کرنل (ر) حبیب ظاہرکا فون بھارت کی سرحد کے قریب بند ہوا، سرتاج عزیز


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مشیرخارجہ سرتاج عزیزکا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ کرنل (ر) حبیب ظاہر کا نیپال پہنچنے تک ان کے خاندان سے رابطہ تھا اور ان کا موبائل فون بھارت کی سرحد کے 6 کلومیٹر دور بند ہوا۔ سینیٹ کے اجلاس میں امیرجماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق نے سوال کیا کہ ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے حکومت نے کیا اقدامات کئے جس پر مشیرخارجہ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی کوشش ہے کہ امریکا کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ ہوجائے لیکن امریکا اس نکتے پرراضی نہیں ہورہا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لئے رحم کی اپیل کے حوالے سے خط بھی لکھا تھا جب کہ عافیہ صدیقی تک پاکستان کو قونصلر رسائی دی جارہی ہے۔اجلاس میں چیئرمین سینیٹ رضاربانی اورسینیٹر طلحٰہ محمود کے درمیان ضمنی سوال کا موقع نہ دینے پر تلخ جملوں کا بھی تبادلہ ہوا۔ سینیٹرطلحہٰ محمود کا کہنا تھا کہ میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی کے حوالے سے سوال کرنا چاہتاتھا لیکن چیئرمین سینیٹ صرف اپنی عزت دیکھتے ہیں اور دوسرے کی عزت کا خیال نہیں کرتے اس لئے میں اجلاس سے واک آو¿ٹ کرتا ہوں۔ جب کہ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ وقفہ سوالات میں ایک سوال کے 3 ضمنی سوالات کئے جاسکتے ہیں جو پہلے ہی پوچھے جاچکے ہیں۔اجلاس میں کرنل (ر) حبیب ظاہر کی گمشدگی کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔ سینیٹرعتیق شیخ کا کہنا تھا کہ کرنل حبیب کے حوالے سے خبریں زیر گردش ہیں کہ انہیں بھارتی خفیہ ایجنسی را نے اغوا کیا ہے اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کے تبادلے میں کرنل حبیب کو استعمال کیا جاسکتا ہے جب کہ بھارتی وزیرخارجہ سشماسواج کلبھوشن کو بھارت کا بیٹا کہہ رہی ہے۔ چئیرمین سینیٹ نے عتیق شیخ کی جانب سے پیش کی گئی تحریک التوا بحث کے لئے منظور کرلی۔مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کرنل (ر) حبیب ظاہر کے اغوا سے متعلق بتایا کہ ان کے خاندان کے مطابق وہ نیپال پہنچنے تک رابطے میں تھے اور جب وہ بھارت کی سرحد کے 6 کلومیٹر قریب پہنچے تو ان کا موبائل فون بند ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ جس ویب سائٹ کے ذریعے کرنل حبیب نے ملازمت حاصل کی تھی اسے بھی بند کردیا گیا ہے جب کہ ملازمت، ٹکٹ دینے اور نیپال میں استقبال کرنے والے تمام افراد بھارتی ہی تھے۔سرتاج عزیز نے کہا کہ دفترخارجہ نے حبیب ظاہر کے اغوا کا معاملہ نیپالی حکومت کے ساتھ اٹھایا ہے جب کہ حبیب ظاہر کے اغوا کا مقدمہ پاکستان اور نیپال میں درج کرادیا گیا ہے۔

بریکنگ نیوز ،مسلم اتحادی افواج کی سربراہی ، حکومت نے جنرل (ر) راحیل شریف کو این او سی جاری کردیا


حکومت نے جنر ل (ر) راحیل شریف کو اتحادی افواج کیلئے این او سی جاری کردیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستانی حکومت نے جنرل (ر) راحیل شریف کو اتحادی افواج کیلئے این او سی جاری کردیا، این او سی جی ایچ کیو سے منظوری کے بعد جاری کیا گیا۔یاد رہے کہ پاک فوج کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کو 39 مسلم ممالک کے فوجی اتحاد کا سربراہ مقرر کر دیا گیا، وزیر دفاع خواجہ آصف نے تصدیق کی تھی۔واضح رہے کہ 30دسمبر 2015میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پاکستان سمیت 30 سے زائد اسلامی ممالک نے سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا جس میں مصر، قطر،متحدہ عرب امارات،ترکی، ملائشیا، پاکستان اور کئی افریقی ممالک شامل ہیں۔ابتدائی طور پر اس اتحاد میں 34 ممالک تھے تاہم کئی دیگر ممالک کی شمولیت کے بعد اس اتحاد میں شامل ممالک کی تعداد 39 ہوگئی ہے۔مشترکہ فوجی اتحاد کا ہیڈکوارٹر ریاض میں ہوگا، فوج کو دہشت گرد گروپوں کے خلاف تیار کیا جارہا ہے جو شدت پسندی میں ملوث گروپوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔

نواز شریف فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں عمران خان کے ساتھ ،پرویز مشرف میدان میں آگئے


سابق صدر اورآل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزارت عظمیٰ کے منصب پر براجمان رہنے کا جواز کھو چکے ہیں، سابق صدر کا کہنا تھا کہ حیران ہوں کہ مٹھائیاں کس بات پرتقسیم کی جا رہی ہیں، موجودہ وزیر اعظم کے ہوتے ہوئے ادارے غیرجانبدارانہ تحقیقات کیسے کر سکتے ہیں؟پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے ججوں نے نواز شریف کو صادق اور امین قرارنہیں دیا، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم جرائم پیشہ ملزمان کے لئے بنائی جاتی ہے، حیران ہوں کہ مٹھائیاں کس بات پر تقسیم کی جا رہی ہیں۔ نواز شریف فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔ پارٹی رہنماؤں سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ عدالت عالیہ کے پانچ میں سے دو اعلیٰ ججوں نے کہا ہے کہ نواز شریف صادق اور امین نہیں ہیں، دیگر تین جج بھی ان کے پیش کردہ ثبوتوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ پرویز مشرف کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات سے صاف ظاہر ہے کہ پانامہ کیس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آل پاکستان مسلم لیگ اپنی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں فیصلہ کرے گی کہ وزیراعظم کے استعفیٰ کے لئے چلائی جانے والی سیاسی جماعتوں کی تحریک کا ساتھ دیں یا نہ دیں۔

بوعلی سینا اور ایک ولی الل


ایک بزرگ ولی اللہ نے شیخ بو علی سینا سے فرمایا کہ تو نے علوم عقلیہ اور فلسفہ میں اپنی ساری عمر برباد کی ۔۔۔۔ آخر کس مرتبہ تک تو پہنچا؟شیخ بو علی سینا نے فرمایا کہ دن میں مجھے ایک ایسی گھڑی اور ساعت کا علم ہے کہ اس گھڑی میں لوہا آٹے کی طرح نرم ہو جاتا ہے ۔۔۔ بزرگ نے فرمایا کہ جب وہ ٹائم اور گھڑی آئے تو مجھے بتانا ۔۔۔ چنانچہ شیخ بو علی

سینا ؒ نے وہ گھڑی بتا دی اور ہاتھ میں لوہا لے کر اس میں انگلی داخل کر دی۔۔۔ تو انگلی اس کے اندر دھنس گئی ۔۔۔ وہ ٹائم اور گھڑی گزر جانے پر اس بزرگ نے شیخ بو علی سینا سے فرمایا کہ اب پھر اسی طرح لوہے کے اندر انگلی داخل کرو ۔۔۔ شیخ بو علی سینا نے کہا وہ گھڑی گزر چکی ہے اب ممکن نہیں تو اس بزرگ نے لوہا ہاتھ میں لے کر کرامت سے اپنی انگلی اس میں داخل کر دیاور فرمایا کہ عقلمند کے لئے مناسب نہیں ہے۔۔۔ کہ وہ اپنی عمر عزیز ایسی بے کار چیزوں میں تباہ کر دے یہ کوئی کمال نہیں ۔۔۔ کمال یہ ہے کہ آخرت کے لئے بندہ محنت کرے اور اپنے اللہ کو راضی کر لے ۔۔۔ شیخ بو علی سینا اس سے بہت متاثر ہوئے ۔۔اور ان کی زندگی میں تبدیلی آگئی ۔۔۔ مرض الموت میں دل سے توبہ کی اپنا مال فقرا پر صدقہ کیا اپنے تمام حقوق ادا کر دئیے ۔ اور کثرت کے ساتھ تلاوت کرنے لگے ۔۔۔ چنانچہ ہر تیسرے دن ایک قرآن کریم ختم کرتے تھے اور جب ان کا انتقال ہوا تو صحیح بخاری شریف ان کے سینے پر پڑی تھی.

کہیں ہم بھی تو ایسا نہیں کر رہے


ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﮦ ﻧﮯ 5 ﺑﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﭘِﻨﺠﺮﮮﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﯿﺎ۔۔ﺍﺱ ﭘِﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﮍﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﺍﻭﭘﺮﮐﭽﮫ ﮐﯿﻠﮯ ﺑﮭﯽ ﺭﮐﮭﮯ۔۔۔ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ۔،۔، ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻨﺪﺭ ﺳﯿﮍﮬﯽ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﻮﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﮞ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻨﺪﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﺮﺳﺎﻧﺎﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ . ﺍﺱ ﻭﺍقعہ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻨﺪﺭ ﮐﯿﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﻻﻟﭻ ﻣﯿﮟﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﻧﮯ

ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﻮ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻨﺪﺭ ﺍﺳﮑﻮﺳﯿﮍﮬﯽ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﻨﮯ ﻧﮧ ﺩﯾﺘﮯ۔۔۔ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﯿﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﻻﻟﭻ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﺪﺭﺳﯿﮍﮬﯽ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﻨﮯ ﮐﯽ ﮨﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ -ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﻨﺪﺭ ﮐﻮﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ – ﭘﮩﻠﯽ ﭼﯿﺰ ﺟﻮ ﻧﺌﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﻨﺪﺭ ﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺳﯿﮍﮬﯽ ﭘﺮﭼﮍﮬﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻓﻮﺭﺍ ﮨﯽ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺑﻨﺪﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﻣﺎﺭﻧﺎﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ- ﮐﺌﯽ ﺩﻓﻌﮧ ﭘﭩﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻧﺌﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﻨﺪﺭ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯﻃﮯ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺳﯿﮍﮬﯽ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮍﮬﮯ ﮔﺎ ﺣﺘﯽٰ ﮐﮧ ﺍﺳﮯﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﯿﻮﮞ؟ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﺪﺭ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﺎ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯽﺣﺸﺮ ﮨﻮﺍ-ﺍﻭﺭ ﻣﺰﮮ ﮐﮧ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻﺑﻨﺪﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﺎ – ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺑﻨﺪﺭ ﮐﻮ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﺎ ﺑﮭﯽﯾﮩﯽ ﺣﺸﺮ ( ﭘﭩﺎﺋﯽ) ﮨﻮﺍ – ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺑﻨﺪﺭ ﻧﺌﮯ ﺑﻨﺪﺭ ﺳﮯ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮨﻮ ﮔﺌﮯﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﯾﮩﯽ ﺳﻠﻮﮎ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﺎ – ﺍﺏ ﭘِﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﻧﺌﮯ ﺑﻨﺪﺭ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ﺟﺲ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺎﺭﺵ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺮﺳﺎﺋﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻭﮦﺳﯿﮍﮬﯽ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﭘﭩﺎﺋﯽ ﮐﺮﺗﮯ-ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﺑﻨﺪﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﮐﯿﻮﮞﺳﯿﮍﮬﯽ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﻨﺪﺭ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﺗﮯ ﮨﻮ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﻭﮦ ﺟﻮﺍﺏﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ؟ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎﮨﮯ۔۔۔۔ ﺍﺣﺒﺎﺏ۔۔ ! ﺳﻮﭼﻨﺎ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ۔ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺭﺳﻢ ﻭ ﺭﻭﺍﺝ ﭘﺮﻭﺍﻥ ﭼﮍﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ،ﺍﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﺁﭖ ﺍﺱ ﭘﻮﺷﯿﺪﮦ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﮯ ﮨﻮﻧﮕﮯ۔،۔،ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺿﺮﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﺋﻴﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﯽﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﯾﺴﮯﮔﺰﺍﺭ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔۔ ﺍﮨﻞ ﻋﻘﻞ ﻭ ﺩﺍﻧﺶ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺪﮬﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ،ﺑﻠﮑﮧ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺳﻮﭺ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﮑﻤﻞ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﮯ ﺭﺍﮦ ﻋﻤﻞ ﻣﺘﻌﯿﻦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

وہ عظیم پاکستانی وزیراعظم جو اس دنیا سے رخصت ہوئے تو سوائے ایک کچے مکان کے پیچھے کچھ نہ چھوڑا


لاہور(نیوزڈیسک) یہ جون ۱۹۹۷کی ایک تپتی سہ پہر تھی ، راولپنڈی اسلام آباد آگ کا الاؤ بنے ہوئے تھے، پسینے سے شرابور ‘ ہاپنتے کانپتے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے گیٹ سے داخل ہوئے تو یونیورسٹی کے پی آر او سید مزمل حسین بے تابانہ آگے بڑھے۔ ان کے خیال میں ہم تاخیر سے پہنچے تھے اس لیے ممکن ہے آج کی ملاقات نہ ہو سکے ۔ ہمارے

خیال میں ہم لیٹ ضرور تھے لیکن جس شخصیت سے ہماری ملاقات طے تھی اس سے مشفقانہ ڈانٹ تو پڑ سکتی تھی ملاقات کا ملتوی ہونا ناممکن ۔ہم ایک دوسرے کو ’’فتح ‘‘کرتے سیدھے ملک معراج خالدکے کمرے میں جا گھسے ۔ ایک لمحے کے لیے ہمارے چہرے پر شرمندگی کے آثار نمایاں ہوئے ہم نے ان کی نشست کے سامنے کھڑے ہوتے ہی عرض کیا،” مری روڈ پر ٹریفک جام تھا ، اس لیے لیٹ ہوگیا جی ، معذرت چاہتا ہوں ” انہوں نے مصافحے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا وہ مسکرائے تو ہم لپک کر ان کے گلے لگ گئے ۔ ” ہم مذہبی لوگ ہیں ، معانقہ کرتے ہیں ” میرے منہ سے بے اختیار نکلا تو ہلکے سے قہقہے کے بعد انہوں نے گھور کر دیکھا ، گرمی سے چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا ، انہوں نے اشارہ کرتے ہوئے کہا ” آپ وہاں اے سی کے پاس تشریف رکھیں آپ لیٹ ہو گئے تو کوئی بات نہیں ۔” یہ اس زمانے کا ذکر ہے جب ملک معراج خالد اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر تھے، چند ماہ قبل وہ نگران وزیر اعظم بھی رہے تھے۔یاد نہیں ان سے پہلی ملاقات کب ہوئی تھی ، زمانہ طالب علمی میں جب پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ساتھ تعلق قائم ہوا تو پیپلز پارٹی کے بڑوں میں سب سے پہلے معراج خالد سے ہی ملاقات ہوئی تھی ۔ ان کی بہت تقریریں سنیں ، پنجابی لہجہ اردو پر غالب تھا ، ہم اکثر اپنے مجمعوں میں ان کی نقالی کرتے تھے۔ پیپلز پارٹی ’’ غریبوں کی جماعت ‘‘ تھی اور اس کے اندر کوئی غریب تھاتومعراج خالد تھا یا راولپنڈی کا قاضی سلطان ۔ باقی کوئی یاد نہیں پڑتا۔ یہ ہمارے زمانے کی بات ہے ۔ اس وقت جب میں ان کے پاس بیٹھا تھا تو ڈیڑھ عشرہ گزر چکا تھا۔ وہ لاہور سے آئے ہوئے ایک وفد میں گھرے بیٹھے تھے۔ ایک صاحب نے پوسٹر نکالا اور ان کے سامنے پھیلا کر بولے آپ نے ہمارے پروگرام میں ضرور شریک ہونا ہے ۔معراج خالد مسکرائے اور دیہاتی بھائی سے پوچھا میرا نام آپ نے بغیر پوچھے کیوں لکھا ہے ۔ وہ صاحب بھی دھن کے پکے تھے کہنے لگے مجھے معلوم ہے آپ مان جائیں گے۔ معراج خالد نے اسے بتایا کہ جس روز آپ کی ’’ قومی کانفرنس ‘‘ ہو رہی ہے اس روز میں مصر جا رہا ہوں ۔ وہ صاحب پھر گویا ہوئے ۔ آپ کانفرنس میں شرکت کے بعد مصر چلے جائیے گا ۔ انہوں نے بڑی نرمی سے دہقان کو سمجھایا کہ میری فلائیٹ صبح فجر کے وقت ہے ۔‘‘ اچھا جی آپ نہیں مانیں گے ، تو میں بھی آپ کی بات نہیں مانوں گا ۔‘‘وہ دیہاتی اڑ گیا۔ ’’ نہیں آپ ایسا نہیں کریں ‘‘ میں تہاڈی منت کرداں آں۔ تسی میرے نال ناراض نہ ہوؤ۔ ‘‘ دیہاتی کمال مہربانی سے اٹھا اور کہتے ہوئے دروازے سے نکل گیا ۔ ’’ ملک صاحب ! میں آپ سے پیار کرتا ہوں آپ کریں یا نہ کریں ۔‘‘ وہ چلا گیا تو ملک صاحب کی آنکھوں میں آنسو تھے خود کلامی کے انداز میں بولے ’’کرتا کیوں نہیں، میں بھی تم سے پیار کرتا ہوں ۔‘‘ ملک معراج خالد سے پیار کرنے والے بہت تھے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ عوام کے درمیان رہتے تھے۔ وہ لاہور کے سرحدی علاقے برکی میں پیداہوئے تھے۔ ایک کاشتکار گھرانے سے تعلق تھا ۔ علاقے میں اکثر لوگ ان پڑھ اور دیہاتی تھے۔ انتہائی غریب باپ کے گھر میں جنم لیا تھا۔ باپ اور ماں دونوں ان پڑھ ‘ لیکن اکلوتے بیٹے کو شوق سے پڑھانا چاہتے تھے ۔ ۱۹۳۰ء میں میٹرک کیا ۔۱۹۴۶ میں بی اے اور پھر پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا ۔ بی اے میں پڑھ رہے تھے اورروز گار کے سارے دروازے بند تھے۔ برکی سے دودھ جمع کرتے اور لاہور شہر میں آ کر بیچتے ۔ باٹا فیکٹری میں پینتالیس روپے ماہانہ پر نوکری کی ۔۱۹۶۲میں پہلا الیکشن لڑا ‘ انتہائی نچلے طبقے سے تعلق نے انہیں ہرا دیا لیکن ہٹ کے وہ بھی پکے تھے ۔ ۱۹۶۰میں پھر الیکشن لڑا تو سارے غریبوں نے مل کر انہیں مغربی پاکستان اسمبلی کا رکن منتخب کیا ۔۱۹۷۰میں قومی اسمبلی تک جا پہنچے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کی ‘ ۱۹۷۰ء میں وفاقی وزیر قانون اور ۱۹۷۶ء میں سماجی بہبود اور دیہی ترقی کے وزیر بنے ۔۱۹۷۷ میں قومی اسمبلی کے پہلی بار اسپیکر اور۱۹۸۸ء میں دوبارہ اسپیکر بنے ‘۵نومبر ۱۹۹۵ء کو پاکستان کے نگران وزیر اعظم بن گئے ۔ شفاف انتخاب کے بعد وہ اس منصب سے الگ ہو گئے اور اسلامی یونیورسٹی والی نوکری پر واپس آ گئے۔ اس سب کچھ کے باوجودساری زندگی کے اثاثوں میں آج جو چیز باقی ہے ‘وہ برکی ( ڈیرہ جاہل ) میں ایک کچا مکان اور چھ ایکڑ زمین ۔ پوری زندگی کڑوے سگریٹ پیتے رہے جن دنوں ریکٹر تھے ‘ریڈ اینڈ وائٹ کی جگہ گولڈ لیف کا ایک پیکٹ جو سعودی عرب سے لایاتھا پیش کیا ۔ پہلے تو ڈبے کو دیکھ کر مسکرائے ، پھر شکریہ ادا کیا اور بولے ’’ صغیر! کیوں عادتیں خراب کرتے ہو۔‘‘ یہ کہہ کر ڈبہ اپنے دراز میں ڈال دیا ۔ کہنے لگے یہ چوہدری خالق داد کو دوں گا آج کل بہت ناراض ہے مجھ سے ‘‘ کیوں ناراض ہے میں نے پوچھا۔ کہنے لگے میں اس کے بیٹے کو نوکر ی نہیں دلا سکا۔ کوئی وزیر کوئی مشیر میری سنتا ہی نہیں ۔‘‘ تذکرہ آج کی ملاقات کا ہو رہا تھا۔ بہت سارے مہمانوں کو ’’ دلاسہ ‘‘ دینے ‘پانی ‘ چائے اور سگریٹ پلانے کے بعد وہ میرے سامنے آن بیٹھے ۔ آج ایک واقعہ سناتا ہوں ‘ وہ بولے ۔ اس واقعے کا بہت دکھ ہے مجھے ‘ بہت زیادہ ‘ یہ میر ے سینے میں کنکر کی طرح ’’ رڑک ‘‘ہے ۔ ’’میرے پاس کچھ بھی نہیں نہ مال نہ دولت ‘ بس یہاں سے نوکری کی تنخواہ ملتی ہے ‘ میں چاہتا ہوں یہ لوگوں کو پتہ چلے ۔ ہمارے آج کے حکمران کیا ہیں ‘ کل کیا تھے۔

قیامت کے روز وہ کون وہ لوگ ہوں گے جو چونٹیوں کی شکل میں اٹھائے جائیں گے ؟


اسلام آباد( نیوز ڈیسک )قیامت کے روز وہ کونسے لوگ ہوں گے جو چونٹیوں کی شکل اٹھائے جائیں گے ،حضرت جابر ؓ نبی اکرمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا :’’ قیامت کے روز کچھ لوگوں کو چیونٹیوں کی شکل میں اٹھائے گا ۔ لوگ انہیں اپنے قدموں سے روندیں گے ۔ پوچھا جائے گا ، یہ چیونٹیوں کی شکل میں کون لوگ ہیں ؟ انہیں بتایا

جائے گاکہ یہ وہ لوگ ہیں جو تکبر کرتے تھے ۔ ‘‘ (ترغیب و ترہیب ، بحوالہ بزار)لوگوں کو چیونٹیوں کی شکل میں اٹھائے گا ۔ لوگ انہیں اپنے قدموں سے روندیں گے ۔ پوچھا جائے گا ، یہ چیونٹیوں کی شکل میں کون لوگ ہیں ؟ انہیں بتایا جائے گاکہ یہ وہ لوگ ہیں جو تکبر کرتے تھے ۔ ‘‘ (ترغیب و ترہیب ، بحوالہ بزار)

امریکا میں ایک حجام تھا


امریکا میں ایک حجام تھا‘انوکھی بات یہ تھی کہ وہ اپنے گاہکوں سے پیسے بالکل نہ لیتا،اور کہتا کہ میں اپنے شوق کی تکمیل کے ساتھ خدمت خلق کر رہا ہوں‘ایک شخص نے بال کٹوائے شیو بنوائی اور جب اجرت پوچھی تو حسب معمول حجام نے کہا کہ بھائی میرے لئے دعا کر دینا۔اس شخص کی پھولوں اور گفٹ کی دکان تھی۔اگلے دن جب صبح حجام دکان پر

پہنچا تو وہاں پر پھول گفٹ اور وش کارڈ آویزاں تھے۔اس نے خوش دلی سے وہ لے لئے۔پھر ایک شخص جس کی کتابوں کی دکان تھی اس نے حجام سے بال کٹوائے اور اگلے دن اپنی خوشی سے چند عمدہ کتابیں پیک کر کے بھجوا دیں۔اسی طرح ایک شخص کی گارمنٹس کی دکان تھی اس نے چند شرٹس اور ٹائی بھجوا دی۔پھر ایک دن ایک ’’پاکستانی‘‘ وہاں چلا گیا۔پاکستانی نے بال کٹوائے شیو بنوائی‘ غسل کیا اور اجرت پوچھی تو حسب معمول حجام نے نہ لی۔اب اگلی صبح جب حجام اپنی دکان پر پہنچا تو اس نے بھلا کیا دیکھا؟ایک ’’سچے پاکستانی ‘‘بن کر سوچئےاور اندازہ لگائیے‘جی ہاں!اگلی صبحوہاں 50 کے قریب پاکستانی اس انتظار میں بیٹھے تھےکہ کب یہ دکان کھلےاوروہ سب مفت میں بال و شیو بنوائیں۔‎———————————————————–مریکا میں ایک حجام تھا‘انوکھی بات یہ تھی کہ وہ اپنے گاہکوں سے پیسے بالکل نہ لیتا،اور کہتا کہ میں اپنے شوق کی تکمیل کے ساتھ خدمت خلق کر رہا ہوں‘ایک شخص نے بال کٹوائے شیو بنوائی اور جب اجرت پوچھی تو حسب معمول حجام نے کہا کہ بھائی میرے لئے دعا کر دینا۔اس شخص کی پھولوں اور گفٹ کی دکان تھی۔اگلے دن جب صبح حجام دکان پر پہنچا تو وہاں پر پھول گفٹ اور وش کارڈ آویزاں تھے۔اس نے خوش دلی سے وہ لے لئے۔پھر ایک شخص جس کی کتابوں کی دکان تھی اس نے حجام سے بال کٹوائے اور اگلے دن اپنی خوشی سے چند عمدہ کتابیں پیک کر کے بھجوا دیں۔اسی طرح ایک شخص کی گارمنٹس کی دکان تھی اس نے چند شرٹس اور ٹائی بھجوا دی۔پھر ایک دن ایک ’’پاکستانی‘‘ وہاں چلا گیا۔پاکستانی نے بال کٹوائے شیو بنوائی‘ غسل کیا اور اجرت پوچھی تو حسب معمول حجام نے نہ لی۔اب اگلی صبح جب حجام اپنی دکان پر پہنچا تو اس نے بھلا کیا دیکھا؟ایک ’’سچے پاکستانی ‘‘بن کر سوچئےاور اندازہ لگائیے‘جی ہاں!اگلی صبحوہاں 50 کے قریب پاکستانی اس انتظار میں بیٹھے تھےکہ کب یہ دکان کھلےاوروہ سب مفت میں بال و شیو بنوائیں۔‎

آپ کو کسی کے گھر یا نئی جگہ پر نیند کیوں نہیں آتی ؟ ماہرین نے ایسی وجہ تلاش کر لی جو آپ کو بھی حیران کر دے گی


نیویارک (نیو ز ڈیسک ) تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اجنبی جگہ پر جا کر نیند نہ آنے کی اصل وجہ دماغ کا خطرے سے آگہی کے لیے خبردار رہنا ہے۔امریکہ کی براو ن یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جب لوگ کسی نئی جگہ جاتے ہیں تو دماغ کا بایاں حصہ کسی خطرے سے آگاہی کیلئے مسلسل خبردار رہتا ہے اور جب لوگ رات میں سوتے ہیں تو دماغ پوری طرح نیند کے اثرات میں نہیں جاپاتا اور ذرا سی آہٹ یا پھر ہلکی سے آواز اسے

نیند سے بیدار کردیتی ہے۔تحقیق کے دوران لیبارٹری میں رضا کاروں پر کئے گئے تجربے میں یہ بات سامنے آئی کہ دماغ کا بایاں حصہ آوازوں کے ردِ عمل میں زیادہ متحرک رہا اور سخت نیند آنے کے باوجود انسان اچھی نیند نہیں سو سکتا۔تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ کیفیت بعض سمندری جانوروں اور بعض پرندوں میں بھی پائی جاتی ہے تاہم یہ صورتحال نئی جگہ پر گزاری ہوئی پہلی رات میں ہی ہوتی ہے، جس کے بعد جیسے جیسے جسم نئی جگہ سے واقفیت حاصل کرنے لگتا ہے، اور یہ کیفیت کم ہوتی چلی جاتی ہے۔

سکول فیس نہیں تو بھیڑ، بکری کچھ بھی دیدیں، زمبابوے میں نیا قانون نا فذ


ہرارے(ویب ڈیسک) غیر ملکی میڈیا کے مطابق افریقی ملک زمبابوے کی حکومت نے ایک ایسا قانون پاس کیا ہے جس کے تحت اگر والدین بچوں کی فیس دینے کے قابل نہ ہوں تو وہ بھیڑ، بکری اور دیگر مویشی بھی سکولوں کو پیش کر سکتے ہیں۔ زمبابوے کے وزیر تعلیم کا کہنا ہے کہ ٹیوشن فیس وصول کرنے میں سکولوں کو والدین کے ساتھ نرمی برتنا چاہیے اور انھیں نہ صرف مویشی قبول کرنے چاہیں بلکہ اس کے بدلے میں ان سے خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق زمبابوے میں پیسوں کا بحران پیدا ہونے کی وجہ سے عام طور پر لوگوں کو کیش کے لیے بینکوں کے باہر گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہنا پڑتا ہے۔ حکومت نے گزشتہ ہفتے پارلیمٹ میں ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت بینکوں کے قرضوں کی واپسی بھیڑ، بکری اور دیگر مویشیوں کے ذریعے کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ اس کے بعد سکول کی فیس ادا کرنے کے لیے بھی اس کی اجازت دی گئی۔ بعض سکولوں کی جانب سے فیس کے بدلے مویشی لینے پر اعتراض کیا جا رہا ہے۔