شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

عمران خان میرا پرانا دوست، میں اس کی دل سے عزت کرتا ہوں اس لیے ۔۔۔۔ تحریکِ انصاف میں شمولیت کے حوالے سے چوہدری نثار کا فیصلہ کن اعلان


لاہور (ویب ڈیسک ) چوہدری ںثار نے تحریک انصاف میں شمولیت سے متعلق اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ اور ن لیگ کے سینئر رہنما چوہدری نثار کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ وہعمران خان کی قدر کرتے ہیں۔ عمران خان اور ان کا تعلق زمانہ طالب علمی سے ہے۔وہ

دونوں بہترین دوست ہیں، تاہم ساڑھے 3 برس سے دونوں کے درمیان کسی قسم کا رابطہ قائم نہیں ہوا۔ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ پارٹی میں شمولیت کی عمران خان کی دعوت کی قدر کرتے ہیں، تاہم اس حوالے سے فی الحال کوئی جواب نہیں دیں گے۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کئی مواقعوں پر سابق وزیر داخلہ اور اپنے پرانی ساتھی چوہدری نثار کو اپنی جماعت میں شمولیت کی دعوت دے چکے ہیں۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ اب چوہدری نثار ان کی جماعت میں شامل ہو جائیں۔ تاہم چوہدری نثار اس حوالے سے کوئی واضح موقف اختیار کرنے سے گریزاں ہیں۔ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سے متعلق ن لیگ کے مؤقف سے میں نے اختلاف کیا اور سپریم کورٹ سے متعلق ن لیگ کا موجودہ مؤقف پارٹی بیانیہ نہیں بلکہ ایک سیاسی مؤقف ہے۔چوہدری نثار نے کہا کہ ن لیگ کے اندر میں واحد شخص تھا جس نے پاناما معاملہ عدالت لے جانے سے منع کیا تھا، پہلے دن سے مؤقف تھا کہ سپریم کورٹ سے تصادم کی پالیسی نہیں اپنانی چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر یہ تجزیہ نہیں ہوتا کہ صحیح ہے یا غلط بلکہ اس

پر عمل کیا جانا چاہیے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر یہ نہیں لکھا کہ اس پر تجزیہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط ہےتو اس کے ذمے دار ہم ہیں کیونکہ ہم خود معاملہ عدالت لیکر گئے تھے۔عمران خان کے حوالے سے سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ان سے میرا تعلق اسکول کے زمانے کا ہے، میرے خلاف اور کچھ نہیں ملتا تو کہا جاتا ہے عمران خان سے دوستی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی طور پر پی ٹی آئی اور عمران خان پر تنقید کر سکتا ہوں لیکن ذاتی طور پر نہیں، نوازشریف سے کہا کہ میں عمران خان پر تنقید نہیں کر سکتا کیونکہ ان سے 30 سال کا تعلق ہے جسے بگڑنے میں بھی 30 سال لگنے چاہئیں۔مسلم لیگ (ن) کی پارٹی صدارت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر چوہدری نثار نے کہا کہ موجودہ حالات میں شہباز شریف پارٹی کے لیے نیک شگون ہیں۔چوہدری نثار نے کہا کہ مریم نواز پارٹی لیڈر نہیں ہیں لیکن اگر مستقبل میں وہ پارٹی لیڈر بنتی ہیں تو میں اس کا حصہ نہیں ہوں گا۔ان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہو چکی تھی اور ان کے دونوں بیٹے بیرون ملک تھے اس لیے اس وقت بینظیر کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا۔پارٹی ٹکٹ کے

حوالے سے چوہدری نثار نے کہا کہ میں کسی کے ٹکٹ کا محتاج بھی نہیں ہوں اور زندگی میں کبھی ٹکٹ کے لیے درخواست نہیں دی۔سینیٹ الیکشن کے حوالے سے رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ رضا ربانی نے مشکل حالات میں اچھے طریقے سے سینیٹ کو چلایا، اگر ہم رضا ربانی کو لانا چاہتے تھے تو ان کا نام عام کرنے کی کیا ضرورت تھی۔سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ آخری وقت میں سینیر ترین شخص راجا ظفرالحق کو نامزد کیا گیا، جب نمبرز پورے نہیں تھے تو اتنے سینئر شخص کو نامزد نہیں کرنا چاہیے تھا۔ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں ہوتا تو کہتا کہ پارٹی کہتی رہے لیکن میں ڈپٹی چیئرمین کیلیے ووٹ نہیں ڈالوں گا، ہمیں اپنی غلطیوں کا ادراک اور احساس کرنا چاہیے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس