شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

کیا ڈی ہائیڈریشن کی ان علامات سے واقف ہیں؟


اسلام آباد(نیوز ڈیسک)کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ آپ کئی کئی گھنٹے اپنے کام میں مصروف رہنے کے باعث پانی پینا بھول جاتے ہیں جو صحت کے لیے نقصان دہ بھی ہوتا ہے کیونکہ جسم کو اس سیال کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اپنے افعال مناسب طریقے سے جاری رکھ سکے جبکہ توانائی اور توازن بھی اس کی مدد سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ موسم چاہے سردی کا ہو یا

گرمی کا مگر مناسب مقدار میں پانی کی ضرورت جسم کو ہر وقت ہوتی ہے جس کی کمی کی صورت میں آپ کو مختلف مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ یہاں چند ایسی ہی علامات کا ذکر ہے جو صرف پانی کے چند گلاس پینے سے دور کی جاسکتی ہیں۔ توجہ مرکوز نہ رکھ پان ایک امریکی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو خواتین ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہوتی ہیں، ان میں تھکاوٹ، چڑچڑاہٹ اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکل کا سامنا ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر مرد پانی کی کمی کا شکار ہوں تو انہیں بھی تھکاوٹ اور ذہنی کاموں میں مشکل وقت کا سامنا ہوتا ہے۔ جلد کی لچک کم ہوجانا اپنے ہاتھ کی پشت کی جلد کو چٹکی میں پکڑیں اور چند سیکنڈ بعد چھوڑ دیں، اگر جلد اپنی پوزیشن پر فوری طور پر واپس نہ جائے تو یہ ڈی ہائیڈریشن کی ایک علامت ہے۔ اس علامت میں جلد کی لچک متاثر ہوتی ہے جس کی وجہ جسم میں سیال کی کمی ہوتی ہے اور معتدل یا شدید ڈی ہائیڈریشن کی صورت میں ایسا ہوتا ہے۔تیزی سے کھڑے ہونے پر سر چکرانا ڈی ہائیڈریشن کی ایک علامت یہ ہے کہ آپ بیٹھے ہوئے ہوں اور اچانک کھڑے ہوں تو سر چکرائے یا غشی محسوس ہو، اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ پانی کی کمی سے

خون کا دباؤ اور والیوم گرتا ہے۔ سانس کی بو ہر وقت پیاز یا لہسن کو سانس کی بو کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا، درحقیقت پانی منہ میں جاکر لعاب دہن کو بو پیدا نہیں کرنے دیتا، تو اگر آپ پانی کی کمی کے شکار ہیں تو سانس کی بو کا سامنا ضرور ہوگا۔ ایک تحقیق کے مطابق منہ زیادہ دیر تک خشک رہے تو منہ میں موجود بیکٹریا بدبو دار ہوجاتے ہیں جو سانس میں بو

کا باعث بنتے ہیں۔ ہر وقت سردرد رہنانے پر درد کش ادویات کے استعمال سے پہلے ایک یا دو گلاس پانی پی کر انتظار کریں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ایسا کرنے سے درد دور ہوجائے۔ گہرے زرد رنگ کا پیشاب پانی کی کمی کا ایک بڑا ثبوت پیشاب کی رنگت کا بدل جانا ہے، اگر وہ بہت زیادہ زرد یا پیلے رنگ کا ہے تو یہ واضح ہے کہ آپ کے جسم میں پانی کی کمی واقع ہوگئی ہے۔ قبض کی شکایت اگر آپ کو اکثر قبض کی شکایت رہتی ہے تو یہ بھی پانی کی کمی کی ایک علامت ہوسکتی ہے جس کا حل پانی کا استعمال بڑھا دینا ہوسکتا ہے، کیونکہ ایسا کرنے سے آنتوں کو کام کرنے میں مدد ملتی ہے۔مناسب نیند کے باوجود اگر آپ دن بھر تھکاوٹ کے شکار رہتے ہیں تو اس کی وجہ ڈی ہائیڈریشن ہوسکتی ہے، جسم میں پانی کی مناسب مقدار حس کو چوکنا رکھتی ہے اور توانائی بھی فراہم کرتی ہے، تو اگر آپ سستی محسوس کررہے ہوں تو پانی پی لیں، اگر پھر بھی شکایت دور نہ ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ یہ دیگر امراض کا انتباہ بھی ہوسکتی ہے۔ کھانے کی خواہش بڑھ جانا اگر میٹھے یا نمکین کھانوں کی خواہش بڑھ جائے یا تھوڑی تھوڑی دیر بعد بھوک لگنے لگے تو یہ جسم میں پانی کی کمی کا نتیجہ ہوسکتا ہے جو کہ بھوک بڑھانے والے ہارمونز کی کارکردگی کو بڑھا دیتا ہے، جب ہم پیاسے ہوتے ہیں تو ہمارا جسم اسے بھوک سمجھتا ہے، تو ایسی صورت میں پہلے پانی پی کر دیکھیں کہ بھوک موجود رہتی ہے یا نہیں۔خشک جلد اور جھریاں اگر آپ کی جلد خشک اور جھریوں کا شکار ہورہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جسم پانی کی طلب کررہا ہے جو کہ جلد کو روشن اور صحت مند رکھتا ہے، جب جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے تو وہ خشک اور پرت دار ہونے لگتا ہے خاص طور پر سردیوں کے موسم میں اور یہ ضروری ہے کہ اچھی جلد کے لیے مناسب مقدار میں پانی کا استعمال کیا جائے۔ مسلز اکڑنا اگر صبح اٹھنے کے بعد جسم کے مختلف حصوں میں اکڑن اور تناؤ محسوس ہو تو یہ بھی پانی کی کمی کا نتیجہ ہوسکتا ہے، اگر آپ اضافی اکڑن محسوس کریں تو فوری طور پر پانی پی لیں تاکہ تناؤ میں کمی آسکے





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس