شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

حکومت پاکستان نے سوشل میڈیاکے استعمال پرپابندی لگادی


کراچی(ویب ڈیسک) قومی فضائی کمپنی پی آئی اے نے اپنے ملازمین پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگادی ہے۔تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کے جرنل مینجر کمپنسیشن نے ادارے کے ملازمین کے سوشل میڈیا کے استمال پر پابندی لگا دی ہے۔ جاری کئے گئے نوٹی فکیشن کے مطابق ملازمین اب واٹس ایپ، فیس بک اور ٹویٹرسمیت دیگر سوشل میڈیا ویب

سائیٹس کا استعمال نہیں کرسکیں گے۔ ملازمین کو پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر سخت کارروائی کی دھمکی دی گئی ہے۔پی آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ جرنل مینجر کمپنسیشن کی جانب سے لگائی گئی اس پابندی کا مقصد ادارے کی نااہلی اور کرپشن سے متعلق باتیں عوام سے اوجھل رکھنا ہے۔جبکہ دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پی آئی اے کے رواں سال ہونے والے اجلاسوں میں قومی ایئرلائن کے اب تک کروڑوں روپے خرچے کیے جا چکے ہیں لیکن ادارے کی بہتری کیلیے عملی اقدامات سامنے نہیں آسکے جب کہ اجلاسوں میں تنقید کی جاتی رہی لیکن نتیجہ صفر نکلا۔رواں سال قائمہ کمیٹی کے کراچی میں 4جبکہ اسلام آباد میں متعدد اجلاس منعقد ہوچکے ہیں کراچی میں ہونے والے اجلاس کے دوران قائمہ کمیٹی کے اراکین کے فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام، طعام ، لگژری گاڑیاں معہ ڈرائیورزکی فراہمی بھی قومی ایئرلائن کرتی ہے جب کہ کراچی میں قائمہ کمیٹی کے ایک اجلاس پر 15لاکھ سے20لاکھ روپے تک اخراجات آتے ہیں جوپی آئی اے پر مزید مالی بوجھ بن رہے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ اراکین قومی اسمبلی کے قیام وطعام کا استحقاق کراچی میں قصرناز میں

ہوتاہے مگرکمیٹی کے اراکین سرکاری گیسٹ ہاؤس کے بجائے کراچی کے معروف فائیواسٹار ہوٹل میں قیام وطعام کوترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ سے قومی ایئرلائن کے مالی خسارے میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

ذرائع کا کہناہے کہ اراکین قائمہ کمیٹی کو نئی ماڈل کی رینٹ کارکا بندوبست کرایا جاتا ہے جس کا فی گاڑی یومیہ کرایہ 5سے7ہزار پٹرول کے علاوہ ہوتا ہے۔ ایک رکن کا فائیواسٹار ہوٹل میں روم کرایہ 20ہزار روپے یومیہ پی آئی اے کو ادا کرنا پڑتا ہے۔واضح رہے کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں صرف پی آئی ے کو تنقیدکا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ اخبارات میں بعض اراکان کی جانب سے قومی ائیرلائن کے بارے میں ایسا تاثر بھی دیاجاتا ہے کہ ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے جبکہ ان اجلاسوں میں بعض اراکان قائمہ کمیٹی معمولی معمولی نوعیت کی اپنی اپنی شکایت کرتے نظرآتے ہیں۔یاد رہے کہ 2017میں قائمہ کمیٹی کے کراچی میں 4جبکہ اسلام آباد میں متعدد اجلاس ہوئے، اسلام آبار میں ہونے والے اجلاسوں میں کراچی سے پی آئی اے کے حکام اسلام روانہ ہوتے ہیں جہاں اسلام آباد میں ان اعلیٰ افسران کے قیام وطعام کے اخراجات بھی پی آئی اے ہی ادا کرتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاسوں میں پی آئی اے کو مالی خسارے سے نکالنے کی کوئی حکمت عملی تیار کرنے یا ادارے کو بہتر بنانے کیلیے عملی اقدامات نہیں کیے جاسکے جب کہ پی آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ پی آئی اے ایئرپورٹ ان ہوٹل کے باوجود قائمہ کمیٹی کے ارکان فائیواسٹار ہوٹل میں قیام کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ پی آئی اے کا اپنا ہوٹل ایئرپورٹ پر واقع ہے جہاں قیام وطعام کی سہولتیں موجود ہیں۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس