شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

بینظیربھٹوکاقتل ہم نے کیا۔۔۔10سال بعدقاتل سامنے آگئے ،ذمہ داری قبول کرلی


لاہور(ویب ڈیسک )کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے 10 سال بعد سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو پر قاتلانہ حملے کا دعویٰ کر دیا۔ طالبان کے رہنما ابو منصور عاصم مفتی نور ولی محسود نے ’انقلاب محسود‘ کے نام سے 689 صفحات پر مشتمل کتاب شائع کی۔ ٹی ٹی پی رہنما نے اپنی کتاب میں جہاں کالعدم جماعت کے رہنماو¿ں اور

دہشتگردی کی کاروائیوں کی تفصیلات شامل کی ہیں وہیں انہوں نے کراچی میں کارساز کے مقام پر بے نظیر بھٹو کی استقبالی ریلی پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔ابو منصور عاصم نے اپنی کتاب میں مزید لکھا کہ کراچی میں ہونے والے حملے کے باوجود بے نطیر کی سیکیورٹی میں اضافہ نہ کرنے کی وجہ سے ا±ن پر راولپنڈی میں حملہ کرنا ممکن ہوا۔انہوں نے بتایا کہ کالعدم تحریک طالبان نے پیپلز پارٹی کی سابق چیئرپرسن پر حملے کے لیے دو خودکش حملہ آور بلال اور اکرام اللہ راولپنڈی بھیجے تھے، بلال نے پہلے بے نظیر پر فائر کیا اور پھر خود کو دھماکہ خیز مواد کی مدد سے اڑا لیا جبکہ واقعے کے بعد اکرام اللہ موقعے سے فرار ہو گیا اور وہ آج بھی زندہ ہے۔واضح رہے کہ بے نظیر بھٹو پر 27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ راولپنڈی میں عوامی جلسے کے اختتام کے موقع پر خود کش حملہ اور فائرنگ کی گئی تھی جس میں وہ شہید ہو گئی تھیں۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس