ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ 135 ملزمان میں سے 12 ملزمان سیاسی تھے، عدالت نے قرار دیا کہ 12 ملزمان کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جاسکا۔رانا ثناءاللہ نے یہ بھی کہا کہ ہمیں خدشہ تھا کہ اس رپورٹ کو یہ لوگ اپنے مقصد کیلئے استعمال کریں گے، استغاثے میں 124 ملزمان پیش ہو رہے ہیں مقدمہ چل رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ لارجر بینچ کافیصلہ ہے رپورٹ میں انفارمیشن ہے جسے عوام تک پہنچناچاہیے،انکوائری ٹریبونل نے دوسرے فریق کی کوئی شہادت ریکارڈ نہیں کی۔رانا ثناء اللہ نے یہ بھی کہا کہ یہ رپورٹ انتظامی فیصلہ ہے اور اس پر تنقید کی جاسکتی ہے۔