شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

وہ گاؤں جہاں ایڈز وباء کی طرح پھیلنے لگا، درجنوں طے شدہ شادیاں منسوخ کردی گئیں


بنگارامو (نیوز ڈیسک) ایڈز کی جان لیوا بیماری کے حوالے سے کبھی پسماندہ افریقی ممالک سرفہرست تھے لیکن اب بھارت میں یہ بیماری کچھ یوں پھیلنے لگی ہے کہ کئی علاقوں میں تو افراتفری کی سی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ریاست اترپردیش کے علاقے اناؤ میں بھی یہی صورتحال ہے، جہاں ایڈز اس تیزی سے پھیل رہی ہے کہ لوگ خوفزدہ ہوکر اپنے گھروں کو

چھوڑ کر علاقے سے نکل رہے ہیں اور دیہاتوں کے دیہات خالی ہورہے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق پریم گنج سے تعلق رکھنے والے مکیش نامی شخص نے بتایا کہ اس کی بڑی بہن کی منگنی ہردوئی ڈسٹرکٹ کے ایک شخص سے ہوئی تھی اور وہ بھرپور طریقے سے شادی کی تیاریاں کررہے تھے۔ جیسے ہی پریم گنج میں ایڈز کی لہر کی خبریں سامنے آئیں تو لڑکے والوں نے شادی سے انکار کردیا۔ مکیش کا کہنا ہے کہ انہوں نے لڑکے والوں سے بات چیت کی کوشش کی مگر وہ شادی پر کسی طور تیار نہیں ہوئے۔ ان کے خاندان میں کوئی بھی ایڈز سے متاثرہ شخص نہیں ہے لیکن آس پاس کے علاقے میں ایڈز کے پھیلاؤ نے ہر کسی کو مشکوک بنادیا ہے۔ ان مسائل کا سامنا ہر کسی کو ہے اور اکثر لوگ اس صورتحال سے نکلنے کا واحد طریقہ علاقہ چھوڑنے کو ہی سمجھ رہے ہیں۔ شیوا نامی 45 سالہ شخص نے بتایا کہ وہ شہر میں ملازمت کرتا ہے ۔ اگرچہ اس نے اپنا ٹیسٹ بھی کروایاہے اورا سے صحت مند قرار دیا گیا ہے لیکن دفتر میں ہر کوئی اس سے دور رہنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ اس کا تعلق بھی ایڈز سے متاثرہ علاقے سے ہے۔ رامیش نامی 28 سالہ نوجوان نے بتایا کہ اس کا ٹیسٹ پازیٹو آیا ہے جس کے بعد پورے علاقے نے اس کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ وہ اپنی دو بہنوں

اور والدین کے ساتھ پریم گنج کے علاقے میں رہتا ہے اور اب صورتحال یہ ہے کہ مقامی دکانداروں نے اس خاندان کو اشیائے ضرورت کی فروخت سے بھی انکار کردیاہے۔ رامیش کا کہنا تھا کہ اس کے لئے بھی اب اس کے سوا کو ئی چارہ نہیں رہا کہ وہ یہ علاقہ ہی چھوڑ جائے۔ اناؤ کے چیف میڈیکل آفیسر ایس پی چودھری کا کہنا تھا کہ گزشتہ کچھ عرصے میں اس علاقے سے ایڈز کے کافی کیس سامنے آئے ہیں لیکن خوف و ہراس بڑے پیمانے پر پھیل چکا ہے او رلوگ علاقے کو چھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خصوصی میڈیکل ٹیمیں علاقے میں روانہ کی جاچکی ہیں تاکہ بڑے پیمانے پر لوگوں کے ٹیسٹ کئے جائیں او ربیماری سے متعلق آگاہی پھیلا کر صورتحال کو قابو کرنے کی کوشش کی جائے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس