شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

نقیب کا قتل کس لڑکی کی وجہ سے ہوا؟ وہ لڑکی کس اعلیٰ شخصیت کی بیٹی ہے؟ نقیب محسود نے اسے کیا وعدہ کیا تھا؟ ۔۔


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) نقیب اللہ محسود کے قتل کے پیچھے وجہ سیاسی شخصیت کی بیٹی سے تعلقات یا کچھ اور،کالم نگار جمیل فاروقی نے اپنے کالم میں اہم سوالات اٹھا دئیے۔تفصیلات کے مطابق معروف اینکر پرسن و کالم نگار جمیل قاروقی نے اپنے ایک کالم عشق سے انکاؤٹر تک میں لکھا ہے کہ نوجوان جس کہ لمبے اور گھنے سیاہ بال تھے۔اور شکل سے

ہی نہیں بلکہ حقیقت میں بھی ماڈل جیسا تھا۔اس بات کا منتظر تھا کہ اس کے سپنوں کی رانی کی کال کب آئے گی۔یہ جانتے اور مانتے ہوئے بھی کہ لڑکا پہلے شادی شدہ ہے،لڑکی ماڈل نما خوبصورت نوجوان پر مر مٹی تھی۔فرق تو بہت تھا لیکن دونوں کی سوچ اور سمجھ کی قدریں کافی مشترک تھیں۔دونوں ماڈلنگ میں خوب دلچسپی رکھتے تھے۔اور ایک دوسرے میں بھی۔لڑکے کا نام نقیب اللہ محسود تھا۔یہ وہی نقیب اللہ محسود تھا جو کچھ دنوں تک راؤ انوار کے جعلی پولیس مقابلے کی بھینٹ چڑھنے والا تھا۔نقیب جس بے قراری میں سڑک پر چہل قدمی کر رہا تھا،اس سے لگ رہا تھا کہ اس کے ارادوں میں کچھ جھول ہے۔اچانک ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔اور دوسری طرف اس کے سپنوں کی رانی موجود تھی۔لڑکی نے کہا کہ میں تو نکا ح کے لئے تیار ہوں۔تم اپنا بتاؤ۔نقیب نے کہا میں بھی تیار ہوں لیکن تھوڑا ڈر لگ رہا ہے۔ایک ڈر اپنی اہلیہ اور بچوں کا ہے جب کہ دوسرا ڈر تمھارے گھر والوں کا ہے۔لڑکی نے کہا کچھ نہیں ہوتا میں تمھارے ساتھ ہوں۔نقیب نے کہا کہ ہم جنوری کے پہلے ہفتے کی بجائے معاملات کو دوسرے ہفتے تک مؤخر کر دیتے ہیں۔لڑکی پہلے تو نالاں دکھائی دی لیکن بعد میں مان گئی۔

لڑکی کی ہر کال ٹریس ہو رہی تھی۔اور لڑکی کے مبینہ امیر باپ اور سندھ کی مبینہ معروف سیاسی جماعت کے سیاسی عہدے دار کے لئے بد نما داغ سے کم نہیں تھا۔جس سے بچنے کے لئے لڑکی کے والد نے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او سے رابطہ کیا اور نقیب اللہ کی درگت بنانے کا کہا۔ایس ایچ او نے تمام مدعا راؤ انوار کے سامنے رکھا اور سائیں کے حکم سے آگاہ کیا۔دو جنوری کو نقیب کی اس لڑکی سے دوبارہ بات ہوئی اوریہ کال بھی ٹریس ہو رہی تھی۔اور پھر راؤ انوار اور ان کی ٹیم متحرک ہو گئی۔تین جنوری کو نقیب کو سادہ کپڑوں میں ملبوس کچھ افراد نے ہوٹل کے باہر سے اٹھایا۔اور نا معلوم مقام پر لے گئے۔ معلومات لی گئیں اور حقائق اکھٹے کئے گئے۔ لڑکی کے والد نے نقیب اللہ کو راستے سے ہٹانے کا ٹاسک دیا۔تو جعلی مقابلوں کے ماسٹر مائنڈ راؤ انوار نے قہقا لگایا اور ہنسے کہ سائیں کہیں تو اسے دہشت گرد بنا دیتے ہیں۔دوسری طرف بھی وہی ہوا اور کچھ دن بعد وہی ہوا۔جمیل فاروقی کا اپنے کالم میں مزید کہنا ہے کہ یہ کہانی کتنی درست ہے اس کا فیصلہ تو وقت اور تحقیقات کریں گی۔لیکن سچ ہی کہ نقیب کا قتل محض اتفاقیہ یا غلطی کا شاخسانہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی

سازش ہے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس