شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

آئندہ وفاقی بجٹ 2018-19 کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں


اسلام آباد (نیو زڈیسک) آئندہ وفاقی بجٹ 2018-19 کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں جس کے لئے وزارتِ خزانہ ا ورفیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ملک کے مختلف اداروں، اسٹیک ہولڈرز اور کاروباری حضرات اور تمام ایوانِ صنعت و تجارت کو کہا ہے، کہ وہ اگلے بجٹ کے لئے اپنی اپنی تجاویز حکومت کو جمع کرائیں تاکہ ان میں مناسش اور قابل عمل

تجاویز کو بجٹ کی سفارشات میں شامل کی جا سکے۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے وزارتِ خزانہ میں اپنی نئی ٹیم تیار کر لی ہے، جس کی قیادت وہ خود کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں ہارون اختر خان کو خزانہ کا مشیر بنایا گیا ہے، جن کے ذمہ ایف بی آر کا محکمہ دیا گیا ہے۔ جو اگلے سال کے بجٹ کے لئے تجارت سے متعلق لوگوں سے بات کرکے نئے ٹیکس کے لئے تجاویز اکٹھی کریں گے۔ اس کے علاوہ مفتاح اسماعیل کو بھی خزانہ کا مشیر بنایا گیا ہے، جو بین الاقوامی اداروں کے ساتھ قرضوں اور بجٹ کے لئے تعاون پر بات چیت کریں گے۔ اس کے بعد رانا افضل خان کو وزیر مملکت خزانہ بنایا گیا جو ملک میں سیاسی لوگوں کے ساتھ ملاقاتیں کرکے بجٹ پرتجاویز حاصل کریں گے۔ اسی سلسلے میں ایک رپورٹ کے مطابق تنخواہوں اور مراعات کاایک نیاپیکیج متعارف کروائے جانے کا امکان ہے جس میں سرکاری ملازمین کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق تنخواہیں اور مراعات دی جائیں گی لیکن ان کو ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن نہیں ملے گی۔ یہ پیکیج پاکستان میں پنشن کے بڑھتے بوجھ کو کم کرنے کیلئے متعارف کر انے کے لئے تجویز کیا جا رہا ہے ۔ موجودہ حکومت کا یہ آخری بجٹ ہے جس میں عوام کو روزگار کی فراہمی ،

بنیادی مسائل کا حل تر جیحات ہیں تاکہ وہ اگلے الیکشن میں آسانی کے ساتھ جیت سکیں۔ نئے بجٹ میں قابل عمل تجاویز پر زیادہ غور کیا جائے گا۔ اس لئے حکومت ان تجاویز پر لوگوں عمل کرکے ایک جامع اور بڑا مالیاتی پیکیج ترقیاتی پروگرام کا حصہ بنایا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف سے حالیہ مذاکرات میں حکومت کو سویلین اداروں کے

ملازمین کی بڑھتی ہوئی پنشن کو مستقبل میں قابل برداشت حد کے اندر رکھنے کیلئے سرکاری ملازمت کا نیاڈھانچہ متعارف کروانے کے لئے بات چیت بھی کی جائے گی۔ جس میں ملازمین کو نجی شعبے کی طرز پر تنخواہ اور مراعات یکمشت ادا کرنے اور انہیں نوکری کے اختتام پر پنشن نہ دینے کی سفارش کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ چاروں صوبوں

میں پسماندہ ترین علاقوں میں وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پروگرام کے تحت بجلی، پانی، تعلیم، صحت، گیس اور سیوریج کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے خصوصی پیکیج کی تیاری بھی آئندہ بجٹ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم نے پاکستان نے کے ساتھ حال ہی میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کو تین

سالہ اکنامک فریم ورک تیار کرنے کی ہدایت کی ہے جس میں سر فہرست بیرونی ادائیگیوں کے عدم توازن کو تر جیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جن میں سال 2018ء میں 9ارب ڈالرز کے قریب بیرونی قرضوں کی ادائیگی، ممکنہ طور پر 36ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کو پورا کرنے یا اس کو کم کرنے کیلئے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی

ہے۔ اس ضمن میں حکومتی ٹیم کو 180ارب روپے کے برآمدی پیکیج پر فوری عملدرآمد، ترسیلات زر میں اضافہ کیلئے ریمیٹینس سکیم میں بہتری اور درآمدی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں مذیداضافے جیسے آپشنز پر فوری عملدرآمد کروانے کے لئے ہدف دیے ہیں۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس