شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

امریکہ سن لو ہمیں نہیں چاہیئے آپ کی امداد رکھو اپنے پا س ہی


اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) مبصرین کے مطابق امریکی انتظامیہ کی طرف سے ایک ارب ڈالر کی فوجی امداد بند کئے جانے سے پاکستان کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن اگر امریکا نے قرضے واپس مانگ لئے تو پاکستان کے پاؤں دلدل میں ہونگے۔نیوز ایجنسی اے ایف پی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس وقت فوجی ساز و سامان اور فنڈنگ کی مد میں پاکستان کیلئے دو ارب ڈالر کی رقوم خطرے میں ہیں۔ ایک اعلیٰ پاکستانی اہلکار کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ ”امریکی امداد گزشتہ چند برسوں سے واضح طور پر کم ہو رہی ہے لیکن اس کے باوجود معیشت میں بہتری پیدا ہوئی ہے۔ اب بیجنگ صرف ایک فون کال کے فاصلے پر ہے۔

اسلام آباد کے اس سفارت کار کا کہنا تھا کہ قلیل المدتی بنیادوں پر اس امریکی فیصلے کا اثر ’معمولی‘ ہو گا، ”بین الاقوامی امداد ملک کی معیشت کے لحاظ سے بہت زیادہ نہیں ہے، اس کا مطلب ہے کہ دباؤ محدود ہے“۔پاکستان کے سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا کے مطابق افغانستان میں امریکی فوجی مداخلت کے بعد سے امریکی امداد میں اضافہ ہوتا رہا اور سب سے زیادہ سالانہ امداد 2010ء میں تین سے چار ارب ڈالر دی گئی۔ اس کے بعد سے امداد میں واضح کمی ہوئی ہے۔ گزشتہ برس یہ صرف 75 کروڑ ڈالر تھی۔ پاکستان کی معیشت کے لحاظ سے یہ بہت کم ہے۔دوسری جانب امریکی حکام نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ان کے پاس پاکستان کیخلاف کئی دوسرے کارڈز بھی موجود ہیں۔ مثال کے طور پر آئی ایم ایف کے ذریعے قرضوں کی واپسی کا مطالبہ۔ ورلڈ بینک کے ماہر اقتصادیات محمد وحید کہتے ہیں کہ فی الحال پاکستان کی معیشت مستحکم ہے اور ترقی کر رہی ہے لیکن اس کی فنڈنگ ورلڈ بینک، عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی کر رہے ہیں۔

یہ تمام وہ ادارے ہیں جنہیں واشنگٹن حکومت بڑی مقدار میں قرضے فراہم کرتی ہے۔محمد وحید کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بنیادی ڈھانچے کے مسائل، مثال کے طور پر کم انکم ٹیکس اور تجارتی خسارے جیسے مسائل کا سامنا ہے اور انہیں ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہوئے ہیں اور اگر پاکستان اسی رفتار سے ترقی کرنا چاہتا ہے تو اسے مزید قرضوں کی ضرورت ہو گی۔پاکستانی تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کیخلاف مزید اقدامات کا اشارہ دے چکا ہے۔ امریکا اپنا اثر عالمی سلامتی کونسل سمیت آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک میں بھی استعمال کر سکتا ہے۔دوسری جانب پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی چین کے ساتھ دوستی دیرینہ ہے اور وہ روز بروز مضبوط بھی ہوتی جا رہی ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ اگر امریکا دوبارہ دھمکیوں اور الزامات کا سلسلہ شروع کرتا ہے تو ہمارے پاس کئی دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔ ان کا اشارہ چین کی طرف تھا، جس نے امریکی صدر کی طرف سے الزامات کے فوراً بعد پاکستان کے حق میں بیانات جاری کئے تھے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

دلچسپ و عجیب

بزنس