Tag Archives: امریکہ

ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایرانی عدلیہ کے سربراہ کے خلاف پابندیاں عائد کر کے حد پار کر دی ہے


تہران، واشنگٹن (نیو زڈیسک)ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایرانی عدلیہ کے سربراہ کے خلاف پابندیاں عائد کر کے حد پار کر دی ہے۔ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اس پر ردِعمل دیں گے تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ ردِعمل کس نوعیت کا ہوگا۔آیت اللہ صادق امولی لاریجانی ان 14 افراد اور اداروں میں شامل ہیں جنھیں مبینہ طور پر

ایرانی شہریوں کے حقوق کی پامالی کے الزام کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ادھر دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق وہ آخری بار ایرانی جوہری معاہدے کی توثیق کر رہے ہیں تاکہ یورپ اور امریکہ اس معاہدے میں پائے جانے والے سنگین نقائص کو دور کر سکیں۔امریکی صدر کی جانب سے ایران پر پابندیوں میں نرمی کی توثیق ہونے پر نرمی میں مزید 120 دن کا اضافہ ہو جائے گا۔جمعے کو امریکی صدر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں ایران سے معاہدے پر نظرثانی کے حوالے سے کہا گیا کہ’ یہ آخری موقع ہے، اس طرح کا معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ معاہدے( موجودہ) میں رہنے پر دوبارہ پابندیوں میں نرمی نہیں کرے گا۔‘بیان میں مزید کہا گیا کہ’ اگر کسی بھی وقت انھیں اندازہ ہوا کہ اس طرح کا معاہدہ نہیں ہو سکتا تو وہ معاہدے( موجودہ) سے فوری طور پر دستبردار ہو جائیں گے۔‘دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ’ یہ ایک ٹھوس معاہدے کو خراب کرنی کی مایوس کن کوشش ہے۔‘امریکہ چاہتا ہے کہ معاہدے میں موجود یورپی ممالک ایران پر یورینیئم کی افزدوگی پر مستقل پابندی عائد کریں جبکہ موجودہ معاہدے کے تحت یہ پابندی 2025 تک ہے۔وائٹ ہاؤس کے سینیئر اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اگر نیا معاہدہ نہیں کرتے تو یہ آخری موقع ہے جو صدر نے پابندیوں میں نرمی کی توثیق کی۔

یورپی طاقتوں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ عالمی سلامتی کے لیے اہم ہے۔ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے سے ایران پر امریکہ اور عالمی طاقتوں کی جانب سے عائد پابندیوں کو معطل کیا گیا تھا جبکہ ایران نے اپنا جوہری پروگرام محدود کرنے

کی حامی بھری تھی۔تاہم امریکہ کی جانب سے دہشت گردی، انسانی حقوق اور بیلسٹک میزائل کی تیاری کے حوالے سے الگ سے پابندیاں تاحال قائم ہیں۔ امریکہ کی جانب سے ایران کی 14 شخصیات اور اداروں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں، سینسر شپ اور ہتھیاروں کے

پھیلاؤ کا الزام عائد کرتے ہوئے مزید پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔امریکی کانگریس میں اس معاہدے کے ناقدین نے بھی ایسی قانون سازی کی تجویز پیش کی ہے جس سے ایران کی جانب سے مخصوص عمل کرنے کی صورت میں پابندیاں عائد کی جا سکیں۔دوسری جانب برطانیہ،

فرانس، جرمنی اور یورپی یونین کے وزرا خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف سے جمعرات کو برسلز میں ملاقات کی ہے اور اس معاہدے پر قائم رہنے کی تائید کی ہے، جس کو چین اور روس کی حمایت بھی حاصل ہے۔ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس میں یورپی یونین، فرانس اور جرمنی نے اس جوہری معاہدے کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

امریکی تحقیقاتی ادارے پیو ریسرچ نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ دو عشروں یعنی


نیویارک (نیو زڈیسک )امریکی تحقیقاتی ادارے پیو ریسرچ نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ دو عشروں یعنی 2040 ۔ اسلام امریکہ کا دوسرا بڑا مذہب بن جائے گا جبکہ مسلمان دوسرے بڑے مذہبی گروپ کی حیثیت م سامنے آئ گے۔پیوریسرچ کے ایک مطالعے پر مبنی رپورٹ م مزید انکشاف کیا گیاہے کہ مسلمانوں کی آبادی امریکہ میں دن بہ دن بڑھ رہی ہے

اور ایک تخمینے کے مطابق آئندہ تین عشروں م ان کی آباد بڑھ کر دوگنا ہوجائے گی۔رپورٹ م مزید بتایا گیا ہے کہ 2017 امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کی تعداد ساڑھے 34 لاکھ تھی جو کہ بڑھ کر 2050 81 لاکھ ہوجائے گی اور اسی عرصہ کے دوران مسلمانوں کی تعداد یہود یوں سے بڑھ جائے گی اور وہ عیسائیوں کے بعد دوسرا بڑا مذہبی گروپ بن جائے گا۔ریسرچ ادارے پیو نے 2007، 2011 اور 2017 مذہب کی بنیاد پر امریکہ م مقیم لوگوں کی تعداد سے متعلق اپنے مطالعات کو یک جا کیا ہے اور ان مطالعات کی ایک مشترکہ رپورٹ جاری کی ہے۔اس ضمن م اس نے امریکہ کی مردم شماری کی سالانہ رپورٹس سے اعداد وشمار لیے ہ اور ان کی بنیاد پر مستقبل م امریکہ م مسلمانوں کی تعداد کا تخمینہ لگایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2016 امریکہ میں مسلمان تارکین وطن کی تعداد م ریکارڈ اضافہ ہوا جبکہ اس وقت امریکہ م مقیم مسلمانوں م تارکین وطن اور ان کی اولاد کی تعداد تین چوتھائی ہے۔تحقیق میں  اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا کہ مسلمانوں کی اوسط آبادی دوسرے مذہبی گروپوں کے مقابلے م زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل ہے جس کا مطلب ہے کہ بچوں کی شرح پیدائش بھی زیادہ رہے گی۔

پاکستان کے پاس امریکہ سے ملنے والی امداد اور اخراجات کا ریکارڈ موجود ہے


اسلام آباد (نیو زڈیسک ) پاکستان کے پاس امریکہ سے ملنے والی امداد اور اخراجات کا ریکارڈ موجود ہے، 33 ارب امریکی ڈالرز کا زیادہ تر حصہ پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ پر خرچ کیااور اس میں معمولی سی رقم پاکستان نے اپنی افواج پر خرچ کی وہ بھی امریکہ کی طرف سے پاکستان پرمسلط کی جانے والی

دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی افواج کو لڑنی پڑی جس میں بے شمار قربانیاں دی گئیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 33 ارب ڈالر میں سے 14.5 ارب امریکی ڈالرز پاکستان کو امریکی افواج پر پہلے ہی خرچ کیے جانے کے بعد ملے۔ یہ رقم پاکستان پہلے ہی امریکی افواج پر، جو افغانستان میں دہشت گردی کی جنگ لڑ رہے تھے ، ان کو سپورٹ کرنے پرخرچ کیے تھے ، جو امریکہ نے پاکستان کو واپس کیے اس کے علاوہ امریکہ نے پاکستان کو 1.3 ارب ڈالرز دیے جو پاکستان امریکہ کے کہنے پر افغان طالبان کے خلاف جنگ پر خرچ کیے۔پاکستان نے اپنی افواج کی تربیت اور بہتری کے لئے چار ارب ڈالرز خرچ کیے کیونکہ پاکستان کی افواج کو افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا تھا۔ اس کے علاوہ 0.85 ارب ڈالرز کی رقم بھی ملی جو پاکستان نے افغان مہاجرین کی رہائش، کھانے اور ان کو دوسرے سہولتیں فراہم کرنے پر خرچ کی، جو امریکہ کی طرف سے افغانستان میں جنگ کی وجہ سے پاکستان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ پاکستان کو امریکہ کر طرف سے ایک ارب ڈالرز پاکستان میں قدرتی آفات کی وجہ سے ہونے والی تباہی کے بعد امدادی کاموں پر خرچ کرنے پڑے، اس کے علاوہ پاکستان کی

اقتصادی حالت کو نقصان افغانستان میں روس اور اس کے بعد امریکہ کی مداخلت کی وجہ سے ہوا اس کو پورا کرنے کے لئے امریکہ نے پاکستان کو 8.5 ارب ڈالرز دیے ، حالانکہ پاکستان کی اکانامی کو دہشت گردی کی وجہ سے ایک سو ار ب ڈالرز سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق 2002 سے لیکر 2017 تک دیے

جانے والے 33 ارب ڈالرز بنتے ہیں جبکہ ابھی بھی امریکہ نے پاکستان کے کئی ارب ڈالرز روکے ہوئے ہیں اور بھارت کے کہنے پر پاکستان کو مالی طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اس دہشت گردی کی جنگ میں جو اس پر مسلط کی گئی ہے، اس میں پاکستان نے اپنے وسائل سے 120 ارب ڈالرز اب تک خرچ کیے ہیں۔

امریکہ کی اہم اسلامی ملک میں مداخلت ، روس نے انتباہ جاری کر دیا


ماسکو(نیو زڈیسک ) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے واشگٹن کی گزارش پر ایران میں خونی مظاہروں پر اجلاس طلب کیے جانے پر روس نے امریکا پر ایران میں مداخلت کا الزام لگادیا۔ روس کے ڈپٹی وزیر خاجہ سرجئی ریبکوف کا کہنا تھا کہ امریکا دیگر ممالک کے امور میں کھلے عام اور خفیہ دونوں طریقوں سے مداخلت کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل میں ایران کے داخلی امور پر اجلاس طلب کرنے کے امریکی قدم کو ہم اس ہی نظرے سے دیکھتے ہیں۔انہوں نے واشنگٹن پر الزام لگایا کہ وہ دیگر ممالک کی خود مختاری پر جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر حملے کر رہا ہے۔خیال رہے کہ ایران کے شہر مشہد میں اقتصادری مسائل اور حکومت کے شاہانہ طرز زندگی کے خلاف جمعرات (28 دسمبر) کو مظاہروں کا آغاز ہوا اور جب مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی گئی تو وہ جلد ہی حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہوگئے جس کے نتیجے میں اب تک 21 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایرانی عوام کو ان کی حکومت واپس دلانے کا اعلان کردیا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے 2015 میں ایران سے کیے گئے جوہری معاہدے پر بھی سوالات اٹھا رکھے ہیں۔روسی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈپٹی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر امریکا اس معاملے میں ایرانی حکومت پر دبا بڑھانے کے لیے وجوہات کی تلاش کر رہا ہے، جو ہمیں لگتا وہ یہی چاہتا ہے تو ہمیں یہ ہرگز قبول نہیں ہوگا۔

تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق چین ، روس ، سعودی عرب اور بھارت فوج پر سب سے زیادہ اخراجات کرنے والے چاردوسرے ممالک ہیں


بیجنگ(نیو زڈیسک )امریکہ کئی برسوں سے دنیا میں فوجی اخراجات کے حوالے سے چھایا ہوا ہے تا ہم سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس آئی پی آر آئی ) کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق چین ، روس ، سعودی عرب اور بھارت فوج پر سب سے زیادہ اخراجات کرنے والے چاردوسرے ممالک ہیں ،دلچسپ بات یہ ہے کہ جب فوجی

اخراجات فی کس اور مجموعی حکومتی بجٹ کے فیصد کا معاملہ پیش آتا ہے تو امریکہ اس معاملے میں اسرائیل اور سعودی عرب جیسے ممالک سے پیچھے ہے۔ایس آئی پی آر آئی کے اعداد و شمار ار کے مطابق آرمی دفاعی اخراجات 2016 میں 1.69ڈالر ٹریلین تک بڑھ گئے ، جس میں امریکہ سرفہرست ہے، 2015 سے ملک کے دفاعی اخراجات میں 1.7فیصد کا اضافہ ہوا اور اس طرح 2016 میں سالانہ اخراجات 611بلین ڈالر تک پہنچ گئے ، اضافے کے باوجود اخراجات2010 میں عروج کے مقابلے میں اب بھی 20فیصد کم ہیں۔رپورٹ کے مطابق چین جو کہ دوسرا سب سے زیادہ اخراجات کرنیوالا ملک ہے کے فوجی اخراجات میں 215بلین ڈالر کے سالانہ اخراجات کے ساتھ 118فیصد کا اضافہ ہوا ہے، یہ رقم بھارت کی مجموعی رقم سے قریبا چار گنا زیادہ ہے،بھارت علاقے میں فوجی اخراجات کرنیوالا دوسرا سب سے بڑا اور دنیا میں پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، اس کے فوجی اخراجات کی مالیت 56ملین ڈالر ہے ،روس 69بلین ڈالر کے سالانہ دفاعی اخراجات کے ساتھ تیسرا سب سے بڑا فوجی اخراجات کرنیوالا ملک ہے، 2016 میں 65بلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کے ساتھ سعودی عرب علاقے میں سب سے بڑا فوجی اخراجات کرنیوالا ملک ہے جبکہ دنیا میں وہ چوتھا

سب سے بڑا ملک ہے، اگرچہ سعودی عرب 2002 سے اپنے فوجی اخراجات میں اضافہ کررہا ہے، اس کے دفاعی اخراجات میں 2015 کے اخراجات کے مقابلے میں 30فیصد کم ہوئے ہیں، فرانس جوکہ یورپ میں سرفہرست فوجی اخراجات کرنے اور دنیا میں چھٹا بڑا ملک ہے نے 55ملین ڈالر کے فوجی اخراجات کئے جبکہ چھٹی اور ساتویں

پوزیشن پر برطانیہ اور جرمنی ہیں،یورپی یونین سے برطانوی اخراج کے پیش نظر پائونڈ کی قدر میں کمی کی وجہ سے برطانیہ کی دفاعی اخراجات کرنے والے ممالک کی درجہ بندی میں کمی آئی ہے ،جرمنی نے 2016 میں فوجی اخراجات میں 2.9فیصد کا اضافہ کیا اور اس طرح اس کے دفاعی اخراجات 41بلین ڈالر ہو گئے، جنوب مشرقی ایشیا میں جاپان اور

جنوبی کوریانے جنوبی کوریا اور شمالی کوریا ، چین اور جاپان کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے دس سرفہرست فوجی اخراجات کرنیوالے ممالک کی فہرست میں شامل ہیں ، ان ممالک نے اس قسم کے اخراجات کے سلسلے میں اپنی متعلقہ حکومتوں کو جواز پیش کیا ہے ، رپورٹ کے مطابق 1.69ٹریلین ڈالر کے عالمی فوجی اخراجات کا اندازہ عالمی

مجموعی قومی پیداوار کے 2.2فیصد کے مساوی یا 227ڈالر فی کس ہے،2016 کے تخمینے کو 2015 سے قریبا 0.4فیصد کا کم از کم اضافہ خیال کیا جاتا ہے،فوجی اخراجات میں کمی بیشی کی وجہ تنازعات ،سلامتی کو درپیش خطرات، تیل کی قیمتیں اور آمدن جیسے عوامل سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔

جی ایچ کیو میں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی یہ 207ویں کور کمانڈرز کانفرنس تھی جس کی صدارت آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی


راولپنڈی (نیو زڈیسک ) عسکری قیادت نے امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان کو یکسر مستر د کرتے ہوئے اسے زمینی حقائق کے منافی اور پاکستان کی قربانیوں کی نفی قرار دیا ہے ساتھ ہی واضح کر دیا کہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ترجمان پاک فوج کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان مخالف ٹویٹ کا جائزہ لینے

کے لیے منگل کو جی ایچ کیو میں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی یہ 207ویں کور کمانڈرز کانفرنس تھی جس کی صدارت آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی جبکہ اس میں تمام کور کمانڈرز اور پرنسپل سٹاف افسران نے شرکت کی۔شرکا نے جیوسڑٹیجک صورت حال اور ملک کی داخلی سلامتی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اس کے ساتھ ساتھ عسکری قیادت نے ٹرمپ کے بیان پر جو موقف اختیار کیا اسے قومی سلامتی کمیٹی کے سامنے بھی رکھا۔دفاعی زرائع نے بتایا کہ کور کمانڈرز کانفرنس کو بتایا گیا کہ امریکی صدر کا بیان یکسر حقائق کے منافی ہے پاکستان نے پندرہ سالوں میں جو قربانیاں دی ہیں ان کو نظر انداز کر دیا گیا پاکستان کو ایک سو تیس ارب ڈالر کا نقصان معاشی طور پر ہوا جبکہ ستر ہزار سے زائد سویلین اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں اور افسران نے جانیں دیں یہ بھی بتایا گیا کہ ٹرمپ کا 33 ارب ڈالر امداد کا دعویٰ بھی حقیقت کے خلاف ہے کیونکہ زیادہ تر رقم امریکہ نے اتحادی سپورٹ فنڈ کے تحت دی اور اس کے لیے پاکستان کی سہولیات استعمال کی گئی اس میں سے بھی دو ارب ڈالر ابھی امریکہ نے دینا ہیں براہ راست امداد کا حجم بھی

بہت کم ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ کور کمانڈر ز نے بھی واضح کر دیا کہ اب پاکستان کوئی ڈومور نہیں کرے گا اب امریکہ کو ڈو مور کرنا ہوگا پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز رنگ و نسل کارروائی کی اور اب پاکستان میں کسی بھی دہشت گرد تنظیم کا کوئی محفوظ ٹھکانہ نہیں آپریشن رد الفساد کے زریعے آج بھی دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے

خلاف کارروائی جاری ہے جبکہ فاٹا کو دہشت گردی سے پاک کر دیا گیا ہے۔یہ بھی واضح کیا گیا کہ پاکستان کسی دھمکی کو خاطر میں لائے بغیر اپنی سلامتی اور دفاع کو یقینی بنا ہے گا اور اب کسی صورت افغانستان کی جنگ پاکستان میں نہیں لڑی جائے گی ۔ذرائع کے مطابق کور کمانڈرز نے افغان مہاجرین کی جلد وطن واپسی پر بھی زور دیا جبکہ ٹرمپ کے بیان کے تناظر میں عسکری قیادت دوست ممالک کے ساتھ فوجی سفارت کاری کو فروغ بھی دے گی۔

سعودی شہزادوں کے بعد حکومت نے یورپ اور امریکہ کو بھی نہ بخشا ، دھماکے دار اقدام اُٹھا لیا


اسلام آباد(نیوز ڈیسک)برطانوی اخبار ڈیلی میل نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب میں کرپشن کے الزام میں شہزادوں سمیت امریکا، برطانیہ اور فرانس کے کاروباری افراد بھی گرفتار ہونے والوں میں شامل ہیں۔برطانوی اخبار نے سعودی شاہی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی حکام کی جانب سے گرفتار غیر ملکی کاروبار یافراد کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔اخبار کا کہنا ہے کہ امریکی

محکمہ خارجہ نے پرائیویسی قوانین کے باعث کچھ بتانے سے گریز کیا جبکہ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ سعودیہ میں سفارخانے کو مدد کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔ فرانس کے وزارت داخلہ نے اس حوالے سے کسی قسم کا بیان دینے سے گریز کیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ سعودی حکومت نے کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے شاہی خاندان میں نمایاں مقام رکھنے والے شہزادوں، وزر

اء اور کاروباری شخصیات سمیت 200 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا ۔جس میں 31 شہزادے بھی شامل تھے ۔سعودی عرب کے پراسیکیوٹر جنرل کرپشن کے الزام میں گرفتار افراد سے 100 ارب ڈالر کے معاہدے کرنا چاہتے ہیں جب کہ سعودی دارالحکومت کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق مبینہ طور پر کی گئی کرپشن کی رقم 800 ارب ڈالر بنتی ہے۔

امریکہ نے مہلک ہتھیارکس ملک کودینے کامنصوبہ بنالیا۔۔۔تشویشناک خبرآگئی


واشنگٹن (انقلاب ویب ڈیسک )ٹرمپ انتظامیہ نے یوکرائن کو جدید اور مہلک امریکی ہتھیاروں کی فراہمی کے ایک منصوبے کی منظوری دیدی ہے ، ان ہتھیاروں میں ٹینک شکن میزائل بھی شامل ہیں۔جرمن میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے یوکرائن کو جدید اور مہلک امریکی ہتھیاروں کی فراہمی کے ایک منصوبے کی منظوری دیدی ہے ۔ مشرقی یوکرائن میں روس

نواز علیحدگی پسند ٹینکوں ہی کے ذریعے ایک بڑے علاقے کو اپنے قبضے میں کر پائے تھے۔یوکرائن کی حکومت ایک طویل عرصے سے اس امریکی اسلحے کی منتظر تھی۔ اب تک نجی امریکی کمپنیاں یوکرائن کو چھوٹے ہتھیار تو فراہم کر رہی تھیں، تاہم بڑے اور جدید عسکری ہتھیار یوکرائن کو نہیں دیے گئے تھے۔ مبصرین کے مطابق اس امریکی فیصلے سے واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تنا پیدا ہو جائے گا۔

ٹرمپ کے دور صدارت میں امریکہ اور پاکستان کے مابین دو طرفہ تعلقات مزید ؔخراب ہوگئے ہیں


اسلام آباد (نیو زڈیسک ) ٹرمپ کے دور صدارت میں امریکہ اور پاکستان کے مابین دو طرفہ تعلقات مزید ؔخراب ہوگئے ہیں۔ امریکہ نے پاکستان کو مزید 8ایف سولہ طیارے دینے سے انکار کردیا ہے۔ یہ طیارے پاکستان کو فروؔخت کرنے کا باقاعدہ معاہدہ ہوا تھا لیکن ٹرمپ انتظامیہ کی پاکستان مخالف پالیسیوں کے نتیجہ میں اس معاہدے پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان نے 8ایف سولہ طیاروں کیلئے حکومت امریکہ کو 699ملین ڈالر ادا کرنے تھے اس مالیت کا 40فیصد حکومت پاکستان نے اپنے خزانے سے ادا کرنا تھا جبکہ باقی رقم امریکہ نے اپنے غیر ملکی فنڈز (FMF)سے اد اکرنی تھی ۔ یہ معاہدہ 2016سے قبل ہوا تھا لیکن نئی امریکی انتظامیہ نے اس معاہدے پر عملدرآمد روک دیا ہے جبکہ امریکی کانگرس نے بھی اس معاہدے کی مخالفت کی تھی جس کے بعد اب پاکستان کو مزید ایف سولہ طیارے فراہم کرنے کے امکانات ؔختم ہوگئے ہیں دونوں ملکوں کے مابین بڑھتی ہوئی خلیج سے دونوں ممالک کے قومی مفادات کو شدید نقصانات ہو رہا ہے جبکہ امریکہ کے بھارت کی طرف سے جھکائو کی پالیسی سے جنوبی ایشیاء میں سیکورٹی کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

امریکہ نے بیت المقدس فیصلے پر حیران کن اعلان کردیا


نیویا رک ( نیوز ڈیسک )اقوام متحدہ کے لئے امریکی نمائندہ خصوصی نکی ہیلے نے خبردار کیا ہے کہ جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلے کی مخالفت کرنے والے ممالک کے نام لیے جائیں گے اور ایک ایک ووٹ کا حساب رکھا جائے گا۔امریکا کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے اعلان کے

حوالے سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آ ج جمعرا ت کو ووٹنگ ہوگی تاہم اس سے قبل امریکی نمائندہ خصوصی نے مختلف سفیروں کو دھمکی آمیز خطوط لکھے ہیں۔نکی ہیلی نے اپنے خطوط میں لکھا کہ جنرل اسمبلی میں قرارداد کی حمایت کرنے و الے ممالک کے نام صدر ٹرمپ کو بتاؤں گی اور بیت المقدس سے متعلق قرارداد پر ایک ایک ووٹ کا حساب رکھا جائے گا۔نکی ہیلے نے اس حوالے سے ٹوئٹ بھی کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ہم نے امریکی عوام کی خواہشات کے مطابق بیت المقدس میں سفارتخانہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے لکھا کہ جن ممالک کی

ہم مدد کرچکے ہیں ان سے امریکا کو نشانہ بنانے کی توقع نہیں رکھتے، جمعرات کو ہمارے انتخاب پر تنقیدی ووٹ ڈالا جائے گا اور امریکا ایسے ممالک کے نام لے گا۔خیال رہے کہ 18 دسمبر کو سلامتی کونسل میں بیت المقدس سے متعلق متنازع امریکی فیصلہ مسترد کرنے کی درخواست امریکا نے ویٹو کردی تھی۔جب کہ امریکا کے اہم اتحادی ممالک برطانیہ، فرانس، جاپان، اٹلی اور یوکرین نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالے، جس میں کہا گیا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق کسی بھی فیصلے کی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 دسمبر

 

کو مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔امریکی صدر کے اس اعلان پر نہ صرف مسلم ممالک میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا بلکہ یورپی اور مغربی ممالک میں بھی اس فیصلے کے خلاف مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا ہنگامی اجلاس ترکی میں ہوا جس میں امریکی صدر کے فیصلے کی شدید مذمت کی گئی اور ڈونلڈ ٹرمپ سے فیصلہ فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔