طیارہ سمندر میں گر کر تباہ ،ہلاکتیں


امریکہ ( 22 نومبر 2017ء):امریکی بحریہ کا طیارہ بحرا و قیانوس میں گر کر تباہ ہو گیا ۔ تفصیلات کے مطابق طیارے میں عملے کے گیارہ افراد سوار تھے۔ امریکی بحریہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ طیارہ حادثے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی البتہ طیارے میں سوار افراد کے ناموں سے متعلق بھی جلد آگاہ کیا جائے گا۔
امریکی بحریہ کا طیارہ فلپائن کے سمندر کی جانب گامزن تھا۔ خیال رہے کہ امریکی فوجی جہازوں کو گذشتہ کچھ عرصہ میں مشرقی ایشیا میں کافی حادثات پیش آئے۔ امریکی بحریہ نے اگست کے مہینے میں دس اہلکاروں سے ہاتھ دھویا، اس سے دو ماہ قبل جون میں بھی امریکی جہاز کارگو سے ٹکرایا جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک ہوئے۔

خوبصورت لیڈی پولیس کی وائرل تصاویر کے پیچھے چھپا سچ سامنے آ گیا


ممبئی (۔ 21 نومبر2017ء)انٹرنیٹ اپنے خیالات کے اظہار کیلئے ایک اچھا فارم ہے تاہم کئی بار لوگ اس کے ذریعے کنفیوثزن بھی پھیلا دیتے ہیں اور مختلف خبروں اور واقعات کو بلاتصدیق شیئر کر دیتے ہیں۔ کچھ روز پہلے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پنجاب پولیس کی ایک لیڈی ایس ایچ او کی تصویر وائرل ہو گئی۔ تصویر میں ایک خوبصورت پولیس آفیسر ڈیوٹی پر نظر آتی ہے، پھر کیا تھا انٹرنیٹ پر ایک طوفان آ گیا، کی ہے، اور دل جلوں نے اس تصویر پر تبصروں کی بھرمار کر دی۔اس پولیس آفیسر کا نام ہرلین من بتایا گیا۔ اب ان تصاویر کے پیچھے چھپا سچ بھی سامنے آ گیا ہے، جس کے مطابق یہ تفصیلات سامنے آئی ہیں کہ یہ تصویر کسی پولیس آفیسر کی نہیں بلکہ اداکارہ کائنات اروڑا کی ہیں جنہوں نے ایک پنجابی فلم کی شوٹنگ کے دوران یہ تصویر اپلوڈ کی تھی، تاہم شائقین نے اس تصویر کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور اس تصویر پر تبصروں کی بھرمار شروع ہو گئی۔اس کے بعد کائنات اروڑا کو اپنا وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا کہ وہ پنجابی فلم جگا جیوندا اے میں پولیس آفیسر کا رول ادا کر رہی ہیں۔ دسمبر 1982ئ کو دہلی میں پیدا ہونے والی کائنات دیویا بھارتی کی کزن ہیں، کائنات اروڑا اب تک ہندی، تامل اور تیلگو سمیت متعدد فلموں میں کام کرچکی ہیں۔ کائنات نے 2010 میں فلم کھٹا میٹھا میں شامل ایک گانے میں پرفارمنس کر کے بالی ووڈ میں ڈیببیو کیا تھا، اس کے علاوہ انہوں نے فلم گرینڈ مستی من کاٹھا ، لیلیٰ او لیلیٰ اور رام گوپال ورما کی فلم سیکریٹ میں بھی کام کیا ہے۔۔

سندھ حکومت کا جانوروں کے بھی شناختی کارڈ بنانے کا فیصلہ ،


جانوروں کیلئے بھی نادرا کی طرز کا ادارہ بنایا جائے گا ، انہیں شناختی کارڈ، ویزا اور پاسپورٹ بھی دیے جائیں گے

کراچی(۔ 21 نومبر2017ء) سندھ حکومت نے جانوروں کے بھی شناختی کارڈ بنانے کا فیصلہ کر لیا ، جانوروں کے لئے بھی نادرا کی طرز کا ادارہ بنایا جائے گا جس کے ذریعے انہیں شناختی کارڈ، ویزا اور پاسپورٹ بھی دیے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کے محکمہ لائیو اسٹاک نے انوکھا بل تیار کیا ہے جس کے تحت سندھ لائیو اسٹاک رجسٹریشن اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائیگا۔جانوروں کا سینٹرل ڈیٹا بیس بنایا جائے گا، ان کی نقل و حرکت اور پیدائش و انتقال کے بارے میں لائیو اسٹاک اتھارٹی کو آگاہ کرنا ہوگا اور دستاویز لینا ہوگی، کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا بیس میں جانوروں کی پیدائش و اموات کا اندراج ہوگا۔ہر جانور کو مخصوص شناختی کوڈ جاری کیا جائیگا اور انہیں ذبح خانوں میں لانے پر اتھارٹی کو اطلاع دینا لازمی ہوگی۔ لائیو اسٹاک اتھارٹی جانوروں کی ویلفئیر اور نیوٹریشن پر کام کریگی جبکہ قصابوں کی تربیت اور انکی رجسٹریشن ہوگی۔

سعودی عرب بھی حملہ آوروں سے نہ بچ سکا حکو مت میں ہلچل مچ گئی


ریاض(نیوز ڈیسک )سعودی عرب کے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک ایڈوانس سائبر حملے کی نشاندہی کی ہے جو ان کی ریاست کو نشانہ بنا رہا ہے، جس کا مقصد سرکاری کمپیوٹرز کو ہیک کرنا ہے۔حکومت کے تحت چلنے والے نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر (این سی ایس سی) کا کہنا تھا کہ حملے میں پاور شیل میلویئر کے ذریعے کیا گیا ہے، ۔۔۔

لیکن انہوں نے حملے کے ذرائع پر بات نہیں کی اور نہ ہی اس بات کی نشاندہی کی کہ کس سرکاری محکمے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ادارے نے ایک جاری بیان میں کہا کہ این سی ایس سی نے ایک نئے خطرے (اے پی ٹی) کی نشاندہی کی ہے جو سعودی عرب کو نشانہ بنارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ حملے میں کمپیوٹرز کو نشانہ بنانے کے لیے ای میل کا استعمال کیا جارہا ہے۔خیال رہے کہ سعودی عرب کچھ عرصے سے مستقل سائبر حملوں کی زد میں ہے جس میں شامون بھی شامل ہے، اس کے ذریعے 2012 میں سعودی عرب کے توانائی کے شعبے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔یاد رہے کہ سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل کمپنی ارامکو بھی شامون سے متاثر ہوئی تھی اور اسے ملک کا سب سے خوفناک سائبر حملہ قرار دیا جارہا تھا۔اس موقع پر امریکی انٹیلی جنس افسران کا کہنا تھا کہ اس حملہ کا ذمہ دار سعودی عرب کا خطے میں دیرینہ دشمن ایران تھا۔

محبت کی ایک لازوال داستان،


”جب دوسری جنگ عظیم میں جنگ پر گئے ایک پاکستانی کو نیلی آنکھوں اور لمبے بالوں والی نوجوان لڑکی پسند آگئی”
یہ 1944 کی بات ہے جب جاپان کی تربیت یافتہ برما کی آزادی فوج نے برطانوی فورسز پر حملوں کی قیادت کی، اس موقع پر اتحادی افواج جس میں برطانوی، چینی اور امریکی فورسز شامل تھیں، جاپانی جھنڈے تلے طاقتوں کے خلاف لڑ رہی تھیں۔
برطانوی فوج میں شامل فوجیوں میں بیشتر کا تعلق ہندوستان سے تھا جن یں ایک بیس سالہ نوجوان مظفر خان بھی شامل تھے۔
ضلع چکوال سے تعلق رکھنے والا مظفر خان برما میں تعیناتی کے دوران ایک برمی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوگیا۔

مظفر (چاچا کالو) کی چکوال میں ان کے گھر میں لی گئی تصویر— فوٹو دانیال شاہ
مظفر خان چالیس کی دہائی میں برطانوی فوج کے آرڈنینس کور میں بطور اہلکار بھرتی ہوا تھا اور اسے دیگر فوجیوں کے ہمراہ برما میں جاپانی فورسز سے لڑنے کے لیے بھیجا گیا۔
مظفر جس برمی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا وہ بعد میں اس کی بیوی بن گئی اور وہ دونوں ضلع چکوال کے قریبی قصبے ڈھڈیال میں رہائش پذیر ہوگئے۔
ان کی محبت کی کہانی اور وہ کس طرح اس قصبے میں پہنچے یہ سب چکوال کے ارگرد کے علاقوں میں کافی مقبول ہے جو مظفر کے رشتے داروں، دوستوں اور اس جوڑے نے خود بیان کی۔
بانوے سال کی عمر میں اب مظفر خان کو اپنے علاقے میں چاچا کالو کے نام سے جانا جاتا ہے تو ان کی 84 سالہ بیوی عائشہ بی بی کو ماشو کہا جاتا ہے۔
چالیس کی دہائی کی یادیں وقت کے ساتھ ساتھ دھندلی پڑتی چلی گئی اور اس جوڑے کے لیے یہ حقیقت ہی باقی بچی کہ شادی کے بعد ان کی کوئی اولاد نہیں ہوئی جبکہ ماشو نے برما میں اپنا گھر بار شوہر کے ساتھ ہندوستان میں رہنے کے لیے قربان کردیا۔
لاٹھیوں کی مدد لے کر چلنے والے جوڑے سے ہماری ملاقات ان کے گھر میں ہوئی جہاں سبز شلوار قمیض میں ملبوس ماشو کے جھریوں زدہ چہرے، نیلی آنکھیں اور نقوش میں واضح فرق بتاتا تھا کہ ان کا تعلق جنوب مشرقی ایشیائی خطے سے ہے، جبکہ سادہ سفید شلوار قمیض پہنے چاچا کالو بیٹھ کر ہمیں تک رہے تھے۔
ماشو نے بتایا ” جب ہم لوگ یہاں آئے تو میرے ملک میں جنگ جاری تھی”۔
چاچا کالو نے کہانی بیان کرتے ہوئے کہا ” دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی برما میں لڑ رہے تھے اور مجھے وہاں ان سے مقابلے کے ایک مشن کے لیے بھیجا گیا”۔
ماشو کو یاد ہے کہ وہ وسطی برما کے ایک شہر میکیٹلا میں پلی بڑھی ” میں ایک بدھ لڑکی تھی اور عبادت کے لیے اپنی ماں کے ہمراہ بدھ مندر جاتی رہتی تھی “۔
اسی کمرے میں چاچا کالو کے بہن بھائیوں کے بچوں کے بچے اپنے بزرگوں کی پرااثر داستان سنانے لگے ” چاچا کالو اس زمانے میں جوان تھے اور وجیہہ شخصیت کے مالک تھے، انہیں برما میں ایک بیرک میں تعینات کیا گیا جہاں ایک نوجوان برمی لڑکی جس کے بال لمبے اور آنکھیں نیلی تھیں، روزانہ فوجیوں کو خوراک فراہم کرتی تھی اور چاچا اس کی محبت میں گرفتار ہوگئے”۔

چاچا کالو نے اس موقع پر اپنی یادوں کو ان الفاظ میں دہرایا ” وہ لڑکی جنگ کے نتیجے میں اپنے خاندان کو کھو چکی تھی اور میں اسے اپنے ساتھ یہاں لایا اور شادی کرلی “۔
اس بزرگ جوڑے کے رشتے کی کیمسٹری بہت خوبصورت ہے۔
بڑھتی عمر کے باعث چاچا کالو کو سننے میں مسائل کا سامنا ہے اور ان کے کانوں میں آلہ سماعت لگا ہوا ہے جبکہ ماشو بنیائی کی کمزوری کا شکار ہیں۔ اپنے شوہر سے بات چیت کے لیے انہیں کافی بلند آواز میں بات چیت کرنا پڑتی ہے جبکہ بڑھاپے کی مشکلات کے باوجود وہ اپنے محبوب شوہر کے لیے چائے خود بنانا پسند کرتی ہیں۔
انہوں نے ہنستے ہوئے بتایا ” میرا اپنا باورچی خانہ ہے اور وہ صرف وہی چائے پسند کرتے ہیں جو میں بناتی ہوں، انہوں نے مجھے ایک گھر اور خاندان دیا”۔
کمرے کے اندر موجود افراد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ” یہ میرا خاندان ہے”۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ماشو اب روانی سے پنجابی بولتی ہیں جبکہ برما سے اب ان کا کوئی تعلق نہیں رہ گیا اور وہ اپنے شوہر مظفر کے ہمراہ ایک چھوٹے سے کچھے گھر میں رہ رہی ہیں اور واضح ہے کہ ان کے رشتے دار اور پڑوسی اس جوڑے کی ہر طرح سے معاونت کرتے ہیں۔
ماشو نے یہاں آنے کے بعد اسلام قبول کرلیا تھا اور انہیں تو اب اپنا وہ نام یاد بھی نہیں جو برما میں ستر سال پہلے ان کا تھا، عائشہ بی بی کا نام بھی مظفر سے شادی کے موقع پر رکھا گیا تھاجس کے بعد ارگرد کے بچوں نے انہیں ماں عاشو کہنا شروع کردیا جو کہ وقت گزرنے کے ساتھ مختصر ہوکر ماشو کی شکل اختیار کرگیا۔
چاچا کالو نے حج کر رکھا ہے اور ماشو کا بھی یہ خوب ہے مگر ان کی زندگی کی گزر بسر اس پنشن سے ہورہی ہے جو مظفر کو کامن ویلتھ ایکس سروسز ایسوسی ایشن آف پاکستان سے سابق برطانوی فوجی ہونے کی وجہ سے مل رہی ہے۔
ماشو برمی بدھ سے برطانیہ کے زیرقبضہ ہندوستان میں پنجابی مسلمان بنیں اور بعد میں پاکستانی بن گی مگر ان کا کہنا ہے کہ جب تک وہ مظفر اور اس جگہ میں رہ رہی ہیں ان کے لیے شناخت کا سوال کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

اس جوڑے سے ملاقات کے بعد اب یہ خبر سامنے آئی ہے کہ گزشتہ ہفتے چاچا کالو کا انتقال ہوگیا اور وہ ماشو کو اپنے رشتے داروں و پڑوسیوں کے ساتھ تنہا چھوڑ گئے ہیں۔

فیض آباد دھرنا ختم کرانے کیلئے بڑا بریک تھرو بس کچھ ہی دیر میں کیا ہونیوالا ہے،بڑی خبر آگئی


اسلام آباد(نیوزڈیسک)حکومت نے تحریک لبیک یا رسول اللہ کا بڑا مطالبہ تسلیم کر لیا،وفاقی وزیر قانون زاہد حامد آج کسی بھی وقت مستعفی ہونے کا اعلان کرنے سکتے ہیں، نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کا دعویٰ۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنا ختم کرانے کیلئے بڑا بریک تھرو ہو گیا ہے اور حکومت

نے تحریک لبیک یا رسول اللہ کا بڑا مطالبہ تسلیم کر لیا ہے اور وفاقی وزیر قانون زاہد حامد آج کسی بھی وقت مستعفیہونے کا اعلان کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے فیض آباد دھرنا ختم کرانے اور حالات کو معمول پر لانے کیلئے رضاکارانہ طور پر مستعفی ہونے کی پیش کش کی تھی اور اس حوالے سے ن لیگ کی اعلیٰ قیادت کو بھی آگاہ کیا تھا تاہم دھرنا ختم کرانے کیلئے تحریک لبیک یا رسول اللہ کے قائدین سے مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی نے وفاقی وزیر قانون کے مستعفی ہونے کی پیش کش کو مسترد کر دیا تھا۔

اب ہوگادمادم مست قلندر،عمران خان نے مولاناخادم حسین اوردھرنے والوں کی حمایت کااعلان کردیا۔۔۔پی ٹی آئی کیاکرنے جارہی ہے؟


اسلام آباد(نیوز ڈیسک )پاکستان تحریک انصاف نے ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی کرنے والوں کوبے نقاب کرنے کامطالبہ کردیا ہے اورکہاہے ختم نبوت کے حلف نامے میںتبدیلی کی سازش کس نے کی اس کانام بتایاجائے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے کورگروپ نےحکومت سے ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی کرنے والوں کوبے نقاب کرنے

کامطالبہ کردیا۔اورساتھ ہی فیض آبادمیں دھرنادینے والی مذہبی جماعتوں کے خلاف آپریشن کی بھی مخالفت کردی۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کورگروپ کااجلاس ہوا جس شاہ محمودقریشی ،جہانگیرترین ،نعیم الحق،اعجاز چوہدری ،عامرکیانی سمیت پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت شریک تھی اجلاس میں ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی کرنے والے کانام سامنے لانے کامطالبہ کیاگی اجبکہ اس کے علاوہ تحریک انصاف نے فیض آبادمیں جاری تحریک لبیک پاکستان کے فیض آبادکے دھرنے کی بھی کھل کرحمایت کااعلان کیا۔اورکہاگیاہے کہ مظاہرین کے مطالبات کوتسلیم کیاجائے اوران کوپرامن طریقے سے یہاں سے اٹھایاجائے۔تاکہ یہ خوشی خوشی واپس جائیں اجلا س میں یہ بات بھی کی گئی کہ احتجا ج کرناان کابنیادی حق ہے۔

خوبصورت نظر آنے کیلئے خاتون نے ایسا کیا کام کیا کہ موت کے منہ میں چلی گئی ، جان کر خواتین کے پیروں تلے زمین نکل گئی


کیلیفورنیا(نیوز ڈیسک) میکسیکو میں خاتون اضافی چربی ختم کرنے کے عمل ( لائیپوسیکشن) کے دوران موت کے منہ میں چلی گئی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق دبلا نظر آنے کے لیے خواتین نہ صرف گھریلو ٹوٹکے استعمال کرتی ہیں بلکہ ڈاکٹرز کی دی گئی ادویات بھی استعمال کرتی ہیں۔ آج کل موٹاپے سے جان چھڑانے کے لیے ( لائیپوسیکشن) کا عمل بھی کیا جاتا ہے جس میں جسم میں بالخصوص پیٹ پر موجود اضافی چربی کو ختم کردیا جاتا ہے
لیکن امریکی ریاست کیلیفورنیا میں خاتون لائیپوسیکشن کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔کیلیفورنیا کی 51 سالہ خاتون ارما سائنز میکسیکو کے سان ڈیگو ہسپتال میں اضافی چربی کے خاتمے کے لیے (لائیپوسیکشن) کرانے پہنچی۔ تاہم سرجری کے بعد خاتون کوما میں چلی گئی اور بعد ازاں جان کی بازی ہار گئیں۔دوسری جانب خاتون کے اہل خانہ کاکہناہے کہ انہیں اس بارے میں اس وقت علم ہوا جب کوما میں جانے کے بعدہسپتال سے کال آئی جس میں ارما سائنز کے (لائیپوسیکشن) کے بارے میں بتایا گیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق دبلا نظر آنے کے لیے خواتین نہ صرف گھریلو ٹوٹکے استعمال کرتی ہیں بلکہ ڈاکٹرز کی دی گئی ادویات بھی استعمال کرتی ہیں۔ آج کل موٹاپے سے جان چھڑانے کے لیے ( لائیپوسیکشن) کا عمل بھی کیا جاتا ہے جس میں جسم میں بالخصوص پیٹ پر موجود اضافی چربی کو ختم کردیا جاتا ہے لیکن امریکی ریاست کیلیفورنیا میں خاتون لائیپوسیکشن کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔کیلیفورنیا کی 51 سالہ خاتون ارما سائنز میکسیکو کے سان ڈیگو ہسپتال میں اضافی چربی کے خاتمے کے لیے (لائیپوسیکشن) کرانے پہنچی۔ تاہم سرجری کے بعد خاتون کوما میں چلی گئی اور بعد ازاں جان کی بازی ہار گئیں۔دوسری جانب خاتون کے اہل خانہ کاکہناہے کہ انہیں اس بارے میں اس وقت علم ہوا جب کوما میں جانے کے بعدہسپتال سے کال آئی جس میں ارما سائنز کے (لائیپوسیکشن) کے بارے میں بتایا گیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق دبلا نظر آنے کے لیے خواتین نہ صرف گھریلو ٹوٹکے استعمال کرتی ہیں بلکہ ڈاکٹرز کی دی گئی ادویات بھی استعمال کرتی ہیں۔ آج کل موٹاپے سے جان چھڑانے کے لیے ( لائیپوسیکشن) کا عمل بھی کیا جاتا ہے جس میں جسم میں بالخصوص پیٹ پر موجود اضافی چربی کو ختم کردیا جاتا ہے لیکن امریکی ریاست کیلیفورنیا میں خاتون لائیپوسیکشن کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔کیلیفورنیا کی 51 سالہ خاتون ارما سائنز میکسیکو کے سان ڈیگو ہسپتال میں اضافی چربی کے خاتمے کے لیے (لائیپوسیکشن) کرانے پہنچی۔ تاہم سرجری کے بعد خاتون کوما میں چلی گئی اور بعد ازاں جان کی بازی ہار گئیں۔دوسری جانب خاتون کے اہل خانہ کاکہناہے کہ انہیں اس بارے میں اس وقت علم ہوا جب کوما میں جانے کے بعدہسپتال سے کال آئی جس میں ارما سائنز کے (لائیپوسیکشن) کے بارے میں بتایا گیا۔

خوبصورت نظر آنے کیلئے خاتون نے ایسا کیا کام کیا کہ موت کے منہ میں چلی گئی ، جان کر خواتین کے پیروں تلے زمین نکل گئی


کیلیفورنیا(نیوز ڈیسک) میکسیکو میں خاتون اضافی چربی ختم کرنے کے عمل ( لائیپوسیکشن) کے دوران موت کے منہ میں چلی گئی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق دبلا نظر آنے کے لیے خواتین نہ صرف گھریلو ٹوٹکے استعمال کرتی ہیں بلکہ ڈاکٹرز کی دی گئی ادویات بھی استعمال کرتی ہیں۔ آج کل موٹاپے سے جان چھڑانے کے لیے ( لائیپوسیکشن) کا عمل بھی کیا جاتا ہے جس میں جسم میں بالخصوص پیٹ پر موجود اضافی چربی کو ختم کردیا جاتا ہے لیکن امریکی ریاست کیلیفورنیا میں خاتون لائیپوسیکشن کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔کیلیفورنیا کی 51 سالہ خاتون ارما سائنز میکسیکو کے سان ڈیگو ہسپتال میں اضافی چربی کے خاتمے کے لیے (لائیپوسیکشن) کرانے پہنچی۔ تاہم سرجری کے بعد خاتون کوما میں چلی گئی اور بعد ازاں جان کی بازی ہار گئیں۔دوسری جانب خاتون کے اہل خانہ کاکہناہے کہ انہیں اس بارے میں اس وقت علم ہوا جب کوما میں جانے کے بعدہسپتال سے کال آئی جس میں ارما سائنز کے (لائیپوسیکشن) کے بارے میں بتایا گیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق دبلا نظر آنے کے لیے خواتین نہ صرف گھریلو ٹوٹکے استعمال کرتی ہیں بلکہ ڈاکٹرز کی دی گئی ادویات بھی استعمال کرتی ہیں۔ آج کل موٹاپے سے جان چھڑانے کے لیے ( لائیپوسیکشن) کا عمل بھی کیا جاتا ہے جس میں جسم میں بالخصوص پیٹ پر موجود اضافی چربی کو ختم کردیا جاتا ہے لیکن امریکی ریاست کیلیفورنیا میں خاتون لائیپوسیکشن کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔کیلیفورنیا کی 51 سالہ خاتون ارما سائنز میکسیکو کے سان ڈیگو ہسپتال میں اضافی چربی کے خاتمے کے لیے (لائیپوسیکشن) کرانے پہنچی۔ تاہم سرجری کے بعد خاتون کوما میں چلی گئی اور بعد ازاں جان کی بازی ہار گئیں۔دوسری جانب خاتون کے اہل خانہ کاکہناہے کہ انہیں اس بارے میں اس وقت علم ہوا جب کوما میں جانے کے بعدہسپتال سے کال آئی جس میں ارما سائنز کے (لائیپوسیکشن) کے بارے میں بتایا گیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق دبلا نظر آنے کے لیے خواتین نہ صرف گھریلو ٹوٹکے استعمال کرتی ہیں بلکہ ڈاکٹرز کی دی گئی ادویات بھی استعمال کرتی ہیں۔ آج کل موٹاپے سے جان چھڑانے کے لیے ( لائیپوسیکشن) کا عمل بھی کیا جاتا ہے جس میں جسم میں بالخصوص پیٹ پر موجود اضافی چربی کو ختم کردیا جاتا ہے لیکن امریکی ریاست کیلیفورنیا میں خاتون لائیپوسیکشن کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔کیلیفورنیا کی 51 سالہ خاتون ارما سائنز میکسیکو کے سان ڈیگو ہسپتال میں اضافی چربی کے خاتمے کے لیے (لائیپوسیکشن) کرانے پہنچی۔ تاہم سرجری کے بعد خاتون کوما میں چلی گئی اور بعد ازاں جان کی بازی ہار گئیں۔دوسری جانب خاتون کے اہل خانہ کاکہناہے کہ انہیں اس بارے میں اس وقت علم ہوا جب کوما میں جانے کے بعدہسپتال سے کال آئی جس میں ارما سائنز کے (لائیپوسیکشن) کے بارے میں بتایا گیا۔

نبی کریم ؐنے شادی کو آدھا دین قرار دیا ہے ، سائنسدانوں نے جب اس پر تحقیق کی تو انہیں کیا حیران کن بات پتہ چلی ؟ جانئے اندر کی خبر


لاہور (نیوز ڈیسک) شادی شدہ جوڑوں میں دماغی تنزلی کا باعث بننے والے مرض ڈیمینشیا کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوجاتا ہے۔یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔لوف برگ یونیورسٹی کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ تنہا افراد کے مقابلے میں شادی شدہ جوڑوں میں درمیانی عمر یا بڑھاپے میں اس خطرناک مرض کا خطرہ 60 فیصد تک کم ہوتا ہے۔اور ان کا ذہن زیادہ بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔اس سے قبل یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ غیر شادی شدہ یا مطلقہ افراد میں امراض قلب اور ڈپریشن کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے جو کہ ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھانے والے اہم عناصر بھی سمجھے جاتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ شادی شدہ افراد کا طرز زندگی زیادہ صحت مند، بہتر خوراک، تمباکو نوشی میں کمی اور طبی ماہرین سے جلد رجوع کرنا اس خطرے میں کمی لاتا ہے۔محققین کے بقول میاں ہو یا بیوی وہ کسی ڈاکٹر سے رجوع کرنے سے پہلے بھی ڈیمینشیا کی علامات پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ چھسال تک جاری رہنے والی اس تحقیق میں ساڑھے چھ ہزار سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ شادی شدہ جوڑوں میں ڈپریشن اور امراض قلب کا امکان تنہا افراد کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے۔ور اس وجہ سے انہیں ڈیمینشیا سے بھی تحفظ ملتا ہے۔ محققین کے مطابق انسانوں کو سماجی میل جول کیا ضرورت ہوتی ہے اور میاں بیوی کا رشتہ اس حوالے سے ہماری توقعات سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔دنیا بھر میں کروڑوں افراد ڈیمینشیا کا شکار ہوچکے ہیں اور الزائمر اس کی سب سے عام قسم ہے جس کا ابھی تک کوئی علاج سامنے نہیں آسکا ہے۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف گیرونٹولوجی میں شائع ہوئے۔