شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

زینب زیادتی اور قتل کیس میں استعمال ہونے والا مکان مل گیا، پراپرٹی ڈیلر نے کتنے پیسوں کے عوض یہ مکان اس درندے کو دیا تھا؟ تہلکہ خیز انکشاف


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) زینب قتل کیس میں پولیس نے مجرموں کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے ایک قدم اور آگے بڑھا دیا ہے ۔قصور میں وہ مکان سامنے آ گیا جس میں ننھی زینب کو رکھا گیا اور زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا ۔مکان کو کرائے پردینے والے پراپرٹی ڈیلر کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے ۔کہا جا رہا ہے کہپراپرٹی ڈیلر نے صرف پیسوں کی لالچ میں بغیر

کو ئی کاغذی کارروائی کیے اس مکان کو لاہور کی ایک پارٹی کو دے دیا تھا ۔محلے کی ایک عورت نے بھی سیکیورٹی اداروں کو بتایا کہ یہی وہ مکان ہے جس میں زینب کو اغوا کے بعد رکھا گیا تھا۔بعد میں پولیس نے پراپرٹی ڈیلر کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔یاد رہے کہ8سالہ بچی زینب کو زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کردیا گیا اور اس کی لاش کو کچرے میں پھینک دیا۔ذرئع کے مطابق قصور میں 8 سالہ بچی زینب کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا جب کہ ملزمان نے بچی کی لاش کو کچرے میں پھینک دیا، اطلاعات کے مطابق 5 روز قبل زینب سپارہ پڑھنے گھر سے نکلی تھی لیکن گھر کے قریب بچی کو راستے میں اغوا کرلیا گیا، بچی کی گمشدگی پر اہل خانہ نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی تاہم گزشتہ رات کچرے کے ڈھیر سے بچی کی لاش برآمد ہوئی۔واقعے کے بعد پولیس نے زینب کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا، ابتدائی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بچی کو ایک سے زائد بار زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد اہل علاقہ مشتعل ہوگئے اور احتجاج شروع کردیا۔علاقے میں مکمل ہڑتال ہے اور دکانیں بھی بند کردی گئیں،

کمسن بچی زینب کے قتل کے خلاف ڈسٹرکٹ بار اور انجمن تاجران نے ہڑتال کا اعلان کردیا اور بچی کے قتل میں ملوث ملزمان کی عدم گرفتاری پر احتجاج کیا۔دوسری جانب زیادتی کے بعد قتل ہونے والی ننھی زینب کی نمازجنازہ ادا کردی گئی ہے، عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے نمازجنازہ پڑھائی جس میں سیاسی و سماجی رہنماؤں سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔واقعے سے متعلق ڈی پی او قصور ذوالفقار احمد نے بتایا ہے کہ پولیس بچی کے ساتھ ہونے والے اس سلوک میں ملوث درندہ صفت انسان کی گرفتاری کے لیے ہر زاویے سے تفتیش کررہی ہے۔ اب تک 5 ہزار لوگوں سے تفتیش کی گئی ہے جب کہ 67 افراد کا میڈیکل چیک اپ کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر زیادتی کے بعد قتل ہونےوالی یہ آٹھویں بچی ہے، زیادتی کا شکار بچیوں کے ڈی این اے سے ایک ہی نمونہ ملا۔وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے بچی کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کرلی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ میں کیس پر پیش رفت کی ذاتی طور پر نگرانی کروں گا، واقعے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، معصوم

بچی کے قتل کے ملزم قانون کے مطابق قرار واقعی سزا سے بچ نہیں پائیں گے اور متاثرہ خاندان کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کیا جائے گا۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے بھی واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس