شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

اے ٹی ایم فراڈ کیس :مشین میں اسکمنگ ڈیوائس لگاتے ہوئے ایک اور شخص گرفتار ، تعلق کس ملک سے ہے ؟جان کر آپ کے پیروں تلے زمین نکل جائے گی


کراچی(ویب ڈیسک) پولیس نے ٹیپو سلطان روڈ کے قریب کارروائی کرتے ہوئے چینی باشندے کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے لاکھوں روپے نقدی اور اسکمنگ ڈیوائس برآمد کرلی۔ علی الصبح پولیس مددگار 15 پر مشکوک افراد کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس نے کراچی کے علاقے ٹیپو سلطان روڈ پر کارروائی کی جس کے دوران ایک چینی

باشندے کو گرفتارکرلیا جب کہ 3 فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔پولیس کے مطابق ملزم کے قبضے سے اے ٹی ایم مشین میں نصب کی جانے والی اسکمنگ ڈیوائس اور ساڑھے 6 لاکھ روپے نقدی برآمد کرلی گئی ہے۔ خیال رہے کہ چند روز قبل بھی پولیس نے 2 چینی باشندوں کو نجی بینک کے اے ٹی ایم میں اسکمنگ مشین لگاتے گرفتار کیا تھا جو ان دنوں پولیس ریمانڈ پر ہیں۔چند ماہ قبل اے ٹی ایم اسکمنگ کے ذریعے فراڈ کی وارداتوں کا انکشاف ہوا تھا جس میں کئی شہریوں کا ڈیٹا ہیک کرکے ان کے اکاؤنٹ سے رقوم نکلوائی گئی تھیں۔صارفین اور بینکوں کی شکایات پر ایف آئی اے کئی ہفتوں سے ملزمان کی تلاش میں مصروف تھے۔خیال رہے کہ دوسری جانب عدالت نے اے ٹی ایم اسکمنگ کیس میں گرفتار دو چینی باشندوں کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔کراچی میں چند ماہ قبل اے ٹی ایم اسکمنگ کے ذریعے فراڈ کی وارداتوں کا انکشاف ہوا تھا جس میں کئی شہریوں کا ڈیٹا ہیک کرکے ان کے اکاؤنٹ سے رقوم نکلوائی گئی تھیں۔صارفین اور بینکوں کی شکایات پر ایف آئی اے کئی ہفتوں سے ملزمان کی تلاش میں مصروف تھے۔ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے

عبدالسلام شیخ کے مطابقدونوں چینی باشندے نجی بینک کی اے ٹی ایم میں اسکمنگ ڈیوائس لگارہے تھے جنہیں رنگے ہاتھوں گرفتار کرکے ان کے خلاف بینک مینیجر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔ایف آئی اے نے آج دونوں ملزمان کو کراچی کی مقامی عدالت میں پیش کیا جہاں ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ دونوں ملزمان انگریزی بول نا سمجھ سکتے ہیں جب کہ ان کا 8 سے 10 افراد کا گروہ ہے۔پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزمان کے گروہ کے دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ ملزمان کتنی دیر میں اسکمنگ ڈیوائس انسٹال کرتے تھے؟ اس پر بینک مینیجر نے بتایا کہ ملزمان 30 سے 40 سیکنڈ میں ڈیوائس نصب کرتے تھے۔بینک مینیجر نے عدالت کو مزید بتایا کہ کچھ دنوں سے ملزمان کی مشکوک سرگرمیاں ریکارڈ ہوئی تھی۔عدالت نے کہا کہ عوام کا بہت نقصان ہوا ہے لہٰذا آئندہ سماعت پرپیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔عدالت نے دونوں ملزمان کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔جبکہ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں اے ٹی ایم فراڈ سے متعلق ایک اور انکشاف ہوا ہے جس کے مطابق راولپنڈی سے گرفتار ہونے والے ملزم کا بھارتی ہیکز سے گٹھ جوڑ ہے۔ایف آئی اے کے ڈائریکٹر شکیل درانی نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ گرفتار ملزم ثاقب اللہ سارو نامی بھارتی ہیکر اور اٹلی میں رہنے والی خاتون عائشہ سے رابطے میں تھا۔ثاقب بھارتی ہیکر کو اے ٹی ایم مشینوں کی تصاویر بھیجتا تھا جبکہ ملزمہ عائشہ ہیکنگ ڈیوائسز بھیجتی رہی۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس