وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ان دنوں برطانیہ کے شہر لندن میں موجود ہیں لیکن اپنے کام کےتئیں ان کی لگن اور محنت ان کی بین الاقوامی شہرت کا راز ہے ۔


وزیراعلی پنجاب کا یہ خاصا رہا ہے کہ وہ اپنے ترقیاتی پراجیکٹس کی رپورٹ کا ہر سہ ماہی خود جائزہ لیتے ہیں اور یہ روٹین سالہا سال سے چلی آرہی ہے آج لندن میں ہونے کے باوجود اپنے اس سہ ماہی اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا اور تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ڈویلپمنٹ کا بذات خود جائزہ لیا تقریبا تین گھنٹے دورانیے پر مشتمل تقریب میں وزیر تعلیم رانا مشہود، وزیر صحت خواجہ عمران نذیر اور دیگر سرکاری افسران نے حصہ لیا اس سہ ماہی جائزے میں عالمی شہرت یافتہ ایجوکیشنسٹ اورڈیفڈ کے مینجنگ پارٹنر ، ڈلیوری ایسوسی ایٹ سر مائیکل باربر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور پاکستان میں بالخصوص پنجاب نے تعلیم اور صحت کے شعبہ میں ہونے والی مثبت تبدیلیوں کا ذکر کیا ان کا کہنا تھا کی ساری ترقی کا سہرا وزیراعلی پنجاب کے سر جاتا ہے۔پنجاب کے وزیر اعلی محمد شہباز شریف کی ویژنری قیادت نے بہت متاثر کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام کو بہترین خدمات کی فراہمی کیلئے شہباز شریف دن رات کوشاں ہیں ۔ پنجاب کی تعریف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے لوگ محنتی، مخلص ، دیانتدار، باوقار ، با حوصلہ، سربلند اور منزل کے حصول کیلئے سر بکف ہیں پنجاب کی ’’گریٹ سٹوری‘‘مجھے ہمیشہ متاثر کرتی رہے گی ۔ یہ پنجاب میں ترقی کے سفر کا آغاز ہے ، انجام نہیں ۔انہوان نےکہا کہوزیر اعلی کی تعلیم اور صحت کو ترجیح دیتے ہوئے توجہ اور ارتکاز پر ہمیشہ حیرت زدہ ہوا ہوں ۔آپ کی قیادت پرتھرڈ پارٹی کے تجزیے کے مطابق پنجاب میں تعلیم اور صحت سمیت دیگر شعبوں میں ترقی کے اعداد و شمار قابل رشک ہیں ۔پنجاب نے محمد شہباز شریف کی قیادت میں بہت سارے اختراعی اقدامات کر کے سبقت حاصل کر لی ۔بہت سے لوگ سمجھتے تھے کہ یہ اہداف حاصل نہیں کئے جا سکتے لیکن حکومت پنجاب نے اور خادم۔پنجاب کے وژن نے یہ کر دکھایا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ بھٹہ مزدوروں کے بچوں کو اینٹ گارے سے نکال کر سکول لیجانا وزیر اعلی پنجاب کا متاثر کن اقدام ہے ۔ تقریب کے دیگر شرکا نے بھی خادم پنجاب کی شبانہ روز محنت اور انتھک کاوشوں کو سراہا اور دوسرے صوبوں کی نسبت پنجاب میں تعلیم اور صحت کے امورمیں بے مثال کامیابیاں حاصل کرنے پر وزیر اعلی پنجاب کو مبارکباد پیش کی۔ صحت کے شعبہ میں دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ یونٹس کے ذریعے سہولیات کو فراہم کرنا ایک لائق تحسین اقدام ہے اجلاس میں صحت کے شعبے میں ہونے والی انقلابی تبدیلیوں کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا گیا اور ہسپتالوں کی تعمیر و بحالی، سٹی سکین مشینوں کی تنصیب، موبائل ہیلتھ یونٹ کی پرفارمنس، ٹیچنگ سکولز کی کارکردگی اور دیگر امور پر خادم پنجاب کو رپورٹ پیش کی گئی اسی طرح تعلیم کے شعبہ میں سکولوں کی کارکردگی، نئے اسکولوں کی تعمیر، دیہی علاقوں میں بچوں کی انرولمنٹ، اساتذہ کی ٹریننگ اور غریب اور مستحق طلباء کو پیف کے ذریعے ملنے والے سکالرشپ پر وزیراعلی کو رپورٹ کیا گیا وزیر اعلی نے بذات خود تعلیم اور صحت کے شعبے میں کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا اور عملے کی محنت کو سراہا اجلاس کے اختتام پر انھوں نے سر مائیکل باربر اور دیگر شرکا کا شکریہ بھی ادا کیا علاج کی غرض سے لندن میں موجود ہونے کے باوجود اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اور تعلیم اور صحت کے شعبہ میں عوام کو سہولیات فراہم کرنے کا عہد نبھاتے ہوئے ویڈیو لنک کے ذریعے اس سہ ماہی اجلاس کی صدارت کرنا اور محکمے کے افسران سے رپورٹ طلب کرنا ایک قابل قدر اقدام ہے

جمعہ کی چھٹی کا اعلان کر دیا گیا


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سرکاری ملازمین کی موجیں لگ گئیں، وفاقی سرکاری ملازمین کیلئے یوم پاکستان کے موقع پر 3 چھٹیوں کااعلان کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق یوم پاکستان 23 مارچ اس سال جمعۃ المبارک کو ہوگا ۔ یوم پاکستان کے موقع پر وفاقی سرکاری ملازمین کو خوشخبری سناتے ہوئے تین تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ فاقی محکموں کے ملازمین

کو ہفتہ اور اتوار کی تعطیل ہوتی ہے جبکہ جمعة المبارک کویوم پاکستان کے سلسلہ میں چھٹی ہوگی اس طرح وفاقی سرکاری ملازمین ایک ساتھ تین چھٹیوں سے لطف اندوز ہوں گئے۔

وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف علاج کی غرض سے لندن روانہ


مانیٹرنگ نیوزلاہور : وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف اپنے نجی دورے پر برطانیہ کے شہر لندن روانہ ہوںگے جہاں وہ اپنا ریگولر چک اپ کروائیں گے جلاوطنی کے دور میں لندن کے ایک ہسپتال میں آپ میں کینسر کی تشخیص ہوئی لہذا آپ نے وہیں سے اپنا علاج شروع کروایا۔ چونکہ آپ کے مرض کی مکمل ہسٹری اسی ہسپتال میں موجود ہے اور دنیا بھر میں

بھی جہاں سے کینسر کا علاج شروع کیا گیا ہو آپ کو وہیں پر اسے جاری رکھنا پڑتا ہے لہذا پاکستان آجانے کے بعد بھی آپکو اپنے ریگولر چیک اپ کے لیےاپنے ہی انکالوجسٹ کے پاس لندن جانا ہوتا ہے۔ آج دوپہر میں آپ کی روانگی متوقع ہے‎

 

پی ٹی آئی کوبڑاجھٹکا،عامرلیاقت کے پارٹی میں شامل ہونے کے بعد35سال پرانے ساتھی نے ساتھ چھوڑ دیا


کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کوجہاں ایک طرف بڑی کامیابی ملی تودوسری طرف پارٹی کوبڑاجھٹکابھی لگ گیا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ملک کےمعروف اینکرپرسن اورسابق وفاقی وزیرڈاکٹرعامرلیاقت نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیارکرلی اورعمران خان کے ساتھ پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی میں شمولیت کاباقاعدہ

اعلان بھی کردیاتودوسری طرف کپتان کے پرانے ساتھی اورگلوکارسلمان احمدنے پاکستان تحریک انصاف سے راہیں جداکرلیں۔سلمان احمدنے اس موقع پرکہاکہ میں نے 35سال تک عمران خان کادنیابھرمیں دفاع کیااوراب مزیدایساکرنامیرے لیے ممکن نہیں۔مجھے خوف ہے کہ رینگنے والے کیڑوں نے انہیں گھیرلیاہے۔

پاکستان میں بھونچال ‘ ڈالر نے تاریخ کے سارےریکارڈ توڑ دئیے نئی قیمت نے پاکستانیوں کو حیران وپریشان کردیا


کراچی(ویب ڈیسک) ا نٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، کاروبار کا آغاز ہوتے ہی پہلے 2 گھنٹوں کے دوران ڈالر کی قیمت میں 7 سے 8 روپے کا اضافہ ہوگیا ہے. فاریکس ڈیلرزکے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں طلب اور رسد کے درمیان بڑھتے خلا کی وجہ سے روپیہ شدید دباؤکا شکار ہے، صبح 9 بجے سے کاروبار کا آغاز

ہونے کے بعد 11 بجے تک ڈالر کی قیمت میں 7 سے 8 روپے کا اضافہ ہوا اور یہ 110 روپے 50 پیسے سے بڑھ کر 117 روپے 50 پیسے پر آگیا ہے. معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں گراوٹ کی وجہ سے درآمدی اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافے کے خدشات بڑھ چکے ہیں جبکہ ڈالر کی قدر میں اضافے کی وجہ سے پہلے سے خطرناک حد تک بڑھتے تجارتی خسارے میں مزید اضافے کے خطرات بڑھ گئے ہیں. نجی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئےمعاشی تجزیہ کار اسد رضوی کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائردباو¿کاشکارہیں.بیرونی قرض اور دیگر ادائیگیوں پر ہفتہ وار 20سے25کروڑ ڈالر کی ادائیگی کرنی پڑ رہی ہے. معاشی تجزیہ کار محمد سہیل نے کہا کہ روپے کی قدرمیں کمی سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پرمزید منفی اثرات مرتب ہوں گے. انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدر میں 4 فیصد کمی ریکارڈ کی جاچکی ہے. 3 سے 4 ماہ میں انٹربینک میں ڈالر 105 روپےسے بڑھ کر117روپے کی ریکارڈسطح پرپہنچ چکاہے.معاشی تجزیہ کارمزمل اسلم کا کہنا ہے کہ اب مہنگائی کا

دورشروع ہوگا، گاڑیاں اوردیگرچیزیں مہنگی ہوں گی. مارکیٹ ذرائع کے مطابق ڈالر کی کمی کی وجہ سے روپے کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے، تیل کی ادائیگیوں اور دیگر درآمدی ادائیگیوں کے دباؤ کی وجہ سے انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالرکی مانگ میں اضافے کے پیش نظر ڈالرکی قدرمیں اضافہ ہو رہا ہے۔

شاہدمسعودکوسمجھائیں ورنہ۔۔۔۔چیف جسٹس نے وکیل سے بڑی بات کہہ دی


اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان نے زینب قتل کیس میں مجرم کے اکاؤنٹس کا دعویٰ کرنے والے اینکر شاہد مسعود پر کیس کی سماعت کے دوران شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی سرزنش کی ہے۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ زینب قتل کیس میں اینکر شاہد مسعود کے الزامات سے متعلق کیس کی سماعت

کررہا ہے۔دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے اینکر شاہد مسعود پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تو آپ سے محبت کی لیکن لگتاہے شاہد مسعود کو بڑوں کی نصیحت کااحساس نہیں، دوسرے دن بھی پروگرام میں میرے کورٹ آفیسر کی تضحیک کی، آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرے لاء آفیسر کی توہین کرنے کی؟ دیکھتا ہوں کتنے دن پروگرام چلتا ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے شاہد مسعود کے وکیل شاہ خاور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شاہ خاور صاحب انہیں سمجھایا کریں اور اپنی زبان میں سمجھا دیں، ورنہ ہمیں بھی آتا ہے کس طرح عزت کروائی جاتی ہے، اب جا کر ٹی وی پر نہ بولنا شروع کردیں،جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہوسکتاہے شاہد مسعود کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں۔چیف جسٹس نے عدالتی عملے کو اینکر شاہد مسعود کے پروگرام کا حصہ پروجیکٹر پر لگانے کی ہدایت کی جو سماعت میں وقفہ ختم ہونے کے بعد چلایا جائے گا۔واضح رہے کہ رواں برس جنوری میں پنجاب کے ضلع قصور میں زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی کمسن زینب کے کیس میں ٹی وی اینکر شاہد مسعود نے مجرم عمران کے بیرون ملک 37 بینک اکاؤنٹس ہونے کا دعویٰ کیا

تھا جس پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا جب کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی معاملے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنائی تھی۔

عمران خان میرا پرانا دوست، میں اس کی دل سے عزت کرتا ہوں اس لیے ۔۔۔۔ تحریکِ انصاف میں شمولیت کے حوالے سے چوہدری نثار کا فیصلہ کن اعلان


لاہور (ویب ڈیسک ) چوہدری ںثار نے تحریک انصاف میں شمولیت سے متعلق اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ اور ن لیگ کے سینئر رہنما چوہدری نثار کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ وہعمران خان کی قدر کرتے ہیں۔ عمران خان اور ان کا تعلق زمانہ طالب علمی سے ہے۔وہ

دونوں بہترین دوست ہیں، تاہم ساڑھے 3 برس سے دونوں کے درمیان کسی قسم کا رابطہ قائم نہیں ہوا۔ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ پارٹی میں شمولیت کی عمران خان کی دعوت کی قدر کرتے ہیں، تاہم اس حوالے سے فی الحال کوئی جواب نہیں دیں گے۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کئی مواقعوں پر سابق وزیر داخلہ اور اپنے پرانی ساتھی چوہدری نثار کو اپنی جماعت میں شمولیت کی دعوت دے چکے ہیں۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ اب چوہدری نثار ان کی جماعت میں شامل ہو جائیں۔ تاہم چوہدری نثار اس حوالے سے کوئی واضح موقف اختیار کرنے سے گریزاں ہیں۔ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سے متعلق ن لیگ کے مؤقف سے میں نے اختلاف کیا اور سپریم کورٹ سے متعلق ن لیگ کا موجودہ مؤقف پارٹی بیانیہ نہیں بلکہ ایک سیاسی مؤقف ہے۔چوہدری نثار نے کہا کہ ن لیگ کے اندر میں واحد شخص تھا جس نے پاناما معاملہ عدالت لے جانے سے منع کیا تھا، پہلے دن سے مؤقف تھا کہ سپریم کورٹ سے تصادم کی پالیسی نہیں اپنانی چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر یہ تجزیہ نہیں ہوتا کہ صحیح ہے یا غلط بلکہ اس

پر عمل کیا جانا چاہیے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر یہ نہیں لکھا کہ اس پر تجزیہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط ہےتو اس کے ذمے دار ہم ہیں کیونکہ ہم خود معاملہ عدالت لیکر گئے تھے۔عمران خان کے حوالے سے سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ان سے میرا تعلق اسکول کے زمانے کا ہے، میرے خلاف اور کچھ نہیں ملتا تو کہا جاتا ہے عمران خان سے دوستی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی طور پر پی ٹی آئی اور عمران خان پر تنقید کر سکتا ہوں لیکن ذاتی طور پر نہیں، نوازشریف سے کہا کہ میں عمران خان پر تنقید نہیں کر سکتا کیونکہ ان سے 30 سال کا تعلق ہے جسے بگڑنے میں بھی 30 سال لگنے چاہئیں۔مسلم لیگ (ن) کی پارٹی صدارت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر چوہدری نثار نے کہا کہ موجودہ حالات میں شہباز شریف پارٹی کے لیے نیک شگون ہیں۔چوہدری نثار نے کہا کہ مریم نواز پارٹی لیڈر نہیں ہیں لیکن اگر مستقبل میں وہ پارٹی لیڈر بنتی ہیں تو میں اس کا حصہ نہیں ہوں گا۔ان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہو چکی تھی اور ان کے دونوں بیٹے بیرون ملک تھے اس لیے اس وقت بینظیر کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا۔پارٹی ٹکٹ کے

حوالے سے چوہدری نثار نے کہا کہ میں کسی کے ٹکٹ کا محتاج بھی نہیں ہوں اور زندگی میں کبھی ٹکٹ کے لیے درخواست نہیں دی۔سینیٹ الیکشن کے حوالے سے رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ رضا ربانی نے مشکل حالات میں اچھے طریقے سے سینیٹ کو چلایا، اگر ہم رضا ربانی کو لانا چاہتے تھے تو ان کا نام عام کرنے کی کیا ضرورت تھی۔سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ آخری وقت میں سینیر ترین شخص راجا ظفرالحق کو نامزد کیا گیا، جب نمبرز پورے نہیں تھے تو اتنے سینئر شخص کو نامزد نہیں کرنا چاہیے تھا۔ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں ہوتا تو کہتا کہ پارٹی کہتی رہے لیکن میں ڈپٹی چیئرمین کیلیے ووٹ نہیں ڈالوں گا، ہمیں اپنی غلطیوں کا ادراک اور احساس کرنا چاہیے۔

ہائیکورٹ نے زینب کے قاتل کی اپیل پرفیصلہ سنادیا


لاہور(ویب ڈیسک)لاہور ہائیکورٹ نے زینب قتل کیس کے مجرم عمران کی سزائے موت کیخلاف اپیل خارج کردی۔تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صداقت علی خان پر مشتمل بنچ نے زینب قتل کیس کے مجرم عمران کی سزائے موت کیخلاف اپیل کی سماعت کی ۔دوران سماعت مجرم عمران کے وکیل نے دلائل دینے کیلئے مہلت کی استدعاکی۔جسٹس

صداقت علی خان نے مہلت کی استدعا مستردکرتے ہوئے کہا کہ زینب کیس کی کارروائی میں تاریخ نہیں دیں گے۔جسٹس شہرام سرور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہ مجرم عمران کوڈی این اے میچ ہونے پرپکڑاگیا،1187افرادمیں صرف عمران کاڈی این اے میچ ہواعدالت کا کہناتھا کہ مجرم عمران نے سزامیں کمی کی اپیل کی،آپ بریت کی بات کررہے ہیں؟،تفتیش میں ثابت ہو چکا ہے عمران ہی اصل مجرم ہے ۔جسٹس صداقت علی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتیں بروقت فیصلہ کریں توآپ کواعتراض نہیں کرناچاہئے،عدالت نے زینب قتل کیس کے مجرم عمران کی سزائے موت کیخلاف اپیل خارج کردی۔

پاکستان آنے سے انکار کے بعد اچانک شین واٹسن کا پاکستانیوں کیلئے پیغام، کیا کہا ؟


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )آسٹریلوی کرکٹراورپی ایس ایل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرکی جانب سے کھیلنے والے شین واٹسن نے مداحوں کاشکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ پی ایس ایل میں کوئٹہ کوسپورٹ کرنے پرمداحوںکاشکرگزارہوں۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی فرنچائز بہت زبردست تھی اورمیں نے کھلاڑیوں کے ساتھ بہت مستی مذاق کیا۔ہماری ٹیم نے سیمی فائنل

کے لیے کوالیفائی کیاہے اورامیدہے کہ فین اسی طرح ہماری ٹیم کوسپورٹ کرتے رہیں گے۔میں دل پرپتھررکھ کرکہہ رہاہوں کہ میں ٹیم کوچھوڑ رہاہوں۔یہ فیصلہ بہت مشکل تھامیری بیوی اوراس کے والدین میرے پاکستان جانے پرراضی نہیں تھے ۔انہوں نے مزیدکیاکہاجاننے کے لیے ویڈیوملاحظہ کریں

blob:https://www.dailymotion.com/fa19fb1a-d3b7-4173-9e1c-b980f7073e50

ایک ایساپاکستانی جس نے اپنی ماں کو حج کروانے کا خواب پورا کرنے کے لیے ساری زندگی شادی نہیں کی


وہ نائب قاصد تھا‘ پوسٹل سروس کے چیئرمین کے دفتر پر کام کرتا تھا‘ وہ صاحب کی فائلیں ڈی جی کے آفس لے کر جاتا تھا‘ فائلیں وہاں سے اکاؤنٹس برانچ جاتی تھیں اور پھران فائلوں کو واپس چیئرمین آفس لانا بھی اس کی ذمہ داری تھی‘نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔بندہ محمد بشیر کی ذمہ داریاں یہیں تک محدود نہیں تھیں بلکہ

گرمیوں میں صاحب کے آنے سے پہلے اے سی آن کرنا اور سردیوں میں ہیٹر جلا کر دفتر گرم کرنا‘ میز کی صفائی‘ ڈسٹ بین کلیئر کرنا‘ باتھ روم میں تولیہ‘ صابن‘ ٹشو پیپرز‘ ٹوتھ پیسٹ اور ماؤتھ واش رکھنا۔ صاحب کی گاڑی کا دروازہ کھولنا‘ ڈکی سے بریف کیس نکالنا‘ مہمانوں کا استقبال‘ چائے پانی کا بندوبست‘ ٹفن باکس کھول کر لنچ لگانا‘ برتن دھونا‘ صاحب کا ۔ کوٹ اتارنا‘ میٹنگ سے پہلے کوٹ پہنانا‘ صاحب کا بریف کیس گاڑی تک لانا‘ صاحب کےلئے دروازے کھولنا‘ صاحب کے جانے کے بعد دفتر کو اپنی نگرانی میں لاک کرانا‘ بیگم صاحبہ کی فرمائشیں پوری کرنا‘ خانساماں کو سبزی‘ ترکاری‘ گوشت اور اناج کی دکانوں تک لے کر جانا‘ درزی سے کپڑے لانا‘ بیگم صاحبہ کے جوتے تبدیل کرانا اور دھوبی کے ساتھ حساب کرنا بھی اس کے فرائض میں شامل تھا لیکن ان تمام فرائض کی ادائیگی کے بعد اسے صرف آٹھ ہزار روپے ملتے تھے‘ یہ آٹھ ہزار روپے اس کی کل متاع تھے‘ زندگی کے تمام تقاضے آٹھ ہزار روپے کے اس کمزور سے ستون پر کھڑے تھےاور یہ ستون روز دائیں بائیں لرزتا کانپتا تھا۔وہ نسلوں سے غریب تھا‘ والد بھی نائب قاصد تھا‘ وہ فوت ہونے سے پہلے اسے

بھی نائب قاصد بھرتی کراگیا‘ تعلیم انڈر میٹرک تھی اور یہ تعلیم بھی اس نے ٹھنڈی ننگی زمین پر بیٹھ کر حاصل کی تھی‘ بہنیں شادی شدہ تھیں مگر وہ بھی عسرت ناک زندگی گزار رہی تھیں‘ ایک بڑا بھائی تھا‘ وہ غربت کی وجہ سے بھاگ گیا‘ وہ آخری بار کراچی میں دیکھا گیا‘ اس کے بعد اس کی کوئی خبر نہیں ملی‘ چیئرمین صاحب کی مہربانی سے والد کا سرکاری کوارٹر اس کے نام منتقل ہو گیا‘ یہ بوسیدہ‘ بدبودار کوارٹر اس کی کل کائنات تھا لیکن ٹھہریئے کوارٹر کے علاوہ بھی اس کی ایک کائنات تھی۔ یہ کائنات بوڑھی بیمار والدہ تھی‘ بندہ محمد بشیر نے بچپن میں مولوی صاحب سے سن لیا‘ ماں کی خدمت کرنے والا دنیا اور آخرت دونوں میں سرفراز ہوتا ہے‘یہ نقطہ بیج بن کر اس کے دماغ کی زرخیز مٹی میں گرا اور وہ بیج وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تناور درخت بن گیا‘ ماں اس کی واحد پناہ گاہ تھی اور وہ ماں کا تنہا سہارا تھا‘ وہ دن کے وقت چیئرمین صاحب کی چاکری کرتا تھا اور صبح‘ شام اور رات میں والدہ کی خدمت‘ یہ اس کی کل زندگی تھی‘میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں بندہ محمد بشیر نے شادی نہیں کی کیوں؟ یہ وجہ بھی اس کی زندگی کی طرح دلچسپ تھی‘ بندہ محمد بشیر کی

والدہ حج کرنا چاہتی تھی‘ یہ والدہ کی زندگی کی واحد خواہش تھی‘ بندہ محمد بشیر جب ماں کی گود میں تھا تو ماں اسے تھپتھپاتی تھی‘ ہلاتی تھی‘ لوریاں دیتی تھی اور ساتھ ساتھ کہتی جاتی تھی ”میرا محمد بشیر مجھے حج کرائے گا‘ میرا محمد بشیر مجھے مکے مدینے لے کر جائے گا“ بندہ محمد بشیر یہ فقرہ سن سن کر بڑا ہوا تھا چنانچہ اس نے ماں کے حج کو بھی اپنے فرائض کا حصہ بنا لیا تھا‘ وہ ماں کو ہر صورت حج کرانا چاہتا تھا حج مہنگا تھا اور بندہ محمد بشیر کی آمدنی قلیل تھی‘ وہ اگر اس قلت میں شادی بھی کر لیتا تو ماں کا حج ناممکن ہو جاتا چنانچہ اس نے ماں کے حج تک شادی نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا‘ وہ ہر ماہ اپنی قلیل آمدنی سے ڈیڑھ دو ہزار روپے بچاتا لیتا تھا اور ماں کے حج فنڈ میں جمع کر دیتا تھا‘ یہ فنڈ چیونٹی کی طرح رینگتا رینگتا آگے بڑھ رہا تھا‘ ہم سٹوری کو یہاں روکتے ہیں اور آپ کو یہ بتاتے ہیں لوگ محمد بشیر کو بندہ محمد بشیر کیوں کہتے تھے‘ اللہ تعالیٰ نے محمد بشیر کو عاجزی اور انکساری کی نعمت سے نواز رکھا تھا‘

وہ جس کو بھی اپنا تعارف کراتا تھا‘ ذرا سا جھکتا تھا اور سینے پر ہاتھ رکھ کر کہتا تھا ”بندے کا نام ہے محمد بشیر“ سننے والوں کو ہنسی آ جاتی تھی‘ لوگوں نے آہستہ آہستہ اس کا نام ہی بندہ محمد بشیر رکھ دیا‘ وہ اس ٹائٹل پر خوش تھا‘ وہ درخواستوں میں خود اپنا نام بندہ محمد بشیر لکھ دیتا تھا اور یوں وہ سچ مچ بندہ محمد بشیر بن گیا۔ہم واپس ماں کے حج کی طرف آتے ہیں‘ بندہ محمد بشیر نے بہرحال 2005ءمیں حج کے پیسے جمع کر لئے‘ وہ درخواست جمع کرانے گیا تو پتہ چلا ماں محرم کے بغیر حج نہیں کر سکتی ۔ یہ نئی افتاد تھی‘وہ بڑی مشکل سے دس سال میں ایک حج کے پیسے جمع کر پایا تھا‘ وہ اب اپنے لئے کہاں سے پیسے لاتا؟ وہ ہمت ہار گیا اور پریشانی کے عالم میں گلیوں میں پھرنے لگا‘ اس دوران ایک اور واقعہ پیش آ گیا‘ محمد نعیم ساتھی نائب قاصد تھا‘ نعیم کا بیٹا پتنگ اڑاتا ہوا چھت سے گر گیا‘ بچہ شدید زخمی تھا‘ نعیم کو آپریشن کےلئے دو لاکھ روپے چاہیے تھے‘ اس نے دوڑ بھاگ کر کے لاکھ روپے جمع کرلئے‘ لاکھ روپے کی کمی تھی‘ نعیم مجبوری کے عالم میں بندہ محمد بشیر کے پاس آ گیا‘

محمد بشیر عجیب مخمصے کا شکار ہوگیا‘ وہ حج کی دوسری درخواست کےلئے خود قرض تلاش کر رہا تھا جبکہ محمد نعیم اس سے ماں کی درخواست کے پیسے بھی مانگ رہا تھا‘ وہ نعیم کو انکار کرتا تو بچے کے بچنے کے امکانات کم ہو جاتے اور وہ اگر حج کے پیسے نعیم کو دے دیتا تو ماں بیمار تھی وہ حج کے بغیرہی دنیا سے رخصت ہو جاتی‘ محمد بشیر بری طرح پھنس گیا‘ نعیم کے پاس وقت کم تھا‘ وہ محمد بشیر کے قدموں میں جھک گیا اور یہ وہ لمحہ تھا جس میں بشیر نے اپنی زندگی کا مشکل ترین فیصلہ کیا‘ وہ گھر گیا‘ الماری سے رقم نکالی اور نعیم کے حوالے کردی ۔ وہ اس کے بعد سیدھا مسجد گیا‘ دو رکعت نماز نفل پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعا کی ”یا باری تعالیٰ میری کوشش میں کوئی کمی نہیں تھی‘ شاید آپ ہی کو منظور نہیں تھا‘ آپ اب میری ماں کو صبر دے دیں‘ آپ اسے حوصلہ دے دیں“ یہ دعا دعا کم اور دوا زیادہ تھی‘ وہ اطمینان قلب کی دولت سمیٹ کر گھر واپس آیا اور گہری نیند سو گیا۔بندہ محمد بشیر کا اگلا دن حیران کن تھا‘ محکمے نے دو سٹاف ممبرز کو سرکاری اخراجات پر حج پر بھجوانے کا فیصلہ کیا‘ قرعہ اندازی ہوئی اور بندہ محمد بشیر اور محمد نعیم کے نام نکل آئے‘

محمد نعیم کو ہسپتال میں اطلاع دی گئی‘ وہ سیدھا دفتر آیا‘ چیئرمین سے ملاقات کی اور محمد بشیر کی زندگی‘ دس سال تک ماں کے حج کےلئے رقم جمع کرنے اور پھر یہ رقم زخمی بچے کے آپریشن کےلئے دینے تک ساری داستان انہیں سنا دی‘ چیئرمین کے ماتھے پر پسینہ آ گیا‘ محمد نعیم نے چیئرمین سے عرض کیا ” میری درخواست ہے آپ میری جگہ محمد بشیر کی والدہ کو حج پر بھجوا دیں‘ میں جوان آدمی ہوں‘ مجھے اللہ تعالیٰ مزید مواقع دے گا“ چیئرمین کے پاس انکار کی گنجائش نہیں تھی‘ نعیم نے درخواست دی۔ چیئرمین نے منظوری دے دی اور یوں بندہ محمد بشیر اپنی والدہ کو ساتھ لے کر حج پر روانہ ہو گیا‘ محمد بشیر حج کے دوران اپنی ماں کی جی جان سے خدمت کرتا رہا‘ یہ خدمت دیکھ کر ایک ساتھی خاندان متاثر ہوا اور حج کے دوران ہی اسے بیٹی کا رشتہ دے دیا‘ وہ اور اس کی والدہ واپس آئے‘ چند ماہ بعد شادی ہوئی‘ سسر نے بیٹی کو جہیز میں دس مرلے کا چھوٹا سا مکان دے دیا‘ یہ لوگ نئے گھر میں شفٹ ہوئے‘ لڑکی پڑھی لکھی اور سمجھ دار تھی‘ اس نے گھر میں دس سلائی مشینیں رکھیں۔ محلے کی لڑکیاں اکٹھی کیں اور اپنا بوتیک بنا لیا‘ بوتیک کامیاب ہو گیا‘ آج دس برس بعد بندہ محمد بشیر ملک محمد بشیر بن چکا ہے‘ یہ ہر سال دس ضرورت مندوں کو حج کراتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہے‘ یہ اپنی کامیابی کو کامیابی نہیں حج اکبر کہتا ہے‘ ایک ایسا حج جس کا دروازہ محمد نعیم کے زخمی بیٹے کے زخمی سر میں تھا اور محمد بشیر اس پھٹے ہوئے کھلے سر سے ہوتا ہوا خانہ کعبہ پہنچا تھا ” دی بیسٹ روڈ ٹو مکہ“۔